دنیا کو انسانی بحران روکنے کیلئے افغان حکومت سے رابطہ قائم کرنا چاہیے: معید یوسف 

دنیا کو انسانی بحران روکنے کیلئے افغان حکومت سے رابطہ قائم کرنا چاہیے: معید ...

  

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا  ہے کہ دنیا کو اس وقت افغان حکومت سے رابطہ قائم کرنا چاہیے،افغانستان سے تعاون کیاجا ئے تاکہ وہاں کوئی انسانی بحران پیدا نہ ہو،ازبکستان، پاکستان اور افغانستان راہداری ہمارے جیو اکانوکس نظریے کو پورا کرنے کے لیے اہم ہے۔ منگل کوپاکستان کا دورہ کرنے والے ازبکستان کے وفد سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے معاملے میں پوزیشن ایک ہے اور دونوں ممالک کا یہی موقف ہے کہ افغان عوام کی خاطر تمام دنیا کو افغان حکومت سے مشغول ہونا چاہیے،مشغولیت میں افغانستان سے تعاون اس طرح کیا جانا چاہیے کہ وہاں کوئی انسانی بحران پیدا نہ ہو، افغانستان میں سردیاں آرہی ہیں، وہاں خوراک کا مسئلہ ہے، لوگوں کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ یہ طالبان کا یا کسی اور کا مسئلہ نہیں یہ عام افغانوں کا مسئلہ ہے، 4 دہائیوں سے افغانستان جنگ کی صورتحال میں ہے اور وہاں ہونے والی جنگ سے براہ راست نقصان پاکستان کا بھی ہوتا ہے،ہم جب افغانستان میں استحکام کی بات کرتے ہیں تو ہم افغانوں کے حق کے لیے اور اپنی سلامتی کے لیے یہ کہتے ہیں، ہمارا حق ہے کہ ہم دنیا کو یہ بات باور کرائیں۔مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی توجہ جیو اکانومکس پر ہے، پاکستان کا جغرافیہ نہایت اہم ہے تاہم ماضی میں ہم اس سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھاسکے جیسے ہمیں اٹھانا چاہیے تھا،وسطی ایشیا کے ممالک، جن میں ازبکستان ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اس سے ہماری ایسی مشغولیت نہیں رہی جیسی ہونی چاہیے تھی،ازبکستان، پاکستان اور افغانستان راہداری ہمارے جیو اکانوکس نظریے کو پورا کرنے کے لیے اہم ہے۔انہوں نے بتایا کہ ازبکستان اور پاکستان میں پہلے بھی بہت سے معاہدے ہوئے ہیں تاہم بدقسمتی سے وہ اس طرح آگے نہیں بڑھ سکے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے ہم آگے لے کر جائیں گے اور انہیں دوبارہ بحال کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کی دعوت پر جمہوریہ ازبکستان کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل وکٹر مخمودوف کی قیادت میں 5رکنی وفد پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچا تھا۔اپنے دورے کے دوران لیفٹیننٹ جنرل مخمودوف وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے کے لیے ازبک وفد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کارگو ٹرکوں کی نقل و حمل سے متعلق طورخم سرحد کا بھی دورہ کرے گا جہاں اسے متعلقہ حکام بریفنگ دیں گے۔پاکستان آمد پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لیفٹیننٹ جنرل مخمودوف کا استقبال قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور نیشنل سکیورٹی ڈویژن کے سینئر حکام نے کیا تھا۔

معید یوسف

مزید :

صفحہ اول -