و ہ نفرت کی تیز آندھیوں میں اکیلا کھڑا رہا اور پوری استقامت کے ساتھ

و ہ نفرت کی تیز آندھیوں میں اکیلا کھڑا رہا اور پوری استقامت کے ساتھ
و ہ نفرت کی تیز آندھیوں میں اکیلا کھڑا رہا اور پوری استقامت کے ساتھ

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:21

اسپائی نوزا نے اپنی تکفیر کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس تکفیر اور لعنت زدگی سے میں کوئی ایسی بات کرنے پر مجبور نہیں ہوں جو میں نہیں کرنا چاہتا۔“ مگر ظاہر ہے یہ ایک دلیر آدمی کا فوری ردعمل تھا۔ حقیقتاً اب ایک نوجوان طالب علم اور فلسفی بے یارو مددگار تھا اور اکیلا اور چاروں طرف سنسناتی تنہائی کا شور۔ وہ چاہتا تو ذہنی اذیت سے بچنے کے لیے کوئی اور مذہب اختیار کر لیتا۔ اس طرح نہ صرف اس پر ہر طرح کی نعمتوں کے دروازے کھل جاتے بلکہ وہ ایک بلند مقام بھی حاصل کر لیتا لیکن اس نے ایسا کوئی راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ نفرت کی تیز آندھیوں میں اکیلا کھڑا رہا اور پوری استقامت کے ساتھ… اب حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ شخص جس کا نام و نشاں حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کی کوشش کی گئی تھی، اس کی تحریریں اعلان تکفیر کے بعد زیادہ اشتیاق سے ڈھونڈی اور پڑھی گئیں۔

اسپائی نوزا کی برادری نے تو اسے چھوڑ ہی دیا تھا۔ ان برے حالات میں اس کے اپنے گھر والے بھی اس کے خلاف ہو گئے… ہوا یوں کہ تکفیر کے اس واقعے سے 2سال قبل اسپائی نوزا کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ اب ان حالات میں اس کو کمزور اور بے یارومددگار جان کر اسپائی نوزا کی اپنی بہن ربیکا (Rebekah) اس کو عدالت میں گھسیٹ کر لے گئی اور اس بات کا دعویٰ کر دیا کہ وہ والد کی ساری جائیداد کی حقیقی وارث ہے۔ بطور ایک درویش اسپائی نوزا اس طرح کے مالی مفادات کی طمع سے بلند تر تھا مگر وہ فلسفی بھی تھا اور یہ اس کی توہین تھی کہ اس کو دلیل کی قوت سے شکست دی جائے۔ سو، اس نے عدالت میں اپنے کیس کا بھرپور دفاع کیا اور مقدمہ جیت لیا، مگر بعد میں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری جائیداد سے اپنی مقدمہ باز بہن کے حق میں دست بردار ہو گیا۔

تنہائی اور بے روزگاری نے اسپائی نوزا کو اپنے پرانے دوست وان ڈن اینڈن کے ساتھ رہنے پر مجبور کر دیا۔ وان ڈن اینڈن اپنے گھر میں ایک پرائیویٹ سکول چلاتا تھا۔ اسپائی نوزا نے اس سکول میں پڑھا کر روزی کمانے کا فیصلہ کیا۔ انہی دنوں وہ وان ڈن اینڈن کی بیٹی کلارا ماریہ (Clara Maria) کی محبت میں گرفتار ہوا، جو اپنے باپ کے سکول میں موسیقی کی کلاسیں لیتی تھیں۔ یہ اسپائی نوزا کے جوانی کے دن تھے۔ اگرچہ بعد کے ایام میں اسپائی نوزا نے ذرا عجیب سا حلیہ بنا لیا تھا، مگر ہم اگر اسپائی نوزا کی ان دنوں کی تصویریں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ میانے قد کا ایک نوجوان تھا اور اس کے نقش و نگار بھی برے نہیں تھے۔ رنگ کسی قدر سانولا تھا، بال گھونگھریالے تھے اور سیاہ تھے اور بھنویں خوب لمبی تھیں۔ خیر، کلارا بھی کوئی زیادہ خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ حسِ مزاح رکھنے والی خوش طبع خاتون تھی مگر اصل بات یہ ہے کہ اس لڑکی نے ہمارے غریب فلسفی کو ٹھکرا کر ایک امیر لڑکے سے شادی کرکے کہانی کو اس کے انجام تک پہنچا دیا۔ 

دوسرے ذرائع یہ کہہ کر اسپائی نوزا کی داستانِ محبت کو مسترد کر دیتے ہیں کہ کلارا اس وقت صرف 12 سال کی لڑکی تھی اور ویسے بھی اسپائی نوزا جنسی طور پر غیر فعال مرد تھا۔ خیر، اصل کہانی جو بھی ہو، اسپائی نوزا کی کلاریہ سے نام نہاد محبت کا باب اس وقت مکمل طور پر بند ہو گیا جب سکول کے ہیڈ ماسٹر کے اچانک غائب ہونے سے وان ڈن اینڈن کو اپنا سکول بند کرنا پڑ گیا۔

سکول تو بند ہو گیا، مگر پیٹ کا دوزخ تو کسی طرح بھرنا تھا۔ سو، اب اسپائی نوزا نے عدسے (Lenses) صیقل کرنے کا فن سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عدسے دوربینوں (Telescopes) خوردبینوں (MicroScopes) اور عینکوں میں استعمال ہوتے تھے اور ان دنوںہالینڈ میں ان کا کاروبار عروج پر تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپائی نوزا نے اس فن میں مہارت حاصل کر لی تھی اور اس کے صیقل کیے ہوئے عدسوں کی مارکیٹ میں مانگ تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان دنوں جب ایمسٹرڈیم میں مشہور لوگوں کی چھوڑی ہوئی یادگاری (Mementos) چیزوں کو خریدنے کا رواج فیشن کا درجہ حاصل کر گیا تھا، قدیمی کلاسیکی چیزیں (Antique) بیچنے والے ایک ڈیلر کارنیلیس (Carnelius) نے یہودی کاروباری حضرات اور جرمن پروفیسروں کو اسپائی نوزا کے صیقل کیے ہوئے عدسے بیچ کر خوب رقم بنائی۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -