بجلی فی یونٹ 1.68روپے اضافے کی حکومتی درخواست پر نیپر اکی سماعت مکمل 

بجلی فی یونٹ 1.68روپے اضافے کی حکومتی درخواست پر نیپر اکی سماعت مکمل 

  

 

 اسلام آباد(آئی این پی) نیپرا میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1.68روپے فی یونٹ اضافے پر سماعت مکمل ہوگئی ہے تاہم اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیاجائے گا۔منگل کو  چیئرمین نیپرا کی زیر صدارت حکومت کی جانب سے بجلی کی بنیادی قیمت میں 1.68روپے تک اضافے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ اس وقت بجلی کا اوسط ٹیرف 13روپے 97پیسے فی یونٹ ہے، اس اضافے کے بعد بجلی کا اوسط ٹیرف 15 روپے 36 پیسے ہوجائے گا، حکومت ٹیوب ویل والوں کو 57ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے، 45 فیصد چھوٹے صارفین کو 6 روپے 53 پیسے فی یونٹ سبسڈی دے جارہی ہے، حکومت اب بھی صارفین کو 168 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے دوران سماعت کہا کہ بجلی کی پیداواری لاگت صارفین سے وصول کرنی ہے، دوسرے مرحلے میں سبسڈی میں مزید کمی کرکے اسے ٹارگٹڈ کرنا ہے، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے سے حکومت کو 185 ارب روپ کی سبسڈی دینی پڑرہی ہے، ہمیں پہلے دو سو یونٹ والے صارفین کو تحفظ دینا ہے،اس وجہ سے گھریلو صارفین کے لیے ایک روپے اڑسٹھ پیسے اضافے کی درخواست کی گئی ہے، انڈسٹری پراتنا زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے تاکہ وہ غیر مسابقتی نہ ہوجائیں، ٹیرف میں اوسط اضافہ ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ بنتاہے اس وجہ سے انڈسٹری کے لیے ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافہ مانگا ہے۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت غریب صارفین کو سبسڈی دیں گے، آپ کو 300 یونٹ والے صارفین کا تحفظ کرنا چاہیے تھا، ہمیں صارفین کا تحفظ کرنا ہے اور بحیثیت چیئرمین میرے تحفظات ہیں، غریب لوگوں پر اس کا زیادہ بوجھ پڑے گا، صارفین پر بوجھ ڈالا جارہا ہے اس لئے وہ تو بولیں گے، اس لئے بہتر ہے حکومت نظر ثانی کرلے۔ نیپرا میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت مکمل کرلی، نیپرا اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گا۔

بجلی مزید مہنگی

مزید :

صفحہ آخر -