مولانا سمیع الحق کی خدمات یاد رکھی جائیں گی، قاضی خلیل

مولانا سمیع الحق کی خدمات یاد رکھی جائیں گی، قاضی خلیل

  

رحیم یار خان(بیورو رپورٹ)جمیعت علما اسلام(س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا یوم شہادت عقیدت واحترام سے منایا گیا اور جمیعت علما (س)کے زیر اہتمام جامعہ انوار القرآن اسلم ٹان ابوظہبی روڈ میں مولانا سمیع الحق شہید کے حوالے سے شہید اسلام سیمینار کا انعقاد مولانا قاضی خلیل الرحمن کی زیر نگرانی میں  انعقاد کیا گیا، سیمینار سے جمیعت علمااسلام کے ضلعی(بقیہ نمبر9صفحہ6پر)

 جنرل سیکرٹری مولانا قاضی خلیل الرحمن،مفتی عارف الحسینی،قاضی عبد الحمید،مولانا یوسف اشرفی اور مفتی سمیع اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمیعت علما اسلام  آج بھی اپنے شہید قائد کے مشن کو آگے لیکر بڑھ رہی ہے،مولانا سمیع الحق کو آج ہی کے دن دار الحکومت میں بے دردی سے شہید کیا گیا،مگر افسوس حکومت نے اس عظیم مجاہد کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک نہ پہنچایا،مولانا سمیع الحق شہید نے ساری زندگی اسلام کی سربلندی اور نفاذ اسلام کے لیے وقف کی ہوئی تھی،دفاع پاکستان اور دفاع اسلام کے سوا کوئی دنیوی خواہش نا تھی، 80 سالہ زندگی میں ہر وقت ہر جگہ دفاع پاکستان اور اسلام کی سربلندی کے لئے سرگرم تھے،تمام مذہبی او سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ایک سٹیج پر اسلام کے نام پر دیکھنا چاہتے تھے،اسلام کی سربلندی جہاد میں پوشیدہ ہے-تمام طاغوتی طاقتیں جانتی تھیں کہ مجاہدین مولانا سمیع الحق شہید کو اپنا مرشد مانتے تھے-  مولانا پاکستان کا مخلص سیاستدان پاکستان کی تاریخ مولاناسمیع الحق جیسے مردِ مجاہد کو ضرور یاد رکھے گی۔ جنہوں نے اخلاص پہ مبنی سیاست کی۔ اور ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور فائدے کو مقدم رکھا۔ آج کے دن پاکستان ایک دور اندیش اور مخلص سیاسی رہنما سے محروم ہوا۔ مولانا کی زندگی آج کے سیاست دانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔  افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مخلص شخصیات کو دشمن آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہے۔ اور اب باقی وہی سیاست دان بچے ہیں جن کی اکثریت کو پاکستان کی سلامتی سے کوئی غرض نہیں۔  ان کی بے لگام زبانیں اپنے ہی وطن کے خلاف چلتی ہیں۔ دشمن کے لیے خوب راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔ مودی اپنی الیکشن کمپین میں ہمارے ان احمق سیاست دانوں کے بیانات کا حوالہ دے رہا ہے۔ ان احمقوں کو ہر صورت اقتدار چاہیے چاہے وہ ملکی سلامتی کو دا پہ لگا کے ہی ملے۔ یہ سوچتے نہیں کہ یہ ملک ہوگا تو ہی حکومت کر پا گے۔ ورنہ دشمن کے لیے ٹشو پیپر ہو وہ استعمال کرکے پھینک دے گا۔ یہی اس کی حسبِ روایت عادت ہے۔

قاصی خلیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -