حلقہ این اے133 ضمنی انتخاب، تحریک انصاف کے امیدوار اور اہلیہ کے کاغذات نامزدگی مسترد!

حلقہ این اے133 ضمنی انتخاب، تحریک انصاف کے امیدوار اور اہلیہ کے کاغذات ...

  

الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کر دی کہ حلقہ این اے133(لاہور) کا ضمنی انتخاب ملتوی کر دیا جائے۔یہ درخواست حالیہ بحران کی روشنی میں تھی،الیکشن کمیشن نے اتفاق نہ کیا اور اب تو صورت حال بھی تبدیل ہو گئی ہے۔اس ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ5دسمبر کو ہونا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر نے امیدواروں کی فہرست بھی جاری گردی اور الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی سماعت کے لئے  ایک رکنی ٹریبونل بھی نامزد کر دیا ہے۔ یہ ٹربیونل ابتدائی طور پر ہی تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کی طرف سے دائر ہونے والی اپیل کی سماعت کرے گا۔ ریٹرننگ افسر نے جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت جاوید چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے کہ ہر دو کے تجویز کنندہ بلال حسین اور غلام مرتضیٰ کا تعلق حلقہ 133سے نہیں،ان کے ووٹ حلقہ130 میں درج پائے گئے ہیں۔اس استرداد کے بعد دونوں تائید کنندگان سامنے آ گئے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حلقہ 133 کے رہائشی ہیں۔ان کی پوری فیملی کے ووٹ اسی حلقہ میں ہیں۔تحریک انصاف والوں کی طرف سے یہ الزام عائد کر دیا گیا کہ امیدوار جمشید اقبال چیمہ کے خلاف سازش کی گئی ہے، جواب میں الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اس دعویٰ کو غلط قرار دیا اور بتایا کہ ہر دو افراد کے ووٹ 2018ء کے انتخابی عمل کے وقت بھی حلقہ 130 میں تھے،اور اس کے بعد تصحیح یا ووٹ تبدیل کرانے کی مدت گذر جانے کے باوجود مذکورہ ووٹ تبدیل نہ کرائے گئے اور یہ بدستور حلقہ این اے130 میں ہی درج ہیں۔

ریٹرننگ افسر نے جو ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق ہر دو میاں بیوی(جمشید اقبال+ مسرت جاوید) کے نام امیدواروں میں نہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک اور ان کے کورننگ امیدوار نصیر بھٹہ کے علاوہ پیپلزپارٹی لاہور کے صدر چودھری اسلم گل اور دیگر آزاد امیدواروں کے کاغذات بھی درست قرار پا گئے ہیں۔یہ حلقہ مرحوم پرویز ملک کی وفات سے خالی ہوا،جو پانچ بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، اب ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک  امیدوار ہیں،جو خواتین کی مخصوص نشستوں سے قومی اسمبلی میں تھیں۔اس حلقہ کے ضمنی انتخاب میں لوگوں میں دلچسپی ہی نہیں ہیجان بھی پایا جاتا ہے۔2018ء میں پرویز ملک بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے اور دوسرے نمبر پر تحریک انصاف ہی تھی،جبکہ پیپلزپارٹی کے اسلم گل نے تب بھی الیکشن میں حصہ لیا اور ان کو قریباً ساڑھے پانچ ہزار ووٹ ملے تھے، اب نئی صورت حال میں وسطی پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر راجہ پرویز اشرف دوسرے جماعتی عہدیداروں کے ساتھ مل کر ان کی انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں۔شائستہ پرویز ملک کے صاحبزادے علی پرویز ملک والدہ کی انتخابی مہم کے انچارج ہیں۔اب جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ کی طرف سے اپیل کا فیصلہ ہونے کے بعد ہی مزید صورت حال واضح ہو گی تاہم حلقہ کا ضمنی انتخاب اب دلچسپ صورت اختیار کر گیا ہے اور انتخابی مہم کے دوران کئی اندازے اور تجزیے ہوں گے تاہم اللہ لگتی تو یہ ہے کہ مرحوم پرویز ملک مقبول رہنما تھے اور ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ کارکنوں سے رابطے میں رہیں۔

رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن کی کوشش اور ملاقاتوں کے بعد دھرنا والوں اور حکومت کے درمیان سمجھوتے طے پا گیا اور تحریک لبیک(مبینہ کالعدم) کے کارکنوں نے راستے کھول دیئے،اکثر کارکن واپس جا چکے تاہم ایک حصہ ایسا بھی ہے جس نے راستے خالی کر کے وزیر آباد (جی ٹی روڈ) کے پارک میں ڈیرہ لگا لیا اور خیمہ بستی آباد کر لی۔وہ حالیہ معاہدہ پر عمل درآمد کے منتظر ہیں کہ سٹیرنگ کمیٹی جس کے سربراہ وفاقی وزیر مملکت علی محمد خان ہیں، نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔مفتی منیب الرحمن کا موقف ہے کہ حالات تب خراب ہوتے ہیں جب وعدہ خلافی کی جائے،ان کو یقین ہے جو طے کیا اس پر مکمل عملد رآمد ہو گا، وزیراعظم عمران خان نے بھی کہہ دیا ہے کہ خون خراب سے بچنے کے لئے مذاکرات کے ذریعے حل ہی بہترین عمل تھا۔ مفتی منیب الرحمن کے ساتھی علامہ بشیر فاروقی کے مطابق کم از کم ایک ہفتے تک حالات کو آج کی حالت میں جوں کا توں رکھا جائے گا۔بہرحال گیارہ دِنوں کی محاذ آرائی سے عوام کو بہت پریشانی ہوئی۔ جی ٹی روڈ مکمل بند رہی۔ ابتدائی تین روز لاہور اور نواحی آبادیوں پر بھی بھاری گذرے تھے۔بعد کے دِنوں میں تو اسلام آباد،راولپنڈی، گجرات، وزیر آباد، گوجرانوالہ اور کامونکے، مریدکے کے شہری بھی حبس بے جا ہی میں ر ہے تھے،اب جو بیانات سامنے آ رہے ہیں، ان کی وجہ سے کئی پہلو اُجاگر  ہوئے ہیں تاہم جب تک پورا معاہدہ ظاہر نہیں کیا جاتا ابہام تو رہے گا اور بیان بازی بھی ہو گی،جو نہیں ہونا چاہئے،اس کا بہترین حل تھا کہ معاہدے کے حوالے سے کچھ تفصیل بتا دی جاتی،اب تو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے بھی معاہدہ عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عوام کو قدرت، انتظامیہ اور حکومت کی طرف سے جن مسائل کا سامنا ہے ان میں کمی نہیں آ رہی۔کورونا کی وبا والی شدت بہت کم ہو چکی،لیکن ڈینگی بخار کے مریضوں سے ہپستال بھر گئے ہیں، لاہور میں جو ایکسپو سنٹر ویکسی نیشن کے کام آیا تھا اسے ہنگامی طور پر ڈینگی ہسپتال(کیمپ) کی صورت بھی دینا پڑی ہے، آفت آنے پر معاشرتی مزاج کی جو بدترین شکل سامنے آئی ہے وہ ڈینگی کے باعث بھی پیش آ رہی ہے اور ڈینگی کے بخار کے علاج میں استعمال ہونے والی پینا ڈول گولیوں کی قلت پیدا کر دی گئی ہے،مہنگائی کا عالم پہلے سے بھی برا ہے،ہر شے کے نرخ آسمان سے بات کر رہے ہیں اور حکومت کے زیر کنٹرول اشیاء کے نرخ بھی مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔گذشتہ روز ہی ایل پی جی13.20 روپے فی کلو مزید مہنگی کر دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب ملتوی کرنے سے انکار کر دیا،موجودہ صورت میں پیپلزپارٹی مقابلہ کرے گی

کورونا میں کمی،ڈینگی شروع، پینا ڈول کی قلت، مہنگائی جاری

مزید :

ایڈیشن 1 -