سیاسی و معاشی دہشتگردی مسلح دہشتگردی سے زیادہ خطرناک،عوامی احتجاج نے حکومت کے دل کی دھڑکن مدھم کردی:سراج الحق

سیاسی و معاشی دہشتگردی مسلح دہشتگردی سے زیادہ خطرناک،عوامی احتجاج نے حکومت ...
سیاسی و معاشی دہشتگردی مسلح دہشتگردی سے زیادہ خطرناک،عوامی احتجاج نے حکومت کے دل کی دھڑکن مدھم کردی:سراج الحق

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نےکہاہےکہ ایک ہی سال میں حکومت کی ناکامی ہرشعبہ میں ثابت ہوگئی،تاجروں،اساتذہ اور ڈاکٹروں سمیت عوامی احتجاج نےحکومت کےدل کی دھڑکن مدھم کردی،حکومت کےخلاف لوگوں کےاحتجاج کاکریڈٹ بھی حکومت کوہی جاتاہے، سیاست اور جمہوریت کوچندخاندانوں نےیرغمال بنارکھاہے،یہی خاندان سابقہ حکمران پارٹیوں اورپرویز مشرف کےساتھ تھے،سیاسی و معاشی دہشتگردی مسلح دہشتگردی سے زیادہ خطرناک ہے لیکن اس پر قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔

منصورہ میں ہونے والے مرکزی ذمہ داران اور جے آئی یوتھ لاہور کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک پر عشروں سے مسلط ظلم و جبر کے نظام کو ختم کیے بغیر عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی،حکومت اسی راستے پر گامزن ہے جس پر چلتے ہوئے سابقہ حکمران پارٹیوں نے ملک و قوم کو مسائل کی دلدل میں پھنسایا،آج بھی وہی چہرے کابینہ میں نظر آتے ہیں جو مشرف حکومت اور سابقہ حکمران پارٹیوں کے ساتھ تھے،جب تک یہ لوگ موجود ہیں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا رہے گا،جب تک سرمایہ داراور جاگیردار اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں،غریب کی زندگی میں کوئی انقلاب نہیں آسکتا،ان کی سیاسی موت پاکستان کے استحکام اور ترقی و خوشحالی کے لیے از حد ضروری ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت احتساب میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اگر حکومت احتساب کرتی تو سب سے پہلے احتساب کے شکنجے میں وہ لوگ آتے جو اس کی بغل میں بیٹھے ہیں،یہ احتساب نہیں سیاست کرتے ہیں اورانکی سیاست کا اصل ہدف غریب کی زندگی اجیرن بنانا اورانہیں زندہ درگور کرنا ہے،یہ ایک ہی کلب کے لوگ ہیں ان سےکسی بہتری کی امیدرکھنا خود فریبی کےعلاوہ کچھ نہیں۔سینیٹر سراج الحق نےکہاکہ کشمیر کا مسئلہ دب گیااور غریب کا ختم ہوگیاہے،حکومت کشمیر اور عوام دونوں کوبھول چکی ہے،تین ماہ سے80لاکھ کشمیری دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قیدہیں مگرحکومت نےاب تک کوئی عملی قدم اٹھایا اور  نہ ہی قوم کو اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل دیا ہے۔

مزید : قومی