پہیہ جام

پہیہ جام
پہیہ جام

  

یہ کوئی چالیس سے پچاس ہزار سال پیچھے کا ذکر ہے کہ جب پتھر کا دور تھا اور انسان درختوں کے تنوں سے بھاری پتھر دھکیلنے کا کام لیتا اسے ہم  پہیے کی ایجاد کی ابتدا بھی کہہ سکتے ہیں یا یوں کہئے کہ اس کے بعد4200 سے، 3500 قبل از مسیح کے درمیان ہی باقاعدہ پہیہ ایجاد ہوا،مگر اس ایجاد کئے جانے والے پہئیے سے سواری کام تو نہ لیاجاتا البتہ اسے مٹی کے برتن بنانے والے چاک کے لئے استعمال کیا گیا دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقے (میسوپوٹیمیا یا بین النہرین) سے ایک ایسا پہیہ دریافت ہوا جو کوئی 3100 قبل از مسیح سے  تعلق رکھتا ہے اور مٹی کے برتن ڈھالنے والے چاک کے طور پر استعمال ہوتا تھا،جس سے سواری کے لئے استعمال ہونے والے پہئیے کی تصدیق نہ ہوئی کوئی پانچ سے چھ ہزار سال قبل پہئیے کا گندم پیسنے والی چکی میں استعمال ہوا، جس کے لئے پتھر کی دو گول سلوں کو آپس میں ملایا جاتا اور گندم پیسنے کا یہ طریقہ اب تک استعمال ہوتا رہا ہے جسے ہم ’چکی‘ کہتے ہیں آج بھی آپ کسی دیہات میں جائیں تو کسی نہ کسی گھر میں یہ چکی ضرور مل جائے گی، چونکہ تنوں سے پتھر سرکانے والے اور گندم پیسنے والے بھی پہئیے ہی تھے اِس لئے انہیں ’پہئیہ‘ کہا گیا لیکن سواری میں استعمال ہونے والا پہیہ یونانیوں کا کارنامہ ہے، جنہوں نے ایک پہئے پر چلنے والا ٹھیلا تیار کیا۔ جوباربرداری کا کام دیتا تھا 2500 سے 2000 قبل از مسیح کے درمیان، دو پہیوں اور لکڑی کے ایک لٹھ کی مدد سے ایکسل تیار کیا گیا۔ ایکسل کی ایجاد کا سہرا سموریوں کے سر ہے جو قدیم عراق و شام (میسوپوٹیمیا) کی ایک زبردست جنگجو اور تمدنی لحاظ سے نہایت ترقی یافتہ قوم تھی ایکسل کی ایجاد وہ انقلابی ایجاد ہے، جس نے انسانی تہذیب و تمدن کو بدل کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو چھ بنیادی simple machines میں شمار کیا جاتا ہے، اور اپنی ایجاد سے آج تک بننے والی تمام مشینی سواریوں میں استعمال ہو رہا ہے پھر پہیہ ایندھن میں استعمال ہونے والی مشینوں میں استعمال ہونے لگا پھر کیا زمین پر چلنے والی گاڑی پانی ہو کہ خلا ہر جگہ پہیہ استعمال ہونے لگا دنیا میں صنعتی انقلاب آیا تو اس میں بھی پہئے نے کلیدی کر دار ادا کیا پہیہ نہ صرف کاروں، بسوں  یا دیگر گاڑیوں میں استعمال ہوا، بلکہ کئی مشینوں کے پرزے پہیوں کے رہین منت ٹھہرے آج آسمان کی بے کراں وسعتوں سے لے کر زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں پہیہ استعمال ہوریا ہے اور ہزاروں سال سے چلتا ہوا پہیہ چلتے چلتے یہاں تک آپہنچا ہے، لیکن ہزاروں سال کا سفر طے کرنے والا پہیہ اب چلتا نظر نہیں آتا اس انسانی ایجاد کے آگے ہمارے حکمرانوں نے مسائل کے ایسے پیار کھڑے کردئیے ہیں کہ جنہیں سر کرنا اس پہیے کے بس میں نہیں، حالانکہ اس پہیہ نے پانی خشکی ہر جگہ اپنے کمالات دکھائے ہیں اس کے سبب انسان نے جنگیں جیتیں علاقے فتح کئے گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کیا لیکن اب پہیہ کا چلنا محال ہوچکا ہے انسانی ذہن کی اس حیرت انگیز ایجاد کے سامنے حکمرانوں نے حالات کی ایسی دشواریاں پیدا کر دی ہیں کہ پہیہ جو بڑی بڑی گہری کھائیوں سے انسانوں کو نکالنے میں کامیاب ہوا اب مہنگائی کا کوہ گراں عبور کرنا اس کے بس میں نہیں روزبروز بڑھتی مہنگائی نے عوام کے شب و روز بوجھل کر دئیے ہیں اور اس پر ہمارے حکمران اپنے ملک میں پھیلتی مہنگائی کی آگ کو ابھی کم قرار دے رہے ہیں ان کا فرمانا ہے کہ خطے میں دوسرے ممالک کی نسبت ہمارے ہاں ابھی مہنگائی کم ہے اور گاڑیوں میں لگے پہئیے تو پٹرول سے چلتے ہیں اور پٹرول کی گرانی کا بوجھ عوام کے کمزور کندھوں سے اٹھانا مشکل ہو چکا ہے،لہٰذا اب یہ پہیہ جام ہواجاتا ہے میاں بیوی کو بھی گاڑی کے دو پہئے کہا گیا ہے کہ انکے باہمی تعاون سے ہی کسی گھر کا نظم ونسق چلتا ہے ایسے ہی شہر اور ملک ہیں کہ جہاں کا نظام باقاعدہ کسی قانون کے تابع ہوتا ہے، لیکن ہمارا باوا آدم ہی کچھ اور ہے ہم کوئی بے ڈھنگی چال چل رہے ہیں ہر کوئی کسی ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے ہم نے جانا کہاں ہے  اور جا کہاں رہے ہیں ہمیں کچھ بھی تو معلوم نہیں اور ہمارے رہنما کہ جنہوں نے ہمارے راستوں کا تعین کرنا تھا ہماری راہوں کو ہموار کر نا تھا وہ خود  بھٹکے ہوئے ان کی ڈگر صرف ایک ہے کہ انہیں اپنے عرصہ قتدار کو پورا کرنا ہے وہ اپنے سامان تعیش میں مگن ہیں انہیں فکرہے تو اس بات کی کہ وہ اپنے اقتدار کو دوام کیسے بخشیں انہیں صرف دوسروں پر الزام دھرنے کا پتہ ہے، حالانکہ حاکم وقت کا کام اپنی رعایا کو روزگار۔ انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے تعلیم۔ صحت اور دیگر سہولتیں دینا ہوتی ہیں ملک میں امن و امان کے لئے اقدامات اٹھانا ہوتے ہیں صرف کھوکھلے نعرے لگانے والا حکمران نہیں ہوتا جھوٹ کی بنیادوں پر سچائیوں کا محل تعمیر نہیں کیا جا سکتا پچھلے حکمران تو گئے بھاڑ میں موجودہ حکمران تو عوام کوئی ریلیف دیتے یہ اپنی حکومت کے چوتھے سال بھی بھی سابقہ حکمرانوں کا رونا روتے دکھائی دے رہے ہیں اپنی بے بسی کا اعتراف کرنا انہیں نہیں آرہا آج حکومت میں شامل وزیر مشیر کہ جو  کل تک دوسری جماعتوں کے ساتھ تھے انہیں اگر یہ معلوم ہوجائے کہ کل کو ملک میں فلاں جماعت کی حکومت آرہی ہے تو یہ کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر اس جماعت میں شامل ہوجائیں گے اور رہے عوام تو ان کے دماغ کا پہیہ گھوما تو حکمرانوں کو بھاگنے کی راہ نہ ملے گی اِس لئے پہیہ چلتا رہے تو اچھا ہے کہ حکمرانو ں کو بھاگنے کے لئے بھی اسی پہئے کی ضرورت پڑے گی۔

مزید :

رائے -کالم -