پی ڈی ایم کا ڈی جی خان میں پڑاؤ،لانگ مارچ کا عندیہ!

پی ڈی ایم کا ڈی جی خان میں پڑاؤ،لانگ مارچ کا عندیہ!

  

ملتان سے قسو رعباس 

سال 2021ء کے پہلے 10ماہ مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے انتہائی بھاری ثابت ہوئے، ادارہ شماریا ت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران چینی 20روپے 52پیسے،گھی 101روپے 16پیسے فی کلو مہنگا ہوا جبکہ آٹے کے 20کلو تھیلے کی قیمت میں 224روپے 72پیسے اضافہ ہوا اسی دوران بجلی چارجز 2روپے 52پیسے فی یونٹ بڑھنے کے بعد 4روپے 5پیسے سے 6روپے 57پیسے فی یونٹ ہوگئے ہیں جبکہ دوسری جانب رواں مالی سال کے ابتدائی 3ماہ کے دوران وفاقی بجٹ خسارہ 745ارب روپے رہا،خسارہ اگرچہ سالانہ خسارے کے تخمینے کی حدود ہی میں ہے تاہم نا ن ٹیکس ریونیو میں کمی،قرضوں پر سود کی ادائیگی میں اضافے اور شرح سود میں ممکنہ اضافے کے نتیجے میں خسارہ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار اور مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جو بجٹ خسارہ منظر عام پر آیا ہے وہ حکومتی وزراء و مشیروں کے بیانات کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ایک طرف وہ تمام تر عوامی مسائل میں اضافے کا ملبہ سابقہ حکمرانوں کے گلے میں ڈال رہے ہیں وہاں وہ اپنی حکومت کی کامیابی کے نقارے بجا کر عوامی مسیحا ثابت کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ مہنگائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح نے عوام کا جینا محال کرنے کے ساتھ حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کو بھی اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔اب کی بار پی ڈی ایم رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے شہر ڈیرہ غازی خان میں میدان سجایا جہاں پر پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن)کے صدر و قائد حزب اختلاف شہاز شریف نے پُرجوش خطابت کے جوہر دکھائے اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تمام تر مسائل اور پریشانیوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور عوام کو حکومت کیخلاف گھروں سے باہر نکلنے کا مشورہ دیتے ہوئے ڈیرہ میں تبدیلی سرکار کے خلاف لانگ مارچ کا بھی عندیہ دیا۔قائد حز ب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب کو شمالی اور سنٹرل پنجاب کے برابر لاکھڑا کریں گے۔جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کے دعوؤں کی حقیقت جو بھی ہو مگر وسیب کے عوام اس طرح کی باتوں کی حقیقت سے باخوبی آشنا ہوچکے ہیں کیونکہ جو بھی سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے وہ اس طرح کی باتیں کرتی ہے مگر جیسے ہی وہ عوامی مینڈیٹ لے کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے اور عوام کو صرف اور صرف صوبہ کارڈ کے نام پر بیوقوف بنایا جاتا ہے جس کا واضع ثبوت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور متحدہ صوبہ محاذ کے سیاستدانوں نے دیا ہے۔حکومت تو جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے سرخرو ہورہی ہے کہ انہوں نے اس خطے کے مسائل کے حل کی بنیاد رکھ دی ہے یہ اور بات ہے کہ سیکرٹریٹ کے قیام کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے مگر تاحال اس کے ثمرات سے عوام مستفید نہیں ہوپائے مگر گزشتہ سوا تین سالہ دور اقتدار میں متحدہ صوبہ محاذ کے سیاستدان جو الیکشن کے دنوں میں الگ صوبے کے قیام کے عوام سے عہد و پیماں کرتے رہے  انہوں نے جب سے حکومتی چھتری میں پناہ لی ہے تب سے آج دن تک اُن کی جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے جدوجہد تو دور کی بات کوئی ایسا اقدام سامنے نہیں آیا جس سے لگ سکے کہ وہ لوگ اس حوالے سے کچھ نہ کچھ کررہے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ متحدہ صوبہ محاذ کے سیاستدان جو عوامی مینڈیٹ لے کر قانون ساز اسمبلیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں وہ ذاتی مفادات کے حصول میں مگن ہیں  اور ان کی اس تحریک کا مقصد بھی جیت کو یقینی بنانا تھا مگرالگ صوبے کے قیام کے حوالے سے ان کی یہ خاموشی آئند ہ انتخابات میں ان کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ وسیب کے لوگ صوبہ کارڈ کی حقیقت کو جان چکے ہیں کہ اب وہ کون سا نیا کارڈ کھیلتے ہیں اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا مگر یہ بات تو واضع ہوچکی ہے کہ اب جنوبی پنجاب کے عوام صوبہ کے نام پراستعمال نہیں ہوں گے کیونکہ یہاں کے باسیوں میں بھی ملک کے دیگر شہروں کی طرح سیاسی شعور ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے اور سیاست بھی کسی فرد واحدو خاندان تک محدود نہیں رہی اس لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے نسل در نسل منتخب ہونے والے سیاستدانوں کو اپنے پینترے بدلنے ہوں گے وگرنہ شکست و بدنامی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن)کے رہنما و سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کا وزیر اعلیٰ کے پی آر او کے والد کی نماز جنازہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کی توقعات حد سے زیادہ ہیں لیکن اس کی حکومت کی تبدیلی نوشتہ دیوار ہے،مہینہ لگے یا دو مہینے حکومت تبدیل ہوگی،تبدیلی کے جھکڑ میں فواد چوہدری اور شیخ رشید خشک پتوں کی مانند اڑتے نظر آئیں گے،اُن کا کہنا تھا کہ تعلیم نے مجھے طاقت مہیا کی ہے اس لئے میں نے تعلیم عام کرنے کیلئے ملتان میں سات یونیورسٹیاں بنوائیں جبکہ اپنے حلقہ انتخاب جہانیاں تحصیل بھر کے ہر چک میں گرلز و بوائز سکول بنائے۔اسی طرح سابق وزیر اعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سابق وفاقی وزیر سردار قیوم خان جتوئی اور ان کے صاحبزادے سے ملاقات کے دوران کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی،بے روزگاری،پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے غریب شہری کی زندگی اجیرن کردی ہے،پیپلز پارٹی نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ ملک بھر میں جاری مہنگائی کے خلاف پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ و پیپلز پارٹی کی احتجاجی تحریکوں سے تاحال عوام کو ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا ہے ہاں البتہ اپوزیشن کو دوبارہ حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکلنے کا جواز ضرور ملا ہے جس کا وہ خوب استعمال بھی کررہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس طرح کی سیاسی تحریکوں کا حکومت پر کتنا اثر ہوتا ہے اور وہ قوم کس قدر ریلیف فراہم کرتی ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خانیوال کے رکن صوبائی اسمبلی نشاط احمد ڈاہا کی وفات سے خالی ہونے والی نشست پی پی 206پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کرتے ہوئے الیکشن کیلئے 16دسمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔  

٭٭٭

الگ صوبے کا قیام،متحدہ صوبہ محاذ ارکان کا مستقبل خطرے میں 

مخدوم جاوید ہاشمی و سید یوسف رضا گیلانی کی حکومت پر کڑی تنقید 

خانیوال،پی پی 206کی خالی نشست پر  ضمنی الیکشن 16دسمبر کوہوگا   

مزید :

ایڈیشن 1 -