مولانا ڈی چوک جانے کے لئے اپنے دستے تیار کر کے بیٹھے ہیں،طاقت استعمال کی گئی تو بڑے تصادم کا خطرہ ہے:محمل سرفراز

مولانا ڈی چوک جانے کے لئے اپنے دستے تیار کر کے بیٹھے ہیں،طاقت استعمال کی گئی ...
مولانا ڈی چوک جانے کے لئے اپنے دستے تیار کر کے بیٹھے ہیں،طاقت استعمال کی گئی تو بڑے تصادم کا خطرہ ہے:محمل سرفراز

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف تجزیہ  کار محمل سرفراز نے کہا  ہے کہ مولانا فضل الرحمان ڈی چوک جانے کے لئے اپنے دستے تیار کر کے بیٹھے ہیں،اگر سختی ہوئی تو بڑے تصادم  کا خطرہ ہے، دھرنے میں توسیع ہو بھی جائے تو وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں آئے گا اور کسی دھمکی کی وجہ سے استعفیٰ آنا بھی نہیں چاہئے، آزادی مارچ اور موجودہ سیاسی صورتحال  سے حکومت سخت خوفزدہ ہے،مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ سے جو حاصل کرنا  چاہتے تھے وہ  انہیں پہلے دن ہی مل چکا ، مولانا کی سیاسی اہمیت میں کئی گنا  اضافہ ہو چکا ہے۔

نجی ٹی وی چینل’’جیو نیوز ‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمل سرفراز کا کہناتھا کہ پیپلزپارٹی نے پہلے دن سے کہا تھا کہ ہم دھرنے میں شامل نہیں ہوں  گے اور وہ اس چیز پر قائم ہیں لیکن وہ مولانا کے لئے آگے جا سکتے ہیں،اگر دھرنے میں  توسیع ہو گئی تو استعفیٰ تو نہیں آنا اتنی آسانی سے اور ویسے بھی کسی دھمکی کی وجہ سے استعفیٰ آنا بھی نہیں چاہئے ،اگر استعفیٰ نہیں آیا تو پھر مولانا کے پاس کیا آپشن ہوں گے ؟ڈی  چوک کے نعرے ہم نے آزادی  مارچ کے پہلے دن بھی سنے تھے،مولانا نے بھی ڈی چوک کے نعرے لگوائے تھے،میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا لائحہ عمل تو یہی ہے کہ وہ ڈی چوک  جانے کے لئے تیار ہیں اور وہ اپنے دستے ریڈی کر کے بیٹھے ہیں،مولانا کو آزادی مارچ سےجو  چیزیں چاہئیں تھیں وہ ان کو پہلے دن ہی مل گئی ہیں ،مولانا  کو  میڈیا کوریج بھی مل  گئی ،اسلام آباد میں داخلے کی  اجازت بھی مل گئی ،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت ان کے سٹیج پر کھڑے ہو  کر تقریریں کر رہی ہیں جس کی وجہ سے مولانا کی سیاسی اہمیت میں کئی گنا  اضافہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹریٹ پاور مولانا کے پاس ہے اور اب بھی آزادی مارچ میں  تقریبا ایک لاکھ بندہ بیٹھا ہوا ہےجبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ مزید کاروان  آ رہے ہیں، جب ڈیڑھ  دو لاکھ بندہ ایک کیپٹل سٹی کو مفلوج کر دے تو پھر حکومت کو کسی نہ کسی طرح مذاکرات میں بیٹھ کر کچھ ماننا  پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ خبریں ہیں کہ کابینہ کی حالیہ میٹنگ میں بڑی پریشانی کا مظاہرہ کیا  گیا اور کہا گیا کہ مظاہرین سے مذاکرات کریں تاکہ حکومت کو محفوظ کیا جاسکے،حکومت کو بھی اس وقت بڑا خوف ہے،باہر بیٹھ کر وہ جتنے مرضی بیان دیں کہ ہم این آر او نہیں دیں گے ،بات نہیں کرنا  چاہتے لیکن جب اندرون خانہ جب وہ بیٹھتے ہیں تو آپس میں یہی پریشانی ہوتی ہے کہ اتنے لاکھوں لوگ آ گئے ہیں ،اگر یہ ڈی چوک کی طرف جائیں گے تو کس طریقے سے انہیں کنٹرول کیا جائے،اگر ڈی چوک جانے سے روکنے کے لئے پولیس کو آگے لایا جائے تو بڑے تصادم کا خطرہ ہے جو حکومت نہیں چاہتی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد