پولیس مقابلہ میں جاں بحق کانسٹیبل کو شہید کا درجہ دینے کاحکم 

پولیس مقابلہ میں جاں بحق کانسٹیبل کو شہید کا درجہ دینے کاحکم 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پولیس مقابلہ میں جاں بحق سیف اللہ نامی کانسٹیبل کو شہید کا درجہ دینے کاحکم دے دیاہے،عدالت نے قراردیا کہ صرف شہید کی مراعات بچانے کیلئے پولیس افسران ایسے فیصلے کیوں کرتے ہیں جو قابل قبول نہیں،جوزخم کانسٹیبل کی موت کا باعث بنے وہ پولیس مقابلے کے دوران ہی لگے تھے،پولیس افسروں نے مراعات کاپیسہ کس لئے بچانا ہے،کیا درخواست گزار کو افسروں نے اپنی جیب سے مراعات دینی ہیں؟جو ایسے فیصلے کررہے ہیں،خداناخواستہ کل کو ایسا معاملہ کسی افسرکیساتھ بھی ہوسکتا ہے،عدالت نے مذکورہ بالاریمارکس اور حکم کے ساتھ کانسٹیبل کو شہید کا درجہ دینے کی درخواست نمٹا دی،قبل ازیں سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ پولیس مقابلہ سال 2017 میں ہوا،اس واقعہ کے6سال بعد اسی زخم کوبنیاد بناکرفوت ہونیوالے کانسٹیبل کو شہید نہیں کہا جاسکتا،درخواست گزارکاموقف تھاکہ ڈکیتوں سے مقابلے کے دوران تھانہ اے ڈویژن اوکاڑہ کے کانسٹیبل سیف اللہ کوپیٹ میں گولیاں لگیں،کانسٹیبل چھ سال بستر مرگ پر رہا جس کے بعد وہ وفات پاگیا،عدالت سے استدعاہے کہ وفات پانیوالے کانسٹیبل کو شہید کادرجہ دینے اورمراعات جاری کرنے کا حکم دیاجائے۔

 شہید کا درجہ

مزید :

صفحہ آخر -