ہم ’’یو  ٹرن‘‘ کا مطلب ’’تھوک چاٹنا‘‘سمجھتے ہیں،رہبر کمیٹی استعفوں کا فیصلہ کرے تو یوٹرن نہیں لیں گے:حافظ حمد اللہ

ہم ’’یو  ٹرن‘‘ کا مطلب ’’تھوک چاٹنا‘‘سمجھتے ہیں،رہبر کمیٹی استعفوں کا ...
ہم ’’یو  ٹرن‘‘ کا مطلب ’’تھوک چاٹنا‘‘سمجھتے ہیں،رہبر کمیٹی استعفوں کا فیصلہ کرے تو یوٹرن نہیں لیں گے:حافظ حمد اللہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن  فیصلہ کرے کہ اسمبلی سے استعفیٰ دینا ہے تو پھر ہم استعفےٰ بھی دیں گے ’’یوٹرن ‘‘ نہیں لیں گے،جس طرح126دن  کےدھرنے میں استعفیٰ بھی دیئے گئے اور ٹی اے ڈی اے بھی وصول کرتے رہے ، کمیٹیوں  کے چیئرمین سرکار کی گاڑیاں بھی استعمال کرتے رہےاوراسمبلیوں  میں غیر حاضری کے باوجود حاضر ممبران کی سہولیات بھی  حاصل کرتے رہے،126 دن بعد  خود آکر اسمبلی میں بیٹھ گئے باوجود اسکے کہ انہوں نے خود سپیکر کے آفس میں استعفیٰ دیئے تھے،ہم یوٹرن نہیں لیں گے اور نہ ہی ایسا کریں گے۔

نجی ٹی وی ’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ہم ’’یو  ٹرن‘‘ کا مطلب ’’تھوک چاٹنا‘‘سمجھتے ہیں،ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ ’’یوٹرن‘‘ عظیم لیڈر شپ کی علامت نہیں ہوتا،یہ  ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کب یہ پتہ استعمال کرنا ہے؟ اس لئے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی یہ فیصلہ کرے کہ ہم  نے استعفیٰ دینے ہیں،ایک مرتبہ استعفوں کا فیصلہ ہو گیا تو پھر اس سے ہٹ کر کوئی اور فیصلہ نہیں ہو گا اور نہ ہی یو ٹرن ہو گا ۔انہوں نے کہا کہمتحدہ اپوزیشن سے ہونے والا  معاہدہ  حکومت نے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار اور میری نیشنیلٹی ختم کر کےتوڑ دیا ہے،میری شہریت منسوخی کے معاملے پر حکومت مجھ سے کورٹ میں معافی مانگے گی،میں آپ کوخط دکھاتا ہوں کہ حکومت نے کیٹرنگ کمپنیوں اور ساؤنڈ سسٹم والوں کو دھمکی دی کہ انہیں کھانے کی  چیزیں نہیں دینی ،آزادی مارچ  والوں کو ہوٹل میں کمرے بھی نہیں دینے،جن لوگوں نے حامی بھری انہیں گرفتار کر لیا گیا،آزادی مارچ کو میڈیا سے بلیک آؤٹ کیا گیا،حکومت کو کون چلا رہا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی جدوجہد پر فل سٹاپ نہیں لگا ،وقت کے ساتھ ساتھ ہماری تحریک موثر ہوتی جائے گی اور تسلسل  کے ساتھ جاری رہے گی،ہم پر امن جدوجہد کر رہے ہیں  کوئی انتشار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی میری بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت ہے کہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں آئی ہے اور ہم پر جبرا مسلط ہے،آزادی مارچ میں شامل تمام پارٹیوں کے نظریات الگ الگ ہیں لیکن سلیکٹڈ حکومت کے معاملے پر سب  متفق ہیں۔انہوں  نے کہا کہ 4کروڑ71 لاکھ 72 ہزار ووٹ اپوزیشن جماعتوں  نے لئے وہ سارے حکومت کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جبکہ حکومت اگر سارے اتحادیوں کو ساتھ ملا لے تو پھر بھی وہ چار کروڑ روپے بنتے ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد