القاعدہ کے مبینہ پاکستانی کارکنوں کی امریکی جیل سے رہائی کا امکان

القاعدہ کے مبینہ پاکستانی کارکنوں کی امریکی جیل سے رہائی کا امکان

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) نائن الیون کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے الزام اور القاعدہ سے تعلق کے شعبے میں گوانتاناموبے میں قائم امریکی جیل میں قید بیشتر پاکستانیوں کی رہائی کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔ گیارہ جنوری 2002ء میں اس کیمپ جیل میں آنے والی قیدیوں کی کل تعداد تقریباً 780تھی جہاں اب صرف 39 کے سوا باقی تمام قیدی رہا ہوگئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق 15مئی 2006ء تک حراست میں لئے جانے والے ملزموں میں ساٹھ کے قریب پاکستانی شامل تھے۔ 7ستمبر 2008ء تک صرف پانچ پاکستانی اس جیل میں رہ گئے تھے جن میں سیف اللہ پراچہ، ماجد خان، عبدالربانی، محمد احمد غلام ربانی اور عمار بلوچی شامل تھے۔ قاری محمد سعید کو قبل ازیں 29اگست 2008ء کو رہا کر دیا گیا تھا۔ یہ عمار بلوچی دراصل القاعدہ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کا بھانجا ہے اور عافیہ صدیقی نے امریکہ سے فرار کے بعد مبنیہ طور پر اس سے دوسرا نکاح کراچی میں کیا تھا۔ خالد شیخ کاتعقل پاکستان سے یہ ہے کہ اس کے والد کراچی میں رہتے تھے لیکن ان کے کویت منتقل ہونے کے بعد خالد شیخ کویت میں پیدا ہوا تھا۔ اس لئے خالد شیخ تکنیکی اعتبار سے کویتی ہے اور پاکستانی قیدیوں کو فہرست میں شمار نہیں ہوتا۔ 73 سالہ معمر پاکستانی سیف اللہ پراچہ کے بیٹے 41 سالہ عزیز پراچہ کو بعد میں اپنے ولد کی رہائی کی مہم چلانے پر نیویارک سے گفرتار کیا تھا جسے شامل کرکے اس وقت پاکستانیوں کی تعداد چھ ہو جاتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اس وقت جیل میں قائم فوجی عدالت کے سات ارکان نے پہلے ماجد خان کو 26سال قید کی سزا سنائی اور پھر کچھ دن بعد خود ہی اس کی معافی کی اپیل بھی مقدمے کے سرکاری مدعیان کو کردی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس عدالت کے سامنے پاکستانی ملزم ماجد خان نے القاعدہ کیلئے کام کرنے کو اپنی غلطی تسلیم کیا اور اس کے لئے معافی مانگ لی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی اس نے سی آئی اے کے تفتیش کاروں کی طرف سے اس پر کئے جانے والے تشدد اور وائر بورڈنگ کا ذکر کیا۔ فوجی عدالت نے اپنی اپیل میں لکھا ہے کہ ماجد خان کو دی جانے والی اذیت امریکہ کیلئے بدنامی کا داغ ہے۔ اس فوجی عدالت نے 29 اکتوبر کو ماجد خان کو 26سال قیدکی سزا نائن الیون کے سانحے کے بعد القاعدہ کی دہشت گردی کی مزید منصوبہ بندی میں شرکت کے اعتراف کے بعد سنائی گئی تھی۔ قبل ازیں کراچی کے سیٹھ اور نیو یارک میں جائیداد رکھنے والے معمرپاکستانی قیدی سیف اللہ پراچہ کی رہائی کی منظوری دی جا چکی ہے جو سولہ سال سے زائد عرصہ اس جیل میں قید ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد ان کی رہائی عمل میں آجائے گی۔ باقی پاسکتانی قیدی بھی جلد رہا ہو جائیں گے۔ تاہم عمار بلوچی پر مقدمہ چلے گا۔ خالد شیخ پر بھی موت کی سزا کا مقدمہ چل رہا ہے۔

القاعدہ

مزید :

صفحہ اول -