رحمان ملک کا وزیراعظم عمران خان اور فیٹف کے صدر کو خط ، بڑا مطالبہ کردیا 

رحمان ملک کا وزیراعظم عمران خان اور فیٹف کے صدر کو خط ، بڑا مطالبہ کردیا 
رحمان ملک کا وزیراعظم عمران خان اور فیٹف کے صدر کو خط ، بڑا مطالبہ کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز سینیٹر رحمان ملک نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے فیٹف کے امتیازی سلوک اور پاکستان کے ساتھ مسلسل ناانصافی کے خلاف عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں درخواست دائر کرنےکامطالبہ کیاہے۔صدر فیٹف ڈاکٹرمارکس پلیئر کوعلیحدہ خط میں،اُنہوں نےپاکستان کےساتھ امتیازی سلوک پرشدید تحفظات اورردعمل کااظہار کیااوربھارت کے خلاف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کرنے اور فیٹف کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کے بھارتی وزیر خارجہ کی اعترافی بیان کی تحقیقات کیلئے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹر رحمان ملک نےپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم و صدر فیٹف کو لکھے گئے خطوط صحافیوں میں تقسیم کئے۔وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے خط میں رحمان ملک نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی جانب سے پاکستان کو مسلسل نشانہ بنایا جانا پاکستانی عوام کے لیے انتہائی تشویش کاباعث ہےکیونکہ اس سےنہ صرف ملکی معیشت بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کوبھی نقصان پہنچ رہا ہے، پاکستان جون 2018ء سے گرے لسٹ میں ہے اور ہر اجلاس میں فیٹف فیصلہ کرتا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں برقرار رہے گا،اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ کچھ دشمن ممالک فیٹف کو پاکستان کیخلاف اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے بطور آلہ استعمال کر رہے ہیں۔ 

وزیراعظم کو  لکھے گئےخط میں رحمان ملک کا کہنا تھا  کہ یہ پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک ہے، خاص طور پر جب فیٹف کے مطالبات کو پورا کرنے میں ہماری تعمیل 88 فیصد سے زیادہ ہے، یہ قابل افسوس کہ عدم تعمیل کے باوجود دوسرے کئی ممالک کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے جیسا کہ امریکہ کا 22.5فیصد، فرانس 25فیصد، اسرائیل 12.5فیصد، اور جاپان کا 27.5فیصدکا فیٹف کی ڈیمانڈ پر عدم تعمیل ہے، بھارت فیٹف کی طرف سے دیئے گئے اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، پاکستان کو یہ جاننے کا حق ہے کہ پاکستان کے خلاف یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا گیا ہے؟۔ انھوں نے اپنے خطوط میں سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کو بطور شکایت کنندہ کیسے قبول کیا جا سکتا ہے جو خود 22.5 فیصد فیٹف کی تعمیل نہیں کر رہا ہے۔ 

انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ فیٹف کیجانب سے جانبدارنہ اور امتیازی سلوک کیخلاف پاکستان کو جارحانہ پالیسی اختیار کرنا چائیے، وزیر اعظم عمران خان وزارت قانون اور وزارت خارجہ کو فیٹف کے جانبدارنہ، امتیازی سلوک اور پاکستان کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے خلاف عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں پٹیشن/شکایت دائر کرنے کی ہدایت کریں، فیٹف پاکستان کو گرے لسٹ میں اس وقت تک شامل رکھتا رہے گا جب تک کہ ہم انصاف کے لیے عالمی عدالت انصاف میں نہیں جاتے۔ 

صدر فیٹف ڈاکٹر مارکس پلیئر کو لکھے گئے اپنے الگ خط میں رحمان ملک نے بھارتی وزیر خارجہ کے اعترافی بیان کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے جس میں انھوں نے دعوی کیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا یقینی بنایا ہے،پاکستان کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا کیا گیا ہے جبکہ فیٹف کی عدم تعمیل کے زیادہ فیصد والے ممالک کو گرے لسٹ میں نہیں رکھے گئے ؟فیٹف کی امتیازی سلوک کیوجہ سے ہماری معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھوں صدر فیٹف سے پوچھا ہے کہ جو ملک خود فیٹف کی قوانین کی پاسداری نہیں کرتے کیسے دوسرے ملک کے خلاف شکایت کنندہ ہو سکتے ہیں؟ باقی دنیا بھی جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا شکار رہا ہے جو درحقیقت امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ تھی۔ 

سابق وزیرداخلہ نے اپنے خط میں لکھا کہ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں رکھنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے،بھارتی وزیر خارجہ کے اعتراف نے فیٹف کی دیانتداری اور شفافیت پر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے،بدقسمتی سے، فیٹف نے ابھی تک بھارتی وزیرخارجہ  کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی ہے اور نہ تردیدی بیان جاری کیا ہے،میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ، اور جوہری پھیلاؤ کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کے واضح ثبوتوں کے باوجود، بھارت کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

مزید :

قومی -