کابل میں داعش کا حملہ، سربراہ بدری 313فورس مولوی حمد اللہ رحمانی جاں بحق

      کابل میں داعش کا حملہ، سربراہ بدری 313فورس مولوی حمد اللہ رحمانی جاں بحق

  

کابل، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) افغانستان کا دارالحکومت کابل میں عالمی دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کے حملے میں طالبان کی بدری 313 فورس کے سربراہ مولوی حمداللہ رحمانی جاں بحق ہوگئے، اس دوران سردار محمد داؤد خان ملٹری ہسپتال کے قریب یکے بعد دیگر دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔طالبان کے ترجمان اورنائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بھی بیان میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔غیرملکی رپورٹس کے مطابق داعش کے حملے میں بدری 313 فورس کے سربراہ مولوی حمداللہ رحمانی بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔مولوی حمداللہ رحمانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق سرکاری حکام نے بھی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مولوی حمداللہ رحمانی کابل میں بدری فورس 313 کے سربراہ تھے اور 15 اگست کو وہ پہلے طالبان رہنما تھے جو اشرف غنی کے فرار کے بعد صدارتی محل میں داخل ہوئے تھے۔سردارمحمد داؤد خان ہسپتال 400 بستروں پر مشتمل افغانستان کا بڑا ملٹری ہسپتال ہے، اس سے قبل اس ہسپتال کو 2011 اور 2017 میں بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے،طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کے مطا بق دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ادھر پاکستان نے کابل میں منگل کو سردارداؤ د خان ہسپتال کے نزدیک دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ترجمان دفترخارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دہشت گرد حملہ میں بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہم متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں،اوردہشت گردی کے اس بہیمانہ واقعہ کا شکار ہونیوالوں سے ہمدردی کرتے ہیں،بیان میں ز خمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جلد صحت یابی کیلئے دعاکیساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کا اعادہ بھی کیا گیا۔

کابل داعش حملہ 

مزید :

صفحہ اول -