مافیا متحرک:گندم بیج، کھاد ودیگر مداخل کی بلیک مارکیٹنگ شروع

 مافیا متحرک:گندم بیج، کھاد ودیگر مداخل کی بلیک مارکیٹنگ شروع

  

 ملتان(سپیشل رپورٹر)ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت سے متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی کے باعث گندم کی کاشت کا سیزن شروع ہوتے ہی دیہی علاقوں میں مافیا متحرک گندم کے بیج، کھادوں ودیگر مداخل کی بلیک مارکیٹنگ اور مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا،(بقیہ نمبر31صفحہ6پر)

 پیداواری لاگت میں ملکی تاریخ کے ہوشربا اضافے کے باعث گندم کی کاشت کے اہداف خطرے میں پڑگئے۔انتظامیہ مافیاکیخلاف کارروائی کے بجائے صرف زرعی سیمیناروں تک محدود ہوکر رہ گئی۔ گندم کی کاشت شروع ہوتے ہی دونمبر بیج بھی مارکیٹ آنا شروع ہوگیا جبکہ گندم کی کاشت شروع ہوتے ہی  ڈی اے پی کھاد کی قیمت بلیک میں   7800 روپے پر جا پہنچی ہے۔گندم خریداری سیزن میں جس کسان سے زبردستی گندم گھروں سے حکومتی نرخوں پر نکلوائی گئی وہی گندم اب بطور بیج 4450 روپے فی تھیلا کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے آج اس کسان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔روزانہ  کسان سے گندم وصولی کی رپورٹ طلب کرنے اور ٹارگٹ پورا کرنے والے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر حضرات آج خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور کسان کو آج دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔من مانے کھادوں کے ریٹ اور ڈیزل کے ہوشربا اضافے سے کسان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔جس کے باعث خدشہ ہے کہ رواں سال گندم کی پیداوار میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔متاثرہ کسانوں نے حکومتی ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو لوٹنے والوں کیخلاف فوری کریک ڈاؤن شروع کیا جائے اور کسانوں کو زرعی مداخل کنٹرول نرخوں پر فراہم کئے جائیں تاکہ گندم کی کاشت ممکن ہو سکے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -