عمرا ن خان کا دورہ سعودی عرب کامیاب

عمرا ن خان کا دورہ سعودی عرب کامیاب

  

کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کا خطرہ وقتی طور پر تو ٹل گیا ہے حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے مابین ایک معاہدہ طے پا گیا جس کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ اور عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ جڑواں شہروں کے باسی ٹی ایل پی کے ممکنہ دھرنے کی بدولت کئی روز سے اعصابی طور پر شدید مضطرب نظر آ رہے تھے۔ دونوں شہروں کی انتظامیہ بھی سولی پر لٹکی ہوئی تھی جب تک ٹی ایل پی کا احتجاج لاہور تک محدود تھا تو لگتا تھا کہ حکومت اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی لیکن جب کالعدم ٹی ایل پی کا مارچ گوجرانوالہ پہنچا تو یہ معاملہ سنگین شکل اختیار کر گیا۔ گوجرانوالہ، وزیر آباد میں اس احتجاج کی بدولت زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ خندقیں کھود دی گئیں۔ پولیس کو رینجرز کے ماتحت کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے اس موقع پر نہ صرف اس معاملہ کو انتہائی سنجیدہ انداز میں لینا شروع کر دیا بلکہ حکومت نے کالعدم تحریک کے حوالے سے انتہائی سخت لب و لہجہ اختیار کر لیا اور ایک سخت ترین مؤقف اختیار کر لیا۔ اسی دوران وفاقی دارالحکومت میں افواہوں اور سازشی تھیوریوں کا تانتا بندھ گیا۔ ایک سیاسی بے یقینی کا دور دورہ نظر آنے لگا بعض قیافہ شناس اس صورتحال کو حکومت کی رخصتی سے بھی تعبیر کرنے لگے اس دوران صحافیوں کے ایک گروپ کو ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے ایک تفصیلی بریفننگ بھی دی جس میں احتجاج کے حوالے سے تمام امکانات پر کھل کر بات چیت ہوئی اس بریفننگ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی شامل تھے۔ شنید ہے کہ اس بریفننگ میں حکومت نے اپنی پوزیشن واضح کی اور بتایا کہ احتجاج کے حوالے سے کہ چھ سرخ لائنیں کھیچ دی گئی ہیں اگر مظاہرین نے ان لائنوں کو عبور کیا تو حکومت بھرپور ایکشن کرے گی اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس پر آشوب احتجاج کو ہر صورت وہیں روک دیا جائے گا تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ بات چیت اور ڈائیلاگ کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی طاقت کے استعمال کا آپشن آخری ہوگا۔ تاہم حکومت کی پہلی ٹیم جب مذاکرات میں ناکام ہو گئی تو دوسری ٹیم کو میدان میں اتارا گیا حکومت کی دوسری مذاکراتی ٹیم میں وہ لوگ اور وزراء شامل تھے جن پر کالعدم تحریک کے رہنماؤں کا بھی قدرے اعتماد تھا۔ بظاہر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوسری مذاکراتی ٹیم میں قائدانہ کردار ادا کیا لیکن اسلام آباد میں اقتدار کی غلام گردشوں میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ حکومت سیاسی طور پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان کو قائل کرنا تو درکنار مناسب طور پر اس کے ساتھ اشتراک کار میں بھی کامیابی حاصل نہ کر سکی کراچی کے سٹاک ایکس چینج کے ٹائیکون ار بعض دیگر شخصیات نے مقتدر حلقوں کی آشیر باد سے کالعدم ٹی ایل پی کے بپھرے ہوئے قائدین کو رام کیا۔ یوں ایک بڑا حادثہ ٹل گیا وقتی طور پر معاملہ پر امن انداز سے حل ہو گیا اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کس قدر پر عزم ہے اور کیا اقدامات کرتی ہے کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت میں ایک نوٹیفیکیشن کے التوا نے بھی سیاسی بے یقینی کو خوب ہوا دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے خوب لتے لئے حکومت کے یک طرفہ احتساب کی یلغار اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی مشتعل تھیں انہوں نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج پر سیاست نہیں کی اور حکومت کو موقع فراہم کیا کہ وہ اس نازک صورتحال سے بخوبی عہدہ برا ہو سکے۔ تاہم حکومت کو کالعدم ٹی ایل پی سے صلح جوئی کے بعد اس حوالے سے اپنے پہلے بیانیئے کے تناظر میں خوب تنقید کا سامنا ہے۔

کالعدم ٹی ایل پی کے قائدین برملا کہہ رہے ہیں کہ مقتدر حلقوں نے مذاکرات کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ مفتی منیب تو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ وزراء ان سے منسوب جھوٹے بیانات دے رہے تھے۔ انہوں نے یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اگر معاہدہ پر کلی عمل درآمد نہیں ہوا تو کالعدم جماعت بڑی قوت کے ساتھ میدان میں آئے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ ان کے دورہ سعودی عرب کے معاشی ثمرات بھی سامنے آ رہے ہیں سعودی عرب نے تیل ادھار پر دیئے کی سہولت پھر سے بحالی کر دی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں نہ صرف اہم کانفرنس میں شرکت کی بلکہ سائیڈ لائن پر اہم رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے وطن واپس آتے ہی ڈی جی آئی ایس آئی کے زیر التوا معاملہ کو بھی نوٹیفیکیشن جاری کر کے نمٹا دیا تاہم اس سارے قصے نے ایک صفحہ پر ہونے کے دعوی پر کاری ضرب لگائی حقیقت خواہ کچھ بھی ہو اس ضمن میں تاثر کی اہمیت زیادہ ہے۔ ایک صفحہ پر ہونے کا تاثر کافور ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے زیر التوا نوٹیفیکشن اور کالعدم تنظیم کے احتجاج کے معاملات سلجھنے پر سکھ کا سانس لیا ہے۔ حکومتی وزراء کو بھی کچھ سکون کا سانس آیا ہے ان کا اعتماد بحال ہونے لگا ہے۔

 وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کو نوٹس بھجوانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ یہ نوٹسز فوری طور پر واپس لئے جائیں یہ ایک غیر معمولی پیش رفت نظر آئی ہے آئندہ آنے والے دنوں میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم کردار سامنے آ سکتا ہے جس کے نتیجہ میں ملکی سیاست پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں میدان سیاست میں ہر وقت شطرنج کی بساط بچھی رہتی ہے جس پر نت نئی چالیں چلی جا رہی ہوتی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کور کمیٹی کے اجلاس میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کا بھی اعلان کیا لیکن یہ وعدہ پورا ہونے کے امکانات معدوم ہی نظر آتے ہیں وفاقی وزیر خزانہ شوکت فیاض ترین آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے واشنگٹن سے واپس لوٹے ہیں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کے اشارے ملنے سے ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین ایک ہاتھ میں قرضہ کی رقم اور دوسرے ہاتھ میں ٹیکسوں کی نئی شرائط لائے ہوں گے اگرچہ ان کا دعوی ہے کہ وہ بہت سی شرائط مسترد کر آئے ہیں اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔ اکتوبر میں مہنگائی بلند ترین شرح پر رہی۔ وزیر اعظم عمران خان نیب آرڈیننس میں مزید ترمیم کے ذریعے انتہائی طاقتور ہو گئے ہیں۔ اب وزیر اعظم چیئرمین نیب کو ہٹا سکتا ہے منی لانڈرنگ اور عوام سے فراڈ کے کیس بھی دوبارہ نیب کے دائرہ اختیار میں آ گئے ہیں جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا جبکہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ نئے آرڈیننس سے وزیر اعظم عمران خان اپنے آپ کو این آر او دیا ہے نیب میں پھر سے ترمیمی آرڈیننس کے اجراء پر ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی 11 نومبر کو طلب کر لیا گیا ہے آنے والے دن سیاسی لحاظ سے خوب ہنگامہ خیز نظر آتے ہیں۔ جڑواں شہروں میں ڈینگی کے وار بڑھنے لگے ہیں ڈینگی کے خلاف انتظامیہ سست روی سے اقدامات کر رہی ہے۔

 افواہوں کا بازار گرم تھا

 رہا، مہنگائی ابھی جاری ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -