عوام کو ریلیف مگر کب؟

عوام کو ریلیف مگر کب؟

  

وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پھر بتایا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے،اور ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف دی جائے گی، وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر میں اشیائے ضرورت مہنگی ہوئی ہیں،اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے،ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ قیمتیں کم رکھی جائیں،وزیراعظم کا یہ جذبہ لائق تحسین،لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔ محکمہ شماریات نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ رواں سال کے دس مہینوں میں مہنگائی 9.19 فیصد شرح سے بڑھی ہے اور بعض اشیاء کی قیمتیں دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ گذشتہ روز ہی ایل پی جی کے نرخ مزید بڑھا دیئے گئے ہیں،جہاں تک ایک کروڑ عوام کو ریلیف دینے کا تعلق ہے تو ٹارگیٹڈ سبسڈی کی بات کئی روز سے سنی جا رہی ہے،ابھی تک عمل ممکن نہیں ہو سکا۔ جب تک ٹھوس اقدامات نہ ہوں گے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔ وزیراعظم کو خود سپلائی،ڈیمانڈ کا جائزہ لے کر فیصلے کرنا ہوں گے،عوام مشکل میں ہوں گے تو حکومت کوبھی چین نصیب نہیں ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -