اکادمی ادبیات کے چیئرمین کی تقریب ِ ملاقات: چند تجویزیں 

اکادمی ادبیات کے چیئرمین کی تقریب ِ ملاقات: چند تجویزیں 
اکادمی ادبیات کے چیئرمین کی تقریب ِ ملاقات: چند تجویزیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور کے ادیب اور شاعر، ہر دو تین سال کے بعد اکادمی ادبیات  پاکستان کے کرائے کے مختصر سے دفتر میں جمع ہوتے ہیں، جہاں ہمارا ایک جانا پہچانا ادبی چہرہ مرکزی نشست پر براجمان ہوتا ہے۔اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان  کے نئے چیئرمین ہیں اور آج آپ سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں۔پھر چیئرمین  صاحب کو مائیک دے دیا جاتا ہے۔ وہ چیئرمینی کے نشے میں سرشار ہو کر بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرتے ہیں، جن میں سے کچھ کا تعلق ادب کے فروغ سے ہوتا ہے اور کچھ کا تعلق ادیبوں کی فلاح و بہبود سے۔ ہر چیئرمین ایک وعدہ ہر بار  کرتا ہے،وہ یہ کہ مَیں ہر صوبائی دارالحکومت میں ادیبوں، شاعروں کے لیے گیسٹ ہاؤس بنواؤں گا، جہاں ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے شاعر اور ادیب برائے نام چارجز ادا کر کے قیام کر سکیں گے۔کچھ سادہ دِل ادیب اُن کی بات پر ایمان لے آتے ہیں، کچھ گھاگ قسم کے لکھاری ان کے بارے میں ”کفریہ“ کلمات ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جب وہ چیئرمین اپنی مدتِ ملازمت پوری کر کے رخصت ہو جاتا ہے تو ہمیں گھاگ قسم کے ان لکھاریوں پر ایمان لانا پڑتا ہے، جو ”کفریہ“ کلمات بھی کہتے ہیں اور اکادمی سے اعزاز و اکرام اور مفت قیام و طعام کی آسائشیں بھی حاصل کرتے ہیں۔اب ذرا غور کیا ہے تو کھلا کہ جس ادارے کا اپنا دفتر کرائے کی عمارت میں ہے وہ بھلا کس طرح فٹ پاتھوں،چوکوں اور چوراہوں پر آوارہ گردی کر کے شب بسری کرنے والوں کو شبستان فراہم کر سکتا ہے۔


چند روز پہلے بھی اکادمی ادبیات کے لاہور آفس سے اکادمی کے ایک ریٹائرڈ افسر نے فون پر بتایا کہ اسلام آباد سے اکادمی کے چیئرمین صاحب لاہور تشریف لا رہے ہیں۔ادیبوں، شاعروں سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے،آپ بھی مقررہ وقت پر تشریف لے آئیے گا۔سو مَیں اکادمی کے نئے دفتر میں پہنچ گیا جو اُردو سائنس بورڈ کی عمارت میں بنایا گیا ہے۔یہ نئے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک صاحب تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق سندھ سے ہے۔ آپ خیرپور یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر رہے ہیں۔ان کا ادبی اور تخلیقی قد کاٹھ کیا ہے، انہوں نے کتنے ناول لکھے! کتنے افسانے تخلیق کیے؟ کتنی غزلیں کہیں یا کتنی نظمیں؟کچھ نہیں پتا، لیکن اتنا ضرور علم ہے کہ آپ خیرپور یونیورسٹی میں کئی کانفرنسیں کرا چکے ہیں۔ ملک بھر کی متعدد کانفرنسوں میں بطور مندوب اور مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔میری طرح نیشنل بک فاؤنڈیشن کے بک ایمبیسڈر ہیں اور اس کے ہر کتاب میلے میں نہایت مستعدی سے سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔ محبت کا مادہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں سے ڈاکٹر صاحب کے ذاتی مراسم ہیں۔تعلق بنانا بھی جانتے ہیں اور نبھانا بھی۔
جب ڈاکٹر یوسف خشک صاحب نے بھی اپنی پہلی تقریب ِ ملاقات میں دوسرے چیئرمینوں کی طرح یہی کہا کہ وہ لاہور کے دفتر کی اپنی بلڈنگ بنانے کا عزم رکھتے ہیں تو مجھے لگا کہ مَیں بھی اچانک گھاگ ادیبوں میں شامل ہو گیا ہوں۔ان کے دعوے پر ایمان لانے کو ہر گز جی نہیں چاہ رہا تھا، پھرانہوں نے پاکستان میں بولی جانے والی 72 زبانوں کا ذکر کیا، جو ان کے مطابق ڈینجر زون میں ہیں،یعنی ان کے معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مرتی ہوئی زبانوں کو بچانے کے لئے وہ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،پھر انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ اکادمی ادبیات کی ساری کتابیں اب ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل کر دی جائیں گی۔


ڈاکٹر صاحب میرے لیے لائق احترام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں عزت سے نوازا ہے۔ایک بڑا منصب عطا کیا ہے،جہاں بیٹھ کر وہ ادب کے فروغ اور ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکتے ہیں۔لاہور آفس کی عمارت کے لیے میرے ذہن میں ایک تجویز ہے جو قابل ِ عمل ہو سکتی ہے۔ لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں ملک کے منفرد و ممتاز شاعر منیر نیازی مرحوم کا مکان ہے،جس میں ان کی بیگم صاحبہ تن تنہا رہتی ہیں۔مَیں گاہے گاہے ان سے ملنے کے لئے جاتا رہتا ہوں۔بیگم ناہید منیر نیازی کی خواہش ہے کہ ہمارا کوئی سرکاری ادارہ ان سے یہ مکان خرید لے اور یہاں اپنا دفتر قائم کر  لے۔شرط صرف ایک ہے کہ منیر نیازی کی یادوں سے معطر ان کا کمرہ جُوں کا توں رکھا جائے۔ اگر ڈاکٹر یوسف خشک صاحب ایک بار بیگم ناہید منیر نیازی سے مل لیں۔(مَیں بھی ان کے ساتھ جانے کو تیار ہوں) تو ممکن ہے اکادمی ادبیات کا یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے۔اسی طرح جیل روڈ پر مرحوم فکشن رائٹر انتظار حسین کا مکان ہے، اگر یہ مکان خریدنے کی کوشش کی جائے تو ممکن ہے کہ لاہور کے ادیبوں کو عین شہر کے وسط میں کوئی ادبی ٹھکانا میسر آ جائے۔


جہاں تک ڈینجر زون میں آئی ہوئی زبانوں کا معاملہ ہے،تو عرض ہے کہ مجھے تو فی الوقت تمام علمی اور ادبی ادارے ہی ڈینجر زون میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔نیشنل بک فاؤنڈیشن پہلے ہی غیر فعال ہو چکا ہے۔اِس بار نہایت بے دلی سے ریڈرز کلب کی ممبر شپ کھولی گئی ہے۔اکادمی ادبیات کتابوں کو ڈیجیٹل کرنے کی آرزو مند ہے۔ مجھے یاد ہے کہ این بی ایف کے آخری کتاب میلے میں صدرِ مملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا نام اب نیشنل نالج کونسل ہونا چاہئے۔ گویا وہ کتابوں کو بیچ میں سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر یوسف خشک صاحب سے مَیں صرف اتنا عرض کروں گا  کہ کتابوں کی طباعت و اشاعت سے وہ ہاتھ نہ کھینچیں،اگر آپ نے کتابیں چھاپنا بند کر دیا تو آپ کے اداروں کے وجود کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ایک اہم بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹیوں سے وابستہ وہ ڈاکٹر صاحبان جن کا کوئی تخلیقی کام نہیں، انہیں شاعروں، ادیبوں پر ہرگز فوقیت نہ دیں۔البتہ جو ڈاکٹر صاحبان پی ایچ ڈی کرنے سے پہلے تخلیق کار ہیں، انہیں ان کا جائز مقام ضرور دیں۔اکادمی ادبیات ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں کا ادارہ ہے۔یونیورسٹیوں میں صرف اور صرف درس و تدریس سے وابستہ لوگوں کے لئے ایچ ای سی نے بہت سی مصروفیات پیدا کر رکھی ہیں،انھیں اُدھر جانے دیں۔

مزید :

رائے -کالم -