مختلف ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کی جارہی ہے،اگر بھارت میں لوگ آزادانہ گفتگو  بھی نہیں کرسکتے تو پھر کیسی آزادی:ممتا بنر جی

مختلف ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کی جارہی ہے،اگر بھارت میں لوگ ...
مختلف ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کی جارہی ہے،اگر بھارت میں لوگ آزادانہ گفتگو  بھی نہیں کرسکتے تو پھر کیسی آزادی:ممتا بنر جی

  



کلکتہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اورہندوستان کی  معروف سیاست دان ممتا بنر جی نے کہا ہے کہ اگر بھارت میں لوگ آزادانہ گفتگو  بھی نہیں کرسکتے تو پھر اس ملک کے لوگ آزاد کیسے ہیں؟ہندوستان میںمختلف ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کی جارہی ہے، یہ ایک انتہائی سنگین صورتحال ہے،مودی سرکار اس کا فوری نوٹس لے۔

بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی واٹس ایپ کے ذریعے لوگوں کی ’پرائیویسی پر حملہ‘ کرنے کے سلسلے کی شدید الفاظ میں  مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین معاملہ قرار دیا اور  کہا ہے کہاسرائیل کے نیشنل سرویلانس اولمپیاڈ (این ایس او) کسی کے بھی واٹس ایپ کے ذریعے گفتگو کو ریکارڈ کرسکتا ہے ،بھارت میں نہ لینڈ لائن فون ، نہ ہی موبائل فون اور نہ ہی واٹس ایپ اب محفوظ ہے، مختلف ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کی جارہی ہے،کیا کیا جاسکتا ہے؟ ہم لوگ بغیر کسی دیگر کو سنے بات چیت نہیں کرپائیں گے،یہ ایک انتہائی سنگین صورتحال ہے اور میں وزیر اعظم مودی سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور اس غیر قانونی کارروائی کا نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ این ایس او گروپ لوگوں کی ذاتی معلومات سے حکومت کو آگاہ کررہا ہے،میں جانتی ہوں کہ مودی حکومت اسرائیل کے این ایس او گروپ کو سیاستدانوں ، میڈیا افراد ، ججوں اور دیگر اہم افراد کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے استعمال کررہی ہے،یہ غلط ہے،آپ لوگوں کی رازداری کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے ہیں، یہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی ہے،اسے روکنا ہوگا۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعت کانگریس  نے بھی   مودی  سرکار پر پارٹی کی سیکرٹری جنرل پریانکا گاندھی کا فون ہیک کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہپریانکا گاندھی کو واٹس ایپ ہیکنگ کا میسیج آیا تھا،ہمارا مطالبہ ہےکہ سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے اوراپنی نگرانی میں تحقیقات کرائے۔

مزید : بین الاقوامی