کمرے اتنے تاریک تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا

 کمرے اتنے تاریک تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا
 کمرے اتنے تاریک تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : اپٹون سنکلئیر
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
 قسط:64
گھر کا ایک فرد گوشت ڈبوں میں بند کرنے کے کارخانے میں اور دوسرا ساسج فیکٹری میں ہونے کی وجہ سے انہیں پیکنگ ٹاؤن کی چالاکیوں کی حقیقت پتا چلنے لگی۔ انھوں نے دیکھا کہ جو گوشت خراب ہوجاتا اور کسی استعمال کے لائق نہ رہتا، اسے کوٹ کر ڈبا بند کردیا جاتا یا ساسجز میں بھر دیا جاتا۔ جو کچھ یونس نے انہیں بتایا تھا وہ سب کچھ اب ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔گندے اور خراب گوشت کی صنعت کو وہ اب اندر سے دیکھ رہے تھے۔ ان پر اس پرانے لطیفے کے نئے مفاہیم کھلنے لگے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ یہاں سؤر کی آواز کے علاوہ ہر چیز استعمال ہوجاتی ہے۔
یونس نے انہیں بتایا تھا کہ جو گوشت اچار سے نکالا جاتا وہ اکثر کھٹّا اور خراب ہوچکا ہوتا۔ اسے سوڈے سے اچھی طرح دھو کر بد بو ختم کی جاتی اور مفت کھانے کے کاؤنٹر چلانے والوں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا۔ کیمسٹری کی کرامات سے وہ کسی بھی گوشت کو چاہے وہ تازہ ہو یا نمک لگا، ثابت ہو یا کٹا ہوا، کوئی بھی رنگ، ذائقہ اور بُو دے لیتے تھے۔ سؤر کے گوشت کو اچاری (pickle) کرنے کے لیے ان کے پاس حیران کن آلات تھے، جن کی وجہ سے وہ وقت کی بچت کے علاوہ کام کی رفتار بھی بڑھا سکتے تھے۔ ایک مشین تھی جس میں ایک کھوکھلی سُوئی پمپ کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ مزدور یہ سوئی گوشت میں گھسیڑ کر پاؤں سے بٹن دباتا اور سؤر کے گوشت کوچند سیکنڈ میں اچار سے بھر دیتا۔ اس کے باوجود بہت سا گوشت خراب ہوجاتا اور اس سے اتنی بری بد بو آتی کی اس کمرے میں ٹھہرنا مشکل ہوجاتا۔گوشت کو اچاری بنانے کے لیے ان کے پاس صرف ایک سیکنڈ اور بے حد تیز اچاری پانی ہوتا جو بدبو کو ختم کرتا تھا۔ اسی طرح گوشت کو دھوانسا (smoked ) کرنے کے بعد کچھ نا خراب گوشت رہ جاتا۔ پہلے تو اسے” درجہ تین “ کہَہ کر فروخت کیا جاتا تھا پھر کسی ذہین آدمی کے ہاتھ ایک نئی مشین لگ گئی چنانچہ اب گوشت سے ہڈیاں الگ کر لی جاتیں، کیوں کہ زیادہ تر خراب گوشت انہی کے ساتھ لگا ہوتا تھا، اور اس کے بعد دہکتا ہوا لوہا گوشت میں داخل کیا جاتا۔ اس دریافت کے بعد درجہ اوّل، درجہ دُوَم اور درجہ سِوَم کی تفریق ختم ہوگئی۔۔۔ اور صرف ”درجہ اوّل “ رہ گیا۔ پیکرز ہمیشہ نئی نئی ترکیبیں سوچتے رہتے تھے۔ جسے وہ بغیر ہڈی کا گوشت کہتے تھے اس میں گوشت کی ہر الا بلا بھر دی جاتی تھی۔ ”کیلیفورنیا ہیم “ میںکندھے اور جوڑوں کے سوا گوشت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی اور مقبول ترین ” سکنڈ ہیم “ (skinned hams)بوڑھے ترین سؤروں کے گوشت سے بنتا تھا۔ وہ اتنے بوڑھے ہوتے اور ان کی کھال اتنی موٹی ہوتی کہ کو ئی انہیں خریدتا نہیں تھا۔ انہیں پکا کر اور باریک کُوٹ کر، ”ہیڈ چیز“ (head cheese)کا لیبل لگا کر بیچ دیا جاتا۔
جب سارا گوشت سڑ جاتا تھا تب کہیں جا کر وہ الزبیٹا کے شعبے میں آتا تھا۔تیز نشتروں والی باریک قیمہ کرنے کی مشین میں پِس کر اور آدھ ٹن صحیح گوشت میں مل کر اس کی بدبو ختم ہوجاتی۔ اس بات کی ذرہ بھر پروا ہ نہیں کی جاتی تھی کہ ساسج میں کیا ڈالا جارہا ہے۔ سارے یورپ سے پرانے اور مسترد شدہ ساسج واپس آتے جنہیں پھپھوندی لگی ہوتی تھی۔ انہیں بورکس اور گلیسرین لگا کر ایک برتن میں ڈال دیا جاتا اور بعد میں گھریلو استعمال کے لیے تیار کرکے دوبارہ فروخت کردیا جاتا۔ وہاں ایسا گوشت ہوتا تھا جو فرش پر پڑا رہتا تھا۔ اس فرش پر جہاں گردوغبار کے علاوہ مزدور سارا وقت جوتے پہن کر چلتے اور ہزاروں بار تھوکتے ہوئے تپِ دق کے جراثیم پھیلاتے تھے۔ کمروں میں گوشت کے ڈھیر لگے رہتے تھے جن پر چھتوں سے ٹپکنے والا پانی گرتا رہتا تھا اور لاتعداد چوہے اس پر ہر وقت بھاگتے پھرتے نظر آتے تھے۔ یہ کمرے اتنے تاریک تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا لیکن مزدور گوشت اٹھانے جاتے تو اندھیرے میں اندازے سے ہاتھ پھیر کر گوشت کے اوپر سے چوہوں کی مینگنیں ہٹا لیتے۔ یہ چوہے اچھی خاصی مصیبت تھے۔ ان سے جان چھڑوانے کے لیے مالکان روٹی میں زہر ملا کر اِدھر اُدھر ڈلواتے رہتے۔ چوہے مرتے تو روٹیوں اور گوشت کے ساتھ قیمے والی مشین میں چلے جاتے۔یہ نہ کوئی کہانی ہے نہ لطیفہ، حقیقت یہی ہے کہ جب مزدور بیلچے بھر بھر کر گوشت گاڑیوں میں لادتے تو وہ،دکھائی دینے پر بھی، چوہے نکالنے کی زحمت نہیں کرتے تھے۔ دراصل جو کچھ ساسج میں جاتا تھا اس کے سامنے تو زہریلے چوہے کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی۔ وہاں ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں لوگ کھانے سے پہلے ہاتھ دھو سکیں چنانچہ وہ اسی پانی میں ہاتھ دھو لیتے جو ساسجز میں ڈالنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ دھوانسے بڑے گوشت (smoked beef ) کے ٹکڑے، پکا کر محفوظ کیے گئے بڑے گوشت ( corned beef) کے چھیچھڑے اور سارے پلانٹ کا گند بلا اس میں ڈل جاتا تھا۔ مالکان بچت کے اصول پر سختی سے عمل کرتے تھے۔ بعض کام ایسے تھے جنہیں کرنے کے لیے شاذو نادر ہی کسی کو پیسے دیے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک کوڑے کے پیپوں کی صفائی کا عمل تھا۔ موسمِ بہار میں یہ صفائی کی جاتی تھی۔ ہر پیپے میں مٹی، زنگ، پرانے کیل اور نمکین پانی جمع رہتا۔ یہ سب کچھ چھکڑوں میں بھر بھر کر ساسج والی مشینوں میں تازہ گوشت کے ساتھ ملا دیا جاتا، جہاں سے یہ عوام کے ناشتے کے لیے بھجوادیا جاتا۔ اس میں سے کچھ کو سموکڈ ساسجز میں استعمال کرلیا جاتا۔ لیکن چوں کہ سموکنگ ایک لمبا اور مہنگا کام تھا اس لیے کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کی مدد لی جاتی۔ اسے بورکس لگا کر محفوظ کیا جاتا اور بھورا رنگ دینے کے لیے جیلےٹن استعمال کی جاتی۔سارے ساسج ایک ہی جگہ سے بن کر نکلتے تھے لیکن جب پیکنگ کا وقت آتا تو ان میں کسی پر ” سپیشل“ کا ٹھپا لگا دیا جاتا اور اس کی قیمت فی پاؤنڈ دو سینٹ زیادہ وصول کی جاتی۔( جاری ہے ) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -