ن لیگ اور پیپلزپارٹی’’بغض عمران اور بغض اسٹیبلشمنٹ‘‘سے باہر نکل کر ’’حلال دھرنے ‘‘میں مولانا کی  ’’حلال دھمکیوں ‘‘پر غور کرے:ارشاد بھٹی

ن لیگ اور پیپلزپارٹی’’بغض عمران اور بغض اسٹیبلشمنٹ‘‘سے باہر نکل کر ...
ن لیگ اور پیپلزپارٹی’’بغض عمران اور بغض اسٹیبلشمنٹ‘‘سے باہر نکل کر ’’حلال دھرنے ‘‘میں مولانا کی  ’’حلال دھمکیوں ‘‘پر غور کرے:ارشاد بھٹی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف تجزیہ کارارشادبھٹی نےبلاول بھٹو زرداری کو شدید کا نشانہ  بناتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے سٹیج پر جب مولانا فضل  الرحمان اپنی تقریر میں کشمیر بیچنے،اسرائیل  کو  تسلیم کرنےاور اسلام کو خطرے والی بات کا جھوٹ بول رہے تھے تو بلاول بھٹو پیچھے کھڑے مسکرارہے تھے، یہ منافقت کب تک چلے گی؟ن لیگ اور پیپلز  پارٹی کو ’’بغض عمران اور بغض اسٹیبلشمنٹ‘‘سے بڑھ کر ’’حبِ پاکستان‘‘ہے تو پھر اس ’’حلال دھرنے ‘‘میں مولانا فضل الرحمان کی  ’’حلال دھمکیوں ‘‘پر غور کرنا چاہئے۔

نجی ٹی وی ’’جیو  نیوز‘‘  کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ موجودہ  سیاسی  حالات میں بلاول بھٹو کے بیانات پر کیا  تجزیہ کریں؟جب مولانا فضل الرحمن سٹیج پر کھڑے ہو کر یہ جھوٹ بول رہے تھے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے ،اسرائیل تسلیم کیا جا رہا ہے،عقیدہ تحفظ ختم نبوتﷺ کو کو ئی خطرہ ہے اور اسلام خطرے میں ہے، تو بلاول مولانا کے پیچھے کھڑے ہو کر مسکرا رہے تھے ،یہ وہی بلاول صاحب ہیں جن کی تین نسلیں مذہبی  انتہا پسندی کی نظر ہو چکی ہیں اور ان پر حملے ہوئے ہیں،یہ مولانا وہی ہیں جنہوں نے بے نظیر بھٹو صاحبہ کے لئے کہا تھا کہ عورت کی  حکمرانی برداشت کی ہے قبول نہیں کی،پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اس چیز پر بھی کوئی  ردِعمل نہیں دیا جب مولانا  صاحب نے اپنے ’’حلال دھرنے‘‘ والوں کو کہا کہ ہم وزیر اعظم کو وزیر اعظم ہاؤس سے گرفتار کر سکتے ہیں،اگر اس منطق پر ہم نے ملک کو  چلانا ہے کہ ماضی میں عمران خان یہی سارا کچھ کر چکے ہیں، آج  وہ جائز ہے تو پھر تیار رہیں آگے کوئی اور ’’مولانا‘‘ یا کوئی ’’عمران خان ‘‘کھڑا ہو گا اسی طرح اور اُس وقت وہ یہ نہیں کہے گا کہ گرفتار کر سکتے ہیں بلکہ وہ اُس وقت وزیر اعظم کو گرفتار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے اپنی غیر قانونی اورغیر آئینی چیزوں  کو  گلیمرائز کرنا  ہےاور اپنے ان جھوٹوں کو عوام سے جوڑ کر آگ لگانی اور انتشار پھیلانا ہے تو پھر تو بڑی خوبصورت بات ہے پھر چلتے جایئے،اگر ’’بغض عمران اور بغض اسٹیبلشمنٹ‘‘سے بڑھ کر ’’حب پاکستان‘‘ہے تو پھر اس ’’حلال دھرنے ‘‘میں مولانا فضل الرحمان کی  ’’حلال دھمکیوں ‘‘پر غور کریں ،پاکستان سب سے زیادہ اہم ہے،حال ہی میں جب مراد علی  شاہ کی منی لانڈرنگ کیس پر گرفتاری کی بات ہوئی تو بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ یہ لاکھوں ووٹوں کی توہین ہے،یہ غلط ہے،آج انہیں الیکشن کی وجہ سے عمران خان وزیر اعظم  بنے ہیں تو ان کو  گرفتار کرنے کی  بات پر بلاول صاحب پیچھے کھڑے مسکرا رہے ہیں،یہ  منافقت کب تک  چلے گی؟ہماری یہ  سیاست کب تک چلے گی؟کہیں تو ہمیں کھڑا ہونا پڑے گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد