ازبکستان کیساتھ تعلقات سٹرٹیجک شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: شاہ محمود

ازبکستان کیساتھ تعلقات سٹرٹیجک شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: شاہ محمود

  

     اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے پاکستان، ازبکستان کیساتھ باہمی تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقاّ ت یکساں مذہبی، ثقافتی و تہذیبی اقدار کی بنیاد پر استوار ہیں،تاہم پاکستان، ازبکستان کیساتھ دیرینہ تعلقات کو اسٹرٹیجک شراکت داری میں بدلنے کا خواہشمند ہے، ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے پاکستان کے دورہ پر آئے ازبکستان کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل وکٹر مخمودوف کی وزارت خارجہ میں آمد کے بعد ملاقات میں کیا، ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات،دفاعی و عسکری تعاون، افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا رواں سال جولائی میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ تاشقند اور ازبک صدر شوکت مرزاایوف کیساتھ ہونیوالی ملاقات سے دو طرفہ تعلقات مزید وسعت پذیر ہوئے،پاکستان، "وژن وسط ایشیا "پالیسی کے تحت، ازبکستان سمیت وسط ایشیائی ممالک کیساتھ روابط کے فروغ کیلئے کوشاں ہے، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کمیشن کے قیام سے متعلق معاہدہ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا، معاہدے سے انسداد دہشت گردی و منشیات سمگلنگ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون کے حصول میں مدد ملے گی، شاہ محمود قریشی نے کہا تہران میں افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے دوسرے وزاراتی اجلاس کے موقع پر ازبک وزیر خارجہ کیساتھ ملاقات انتہائی سود مند رہی، افغانستان کے حوا لے سے پاکستان اور ازبکستان کے نقطہ نظر میں مماثلت ہے، افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری، افغان عوام کی مدد کرے، پاکستان اپنی توجہ، جغرافیائی اقتصا د ی ترجیحات پر مرکوز کیے ہوئے ہے، افغانستان میں قیام امن سے وسط ایشیائی ریاستوں کیساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو فروغ ملے گا، افغانستان کے قریبی ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان اور ازبکستان،یکساں طور پر افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں، دونوں فریقین نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین پہلے سے موجود دفاعی و عسکری تعاون کے معاہدوں کو فعال بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -