ہم نے جیلیں دیکھیں، عدالتیں بھی دیکھ لیں، عمران خان کیا تم تیار ہو؟شاہد خاقان 

ہم نے جیلیں دیکھیں، عدالتیں بھی دیکھ لیں، عمران خان کیا تم تیار ہو؟شاہد ...

  

          اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم نے جیلیں دیکھیں،عدالتیں بھی دیکھ لیں،عمران خان تم تیارہو؟  تماشے بندکریں،قانون سے مت کھیلیں،ن لیگ ان تماشوں کامقابلہ کرے گی۔  اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ  چیئرمین نیب اوران کے افسران کواستثنی دیاگیاہے،کل کسی کی حکومت آئی تووہ آرڈیننس سے استثنی کوختم کردیگی،استثنی ختم کیاتونیب کے افسران عدالت کے کٹہر ے میں کھڑے ہونگے۔ شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ حکومت کی کرپشن ہمار ے گھروں تک پہنچ گئی ہے،120 روپے کلو چینی میں سے 70 روپے عمران خان کی جیب میں جارہے ہیں۔ مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ براڈشیٹ کیس میں کابینہ کی منظوری سے پیسے لندن بھیجے گئے، وزیراعظم چیئرمین نیب کے معاملے پرمشاورت کیلئے تیارنہیں، صدرکواختیارمل گیا، چیئرمین نیب کوکسی وقت بھی نوکری سے نکال دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کااطلاق حکومت کی چوری پرنہیں ہوتا،حکومت جتنی مرضی چوری کرلے آرڈیننس کااطلاق ان پرنہیں ہوگا،پہلے ہی کہاتھاآرڈیننس بدنیتی پرمبنی ہے،مزید بدنیتی پرمبنی ایک اورآرڈیننس جاری کردیا گیا،حکومت آرڈیننس جاری کرے جس کا اطلاق صرف ن لیگ پرہو۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ صدرمملکت کسی وقت بھی چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے، چیئرمین نیب بات نہیں سنے گاتوصدرمملکت اسے ہٹادیں گے،حکومت نے نیاآرڈیننس کرکے پرانے آرڈیننس میں تبدیلی کردی۔

شاہد خاقان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اسلام آبادکی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی وغیرہ کے خلاف ایل این جی ریفرنس میں وکلاء صفائی کی استدعا پر سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی، سابق وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ خان نے کہاہے کہ دلائل سننے کے بعد حکومت نے نیا نیب آرڈیننس جاری کردیا  جبکہ شریک ملزم کے وکیل عمران شفیق نے کہاکہ جب قانون پارلیمان کی بجائے چہرے دیکھ کر حکومت بنائے گی تو ابہام ہی رہیں گے  احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے ایل این جی ریفرنس پر سماعت کی۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر عثمان مرزا،وکلاء صفائی بیرسٹر ظفر اللہ اور عمران شفیق کے علاوہ دیگر پیش ہوئے، عدالت نے شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کی حاضری لگائی،اس موقع پر شاہدخاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ ہمارے دلائل سننے کے بعد حکومت نے نیا نیب آرڈیننس جاری کردیا شریک ملزم کے وکیل عمران شفیق نے کہاکہ جب قانون پارلیمان کی بجائے چہرے دیکھ کر حکومت بنائیگی تو ابہام ہی رہیں گے، عدالت نے کہاکہ کیایہ تیسرا نیب ترمیمی آرڈیننس گزٹ میں شائع ہوا؟، جس پر بیرسٹر ظفر اللہ نے بتایاکہ ابھی نہیں آیا تاہم جاری کیاجانے والا آرڈیننس تصدیق شدہ ہے،ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ اصلی ہے یا نہیں، عدالت کے جج نے کہاکہ پھر اس کاغذ کو دیکھنے کا ابھی فائدہ نہیں ہے،عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہاکہ امیدہے مارکیٹ میں آج کوررنگ لیٹر کے ساتھ گزیٹڈ آرڈیننس آجائیگا، بیرسٹرظفر اللہ نے کہاکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قانون کیسے بنایاگیا،پارلیمان ہم نے بنائی ہے قانون سازی کااصل فورم وہ ہے، پارلیمان چاہے ہمیں پھانسی دے دیں کوئی اعتراض نہیں، عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہاکہ تیسرے آرڈیننس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا آرڈیننس اڑا دیاجائے، کچھ لوگ رات کو بیٹھتے ہیں اور آرڈیننس جاری کردیتے ہیں، پچھلے آرڈیننس میں ہزاروں غلطیاں تھیں،نیب کے دوسرے اور پھر تیسرے آرڈیننس کو جاری کرنادردناک ہے،عدالت نے کہاکہ درخواستوں پر صرف علی ظفر ایڈووکیٹ کے دلائل رہ گئے ہیں وہ کدھر ہیں، وکلاء صفائی نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ تیسرا آرڈیننس گزیٹڈ ہونے دیاجائے جس کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی،  عدالت نے ریفرنس کی سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی۔

ایل این جی

مزید :

صفحہ اول -