بعض قوتیں فرقہ واریت کی کوشش کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں، طاہر محمود اشرفی 

بعض قوتیں فرقہ واریت کی کوشش کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں، طاہر ...

  

 

 اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی ومشرق وسطیٰ اور چئیرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ مفاہمت خطے میں امن کیلئے ضروری ہے،بعض قوتیں فرقہ واریت کی کوشش کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔یہ بات انہوں نے منگل کو پشاورکے مقامی ہوٹل میں جمعیت علماء اسلام س کے سابق امیر اور دفاع پاکستان کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی یاد میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب میں کہی۔کانفرنس میں ملک بھر سے علماء کرام نے شرکت کی۔ مفتی تقی عثمانی،سراج الحق، مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا محمد خان شیرانی اور جے یو آئی س کے مرکزی امیر مولانا حامد الحق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعظم کے معاون حصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ میں زندگی کے 35 سال مولانا سمیع الحق کے ساتھ رہا، مجھے اس پر فخر ہے۔مولانا طاہر اشرفی نے ملکی حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں پاکستان میں انتشار پھیلا کر الزام افغانستان پر لگانا چاہتی ہیں۔بعض قوتیں فرقہ واریت کی کوشش کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سازش کی اورجن لوگوں نے بندے بھیجے تھے ان پر اپنی اپنی سرزمین تنگ ہو گئی ہے۔استحکام پاکستان کیلئے ہمیں ایک ہونا ہوگا۔پاکستان کی مضبوطی کیلئے مضبوط افغانستان ضروری ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہر مسلمان عقیدہ ختم نبوت ؐ و ناموس رسالتؐ کا چوکیدار ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور موجودہ حکومت نے پوری دنیا میں ناموس رسالت ؐکا مقدمہ پیش کیا ہے، توہین آمیز خاکوں اور مواد کا حل عالمی سطح پر قانون سازی ہے۔اسلامک فوبیا اور ناموس رسالت پر اقوام متحدہ سے قانون سازی چاہتے ہیں۔

طاہر اشرفی 

مزید :

صفحہ آخر -