چیئرمین نیب کا منصب……حکومت کے رحم و کرم پر

چیئرمین نیب کا منصب……حکومت کے رحم و کرم پر

  

وزیراعظم عمران خان کے زیر قیادت کام کرنے والی وفاقی حکومت نے نیب آرڈیننس میں تیسری بار ترمیم کرتے ہوئے  ایک اور آرڈیننس جاری کیا ہے۔کچھ عرصہ پہلے نیب قانون میں ترامیم کی گئی تھیں،لیکن وہ آرڈیننس پارلیمینٹ سے منظور کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی،سو وہ اپنی موت مر گیا۔6اکتوبر کو ایک اور ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا،جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے سرمایہ کاروں اور سرکاری افسروں کو تحفظ ملے گا، اور ادارہ جاتی فیصلوں کو نیب کی زد میں آنے سے بھی بچایا جا سکے گا۔اس ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیب کو اس کے اصل کام…… پبلک آفس ہولڈرز کی بدعنوانی کا سراغ لگانا…… تک محدود کر دیا گیا ہے۔تازہ جاری ہونے والے ترمیمی آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اختیار وزیراعظم نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔اس سے پہلے سپریم جوڈیشل کونسل ہی کو یہ حق حاصل تھا۔ تازہ ترمیم میں کہا تو یہ گیا ہے کہ صدرِ پاکستان چیئرمین کو ان کے عہدے سے ہٹا سکیں گے،لیکن آئین اور قانون کی معمولی شد بد رکھنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ صدرِ پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔اگر ان کو اس مشورے کی قید سے آزاد کرنا ہے،یعنی کسی اختیار کو ان کا صوابدیدی بنانا ہے تواس کے لئے دستور میں ترمیم کر کے یہ واضح طور پرلکھنا پڑے گا کہ چیئرمین نیب کو ان کے منصب سے علیحدہ کرنے کا اختیار صوابدیدی ہو گا۔اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے، نہ اس کا اعلان۔موجودہ حکومت کو پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت کی حمایت  بھی حاصل نہیں ہے۔آئین میں وہ کوئی بھی ترمیم اسی وقت کر سکتی ہے جب اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر  اس کی حمایت حاصل کر لے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ترمیم منظور نہیں ہو سکے گی۔اس تکنیکی بحث سے قطع نظر، حکومت کا کوئی ارادہ اس طرح کی ترمیم لانے کا نہیں ہے۔اس نے یہ اختیار اپنے سربراہ کو سونپ دیا ہے، یوں نیب کی جو بھی خود مختاری قانون کے اندر درج ہے، بڑی حد تک اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نیب اسی طرح حکومت کا ماتحت ادارہ بن جائے گاجس طرح کہ پولیس یا ایف آئی اے ہے۔ یہ درست ہے کہ نیب کے چیئرمین کا تقرر وزیراعظم کے ہاتھ میں نہیں ہے،یہ قائد حزبِ اختلاف کی رضا مندی سے مشروط ہے،اور موجودہ حکومت6 اکتوبر کو نافذ ہونے والے ترمیمی آرڈیننس میں بھی اسے یکسر ختم نہیں کر سکی،لیکن جب تک یہ رضا مندی حاصل نہ ہو جائے، اس وقت تک موجود چیئرمین کام کرتے رہیں گے،کے الفاظ کے اندراج نے چیئرمین کے منصب کو معیاد کی پابندی سے آزاد کر ڈالا ہے۔ موجودہ چیئرمین اپنی چار سالہ میعاد کب کی پوری کر چکے  لیکن ابھی تک اپنے منصب پر فائز ہیں کہ ان کے جانشین کا تقرر نہیں ہو سکا۔اپوزیشن رہنما تو نیب نیازی گٹھ جوڑ، کا الزام ایک عرصے سے لگا رہے ہیں،اور اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو اس کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں،لیکن نیب کے چیئرمین کی تقرری اور معزولی کا اختیار حکومت کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے قانونی طور پر اس کے آزادانہ تشخص سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب جو صورتِ حال پیدا ہوئی ہے،اس نے پاکستانی سیاست کی منفی روایات کو ازسر نو زندہ کرنے کے تاثر کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون جناب فروغ نسیم نے اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بھونڈی دلیل دی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل تو ججوں کے احتساب کے لیے بنائی گئی تھی، ججوں پر کام کا دباؤ زیادہ ہے،اس لیے ان کا بوجھ کم کیا گیا ہے،حالانکہ یہ بات ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ سپریم  جوڈیشل کونسل کو جب کسی منصب دار کی معزولی کا اختیار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب تحفظ کا احساس دلانا ہوتا ہے کہ انتظامیہ کی دسترس سے باہر ہو جانے والے افراد ہی اطمینان اور یکسوئی سے آزادانہ کام کر سکتے ہیں۔سپریم جوڈیشل کونسل نے گذشتہ کئی عشروں میں چند ہی افراد کے خلاف کارروائی کی ہو گی،لیکن اس ادارے کی بدولت اعلیٰ عدلیہ کے ارکان اور کئی دوسرے ریاستی عہدیدار اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے،اور آزادانہ فیصلے کرنے کی ہمّت رکھتے ہیں۔ چیئرمین نیب کی معزولی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے کر جناب وزیراعظم نے اپنے آپ کو شدید مشکل میں ڈالا ہے کہ اس سے غیر جانبدارانہ احتساب کے تقاضوں کو ٹھیس پہنچے گی،اور یوں ان کا اپنا ایجنڈا معنویت کھو دے گا۔

اس کے علاوہ جو ترامیم(یا ترامیم میں ترامیم) کی گئی ہیں،ان میں زرضمانت کی مقدار کا تعین احتساب عدالت پر چھوڑ دینے کی بات  لائق تائید ہے۔اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ کسی ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اتنی ہی مالیت کے مچلکے داخل کرانا پڑیں گے، جتنی رقم کی (مبینہ) خورد برد کا اس پر الزام ہو گا۔تمام قانونی ماہرین نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا تھا،اسے تبدیل کر کے درست اقدام کیا گیا ہے،جہاں تک دوسری ترامیم کا تعلق ہے،ان کے مطابق گزشتہ مقدمات میں ریلیف دینے کے حوالے سے اقدام نہیں کیا جا سکے گا۔6اکتوبر کے بعد پیش ہونے والے معاملات پر ہی نئے قواعد نافذ ہوں گے۔اپوزیشن نے اسے حکومت کا اپنے متعلقین کو پیشگی ”این آر او“ قرار دیا ہے۔یہ الجھنیں اور پیچیدگیاں اعلیٰ عدالتوں میں زیر بحث آئیں گی، تو وہاں ان کا دفاع(شاید) مشکل ہو گا۔حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم اپنی ہی تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے پر تیار نہیں ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -