ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے جاری، استعمال شدہ فنڈز میں اربوں روپے کا فرق 

ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے جاری، استعمال شدہ فنڈز میں اربوں روپے کا فرق 

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران میں خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے جاری اور استعمال شدہ فنڈز سے متعلق اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا او ر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کے اعداد وشمار میں اربوں روپے کا فرق سامنے آگیا جس پر کمیٹی نے شدید تشویش کااظہار کیا اور خیبر پختونخوا میں اجلاس منعقد کر نے کیلئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمان نے کہا سابقہ فاٹا خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیح ہے نہ وفاقی حکومت کی،پرانا سسٹم ہزار گنا بہتر تھا،  سابقہ فاٹا کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے جاری شدہ آدھے سے زیادہ پیسے مارک اپ کیلئے بینکوں میں پڑے ہیں۔منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمان کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 2018تا 2021ء تک ترقیاتی کاموں کیلئے جاری فنڈز اور ان کے استعمال سے متعلق معاملہ زیر غور آیا۔ جاری اور استعمال شدہ فنڈز کے اعداد وشمار میں اربوں روپے کا فرق سامنے آنے پر کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا اورکہا لوگوں کو خیبرپختونخوا میں بھر تی کر کے وہاں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے، رکن کمیٹی سینیٹر دوست محمد خان نے کہا ہم تباہ و برباد ہو چکے ہیں، جو کرپشن ہمارے ٹرائبل ایریا میں ہو رہی ہے پتہ نہیں ان کا آڈٹ کرتے ہیں یا نہیں، سینیٹر شمیم آفریدی نے کمیٹی کی ایک میٹنگ خیبرپختونخوا میں منعقد اور اس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو بلانے کی تجویز پیش کی جس پر چیئرمین کمیٹی نے خیبرپختونخوا میں میٹنگ منعقد کرنے کیلئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا پہلے کہا جاتا تھا فاٹا میں چوری ہو رہی ہے اب تو نہیں ہونی چاہیے تھی،لیکن اب اربوں غائب ہورہے ہیں، سا بقہ فاٹا میں آج تک کوئی مستقل کنسٹرکشن نہیں دیکھی۔ چیئرمین کمیٹی نے خیبر پختونخوا حکومت حکام سے استفسار کیا کہ انصاف روز گار پروگرام کیلئے آپ کو 1100ملین روپے ملے تھے آپ نے ان کا کیا کیا؟خیبر پختونخوا حکومت حکام نے کمیٹی کو بتایا 50ہزار سے ایک لاکھ تک کا قرضہ دیتے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا میں نے آج تک مہمند میں کوئی کام نہیں دیکھا، آپ کا کام دکھائی نہیں دے رہا۔فاٹا کیلئے وفاقی حکومت کے جاری کردہ پیسے روزگار کیلئے تھے مگر آدھے سے زیادہ پیسے مارک اپ کیلئے بینکوں میں پڑے ہیں۔

سینیٹ سیفران کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -