جب تک امن قائم نہیں ہوگا ہم ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتے: وزیراعلٰی سندھ

  جب تک امن قائم نہیں ہوگا ہم ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتے: وزیراعلٰی سندھ

  

        کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جب تک امن قائم نہیں ہوگا ہم ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتے ہیں اور امن کے بغیرپائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کوکراچی کے مقامی ہوٹل میں سیسٹن ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن(ایس ایس ڈی او)کی جانب سے پاکستان میں امن اور پائیدار ترقی کے سلسلے میں پارلیمنٹ کا کردار اور استحکام کے موضوع میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، رکن قومی اسمبلی احسن اقبال و دیگر نے بھی خطاب کیا۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ بہت اہم کانفرنس ہے اور ایک اہم موضوع پر ہو رہی ہے۔اگر ہم اپنی تاریخ کو دیکھتے ہیں اور ہمارے ملک میں انتہاپسندی کا آغاز 80 کی دہائی میں ہوا جب ملک میں مارشل لا قائم ہوا اور جمہوریت کو سبوتاژ کیا گیا۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اور جو حالات پیدا ہوئے وہ ہم سب کے سامنے ہیں اور اسی انتہاپسندی کی وجہ سے ہم نے سال2007 میں اس ملک کی سب سے بڑی امید شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو کھویا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے راولپنڈی میں اپنی آخری تقریر میں امن کے قیام اور خاص کر سوات میں امن قائم کرنے کی بات کی تھی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہمارا واحد مقصد ملک میں امن لانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوات میں آپریشن شروع کیا اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے شہادت پائی اور ہم نے بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملک باالخصوص کراچی میں امن و امان کو بحال کیا۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد تمام جماعتیں ایک ہوگئیں اور سب ساتھ بیٹھے اور انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ملکر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ایک نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اور صوبوں پر واضح کیا گیا کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ امن کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں کا کام قوانین بنانا ہے مگر قومی اسمبلی میرے خیال میں نہیں کہ قوانین بنا رہی ہے اور یہ پارلیمنٹ کا صحیح استعمال نہیں ہے اور ہم خود یہ نہیں کر رہے۔ آج یہاں کانفرنس میں چاروں صوبوں کے پارلیمنٹرین موجود ہیں اور ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ قانون سازی کے حوالے سے اسمبلی ہی واحد ادارہ ہے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کے قوانین اڑا دیئے جاتے ہیں ابھی حال ہی میں اپریل میں ہماریصوبے میں سندھ پبلک سروس کمیشن کا قانون ختم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سن 1989 میں بنایا گیا قانون ختم کر ریا گیا۔ وزیراعلی سندھ ایس ایس ڈی او کے اراکین کو تھر کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جب چاہے تھر کا درہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں موجود کوئلے کے ذخائر سے سندھ حکومت بھرپور طریقے سے استعفادہ کر رہی ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہاکہ آج ہمیں یہ پلیٹ فارم ملا ہے کہ ساتھ مک بیٹھ سکیں۔اپنے اپنے علاقوں سے منتخب ہونے والوں کے درمیان ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے۔انہوں نے کہاکہ امن و انصاف معاشرے کی بنیادی چیز ہے،انصاف کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،وفاقی و صوبائی حکومتیں انصاف کے قیام کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہاکہ امیر وغریب کا فرق ختم کرنا ہوگااگر انصاف قائم ہوگیا تو معاشرے کی چھوٹی چھوٹی خامیاں ختم ہوجاتی ہیں،امن کا معاملہ بھی انصاف سے منسلک ہے۔قاسم سوری نے کہاکہ قدرتی وسائل سمیت دیگر سہولیات نئی نسل کو منتقل کرنے ہیں۔وزیر اعظم کا وژن بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جارہا ہے بلین ٹری منصوبہ ماحولیاتی مسائل کو درست کرنے کا سبب بنے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ ماحول قدرت کا تحفہ ہے جو آنے والی نسلوں کو بہتر انداز سے دینا ہے،موجودہ حکومت کا ایک نصاب کا ایجنڈا بھی یکساں نظام کی جانب قدم ہے،مستونگ، لاہور، کراچی کا بچہ یکساں نصاب پڑھے گا تو مقابلے کی اصل فضا پیدا ہوگی،صحت کارڈ انقلابی قدم ہے دس لاکھ اس مد میں ہر گھرانے کا حق ہوگا۔قاسم سوری نے کہاکہ ہم جہاں سے منتخب ہوکرآئے ہیں ان کوامن اورسہولیات دینا ہماری ذمہ داری ہے،2030کے گولزہمیں اچیو کرناہے،صوبوں کاکردار اس مقصدکے لئے اہم ہے،2023کے ٹاسک کوپاراکرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی نے کہاکہ کراچی سے سب سے زیادہ ٹیکس کلیکشن ہوتی ہے،ہم نے بحیثیت قوم کووڈ کامقابلہ کیا،ہمیں معاشرے کوبہتربنانے کے لئے ایک ہونا پڑے گا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہاکہ ہماری سیاست میں شدت پسندی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے،اس عنصر کو بڑھانے میں سب ہی شامل ہیں،ناانصافی، غربت، تعلیم کی کمی بھی شدت پسندی کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جرمن قوم سب سے مہذب قوم ہونے کے باوجود دنیا میں ظالم گردانی گئی۔انہوں نے کہاکہ تعصب و عصبیت کی بیماری اگر ہو تو باقی سب پیچھے رہ جاتا ہے،تعصب وعصبیت کو مٹانے کا سب سے موثر ذریعہ مکالمہ ہے،ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے،اگر یہ عمل نہ ہو تو سب ہی اپنی اناں اور عصبیت کی بلندیوں پر کھڑے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ سماجی تنظیم نے ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے یہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔میں سمجھتا ہوں پارلیمنٹرینز کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان میں سازش کے تحت یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ جمہوریت کو جمہوریت سے تباہ کرایا جائے۔ہم ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہتے نہیں تھکتے۔ملک سے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والے بہت ہوگئے ہیں۔جب جمہوری اداروں سے لوگوں کا اعتبار اٹھے گا تو مذہبی انتہا پسند آگے بڑھیِں گے۔انہوں نے کہاکہ جب ہم نئی صدی میں داخل ہوئے توپوری دنیاکی لیڈرشپ نے ملینم ڈویلپمنٹ گولزکاپروگرام دیا۔کئی ممالک نے تیزی سے کام کیاہم مس کرگئے،2014میں ہم دیرسے بیدارہوئے سسٹین ایبل گولزکے لئے سوچنے لگے۔پہلے خالی تعلیم کی بات کی جاتی تھی ہم نے کہا صرف تعلیم نہیں معیاری تعلیم بھی ضروری ہے۔اداروں کی مضبوطی اورپرائیوٹ سیکٹر کوشامل کرکے دیرپانتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔اپنے لوگوں کوبنیادی ضروریات کی فراہمی قومی ایجنڈاہے عالمی ایجنڈانہیں۔ہم نے یہ دنیاکودکھانے کے لئے نہیں بلکہ حقیقت میں کرنا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان ان بدقسمت ملکوں میں شامل ہے جہاں انتہاپسندی پائی جاتی ہے۔انتہاپسندی کامظاہرہ جرمنی نے کیاتھا حالانکہ وہ دنیاکی پڑھی لکھی قوم تھی۔جب دماغ میں تعصب اورعصبیت شامل ہوجائے تو انتہاپسندی جنم لیتی ہے۔اگرکوئی مکالمہ نہیں کرتا توایک دوسرے کوسمجھیں گے کیسے؟۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پارلیمنٹرینز کوسیاسی اورباہمی اختلافات کوبالائے طاق رکھنا پڑیگا،ملک میں جمہوریت کوجمہوریت کے ہاتھوں قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہم سب ایک دوسرے کوچورکہیں گے تونوجوانوں کے ذہنوں پرکیااثرہوگا۔ہم سب ایک عام انسان کااعتماد اپنے ہاتھوں سے مٹانے پرلگے ہوئے ہیں۔قانون سازی پارلیمنٹرینز کااولین کام ہے۔تعلیم صحت روزگارکی فراہمی قانون سازی کااہم جزہے۔بجٹ ترجیہات کی نشاندہی بھی ضروری ہوتی ہے۔تعلیم پرسب زوردیتے ہیں پرہم تعلیم پربجٹ کے لئے خاطرخواہ فنڈزنہیں رکھتے۔ہم جوبین الاقوامی معاہدے کرتے ہیں ان پرعملدرآمد ضروری ہوتا ہے۔ایس ایس ڈی اوکے چیف سید کوثرعباس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایس ایس ڈی اوپانچ سال مکمل کرچکاہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں لازوال قربانیاں دی،2014میں اے پی ایس سانحے کے بعد سب ایک پیج پرآگئے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہیٹ اسپیجزکے خاتمے اورقومی یکجہتی کے لئے اورپرامن پاکستان کے قیام کی کوششیں ہوئیں،انتہاپسندی کے عنصرکوختم کرنیکے لئے ابھی ہمیں بہت کچھ کرناپڑیگا۔انہوں نے کہاکہ منتخب نمائندے جب بات کرتے ہیں لوگ سنتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ مختلف مکتبہ فکرکے لوگوں کویکجہتی کاپیغام دینا ہے۔سو سے زائد پارلیمنٹرینزکی تربیت کی تاکہ وہ مزید بہتراندازمیں کام کریں۔ہراسیمبلی میں ایس ایس ڈی ٹاسک فورس بنائی گئی ہیں۔ہم امن انصاف اوراداروں کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔ہم آج مزید بہتری کی تجاویزتیارکریں گے۔کوثرعباس نے کہاکہ پارلیمنٹرنزکیساتھ مل کرملک میں پائیدارترقی اورامن کے فروغ کیلئے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔پاکستان کی سالمیت پائدارترقی ہم سب کے مل بیٹھنے سے ممکن ہے، آخر میں ایس ایس ڈی او کی پانچویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ کو ادارے کی جانب سے شیلڈ آف آنر پیش کی گئی۔ 

مزید :

صفحہ اول -