معاشی استحکام کیلئے پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے، چینی  صدر، سی پیک منصوبوں پر کام تیز چین کی ٹرین ٹیکنالوجی پاکستان منقل کرنیکا فیصلہ 

معاشی استحکام کیلئے پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے، چینی  صدر، سی پیک منصوبوں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


    بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان کو معاشی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے چین نے ایک مرتبہ پھر مدد کا فیصلہ کر لیا۔چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کی کوششوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے، ہمیں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور گوادر بندرگاہ کے منصوبوں میں تیزی لانی چاہیے۔چین کا پہلی بار اپنی ٹرین ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرے گاچینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین تیز رفتار ٹرین کی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرے گا، ٹرین 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، 46 بوگیاں کل کراچی روانہ ہو نگی، 184 بوگیاں پاکستان میں بنائی جائیں گی، چین پہلی بار اپنی ٹرین ٹیکنالوجی کسی اور ملک کو منتقل کر رہا ہے۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں مرکزی کمیٹی کا دوبارہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی۔انہوں نے ملک میں ہولناک سیلاب سے ہونے والی تباہی کے تناظر میں پاکستان کی امداد، بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں چین کی گراں قدر مدد پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا جو ہر آزمائش میں پورا اتری ہے۔ دونوں ممالک امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے اپنے مشترکہ وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مضبوطی سے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔چین کے ساتھ پاکستان کے منفرد تاریخی تعلقات اور علاقائی امن واستحکام کے لیے دوطرفہ دوستی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی پاکستان میں سیاسی سطح پر مکمل اتفاق رائے رکھتی ہے اور یہ بین الریاستی تعلقات کا ایک نمونہ ہے۔شہباز شریف نے چین کی خوشحالی کے لیے صدر شی جن پنگ کی قیادت اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان کے وژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین کی سماجی و اقتصادی ترقی اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے قومی عزم سے تحریک ملی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دفاع، تجارت وسرمایہ کاری، زراعت، صحت، تعلیم، گرین انرجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری سمیت متعدد امور پر تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے سی پیک کے لیے اپنی باہمی وابستگی کا اعادہ کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ سی پیک کی اعلیٰ معیاری ترقی پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سٹریٹجک اہمیت کے منصوبے کے طور پر دونوں فریق سی پیک کے فریم ورک کے تحت ایم ایل ون کو ابتدائی ہارویسٹ منصوبے کے طور پر شروع کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔انہوں نے کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور کراچی سرکلر ریلوے کے جلد آغاز کے لیے تمام رسمی کارروائیوں کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔انہوں نے دورے کے دوران دوطرفہ تعاون کی وسیع امور کا احاطہ کرنے والے متعدد معاہدوں پر دستخطوں کو بھی سراہا۔صدر شی جن پنگ نے یقین دلایا کہ چین پائیدار اقتصادی ترقی اور جیو اکنامک مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان میں سیلاب کے بعد کی امداد اور بحالی کی کوششوں کے لیے500 ملین یوان کے اضافی امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی ماحول میں تیزی سے تبدیلی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جس نے ترقی پذیر ممالک کے لیے اقتصادی چیلنجوں کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے برابری اور باہمی فائدے پر مبنی بات چیت اور تعاون پر اپنے مشترکہ یقین کی توثیق کی جو عالمی امن اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے عصری چیلنجوں کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق ریاستوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔شہباز شریف اور صدر شی جن پنگ نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال سمیت خطے سے متعلق اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی سلامتی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سی پیک کی افغانستان تک توسیع سے علاقائی رابطوں کے اقدامات کو تقویت ملے گی۔وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی پرتپاک دعوت بھی دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ اس سے قبلاس سے قبل پاکستان اورچین نے سی پیک منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور سی پیک کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ یہ اتفاق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات میں ہوا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف جو چین کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ہیں، نے عظیم عوامی ہال میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور اور باہمی تعاون بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور سی پیک کو وسعت دینے پراتفاق کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کوعظیم عوامی ہال میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
چینی صدر

 بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر چینی کمپنیوں نے پاکستان میں مشترکہ منصوبوں بالخصوص شمسی توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا یقین دلایا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی صف اول کی کمپنیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کو 10 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے اور بلوچستان میں کام کرنے والی کمپنیوں کو گوادر ہوائی اڈے پر کام کی رفتار تیز کر کے منصوبہ رواں سال مکمل کرنے پر اصرار کیا ہے،چینی کمپنی نے وزیراعظم شہباز شریف کو اگلے سال کی ابتدا میں گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کی تکمیل کی یقینی دہانی کرائی۔وزیراعظم شہباز شریف کا چینی کمپنیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آگاہ ہوں کہ ماضی میں بہت سے مسائل آئے جس پرمعذرت خواہ ہیں، 11 اپریل 2022 کو اقتدار سنبھالنے کے بعد کمپنیوں کو درپیش مسائل حل کئے، چینی کمپنیوں کو واجب الادا 160 ارب روپے کی ادائیگی کر چکے ہیں، 50 ارب روپے گزشتہ روز ادا کر دیئے گئے ہیں اور 50 ارب روپے سے ریوالونگ فنڈ بنا دیا گیا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک نے ریوالونگ اکاؤنٹ بنا دیا، ادائیگیوں کے ساتھ ہی مزید 50 ارب روپے اس میں شامل ہو جائیں گے، چینی درآمدی کوئلے کی ادائیگیوں میں ماضی میں مسائل آئے جس پر افسوس ہے، دیامر بھاشا منصوبے میں اراضی کے حصول کے مسائل کو حل کریں گے، چینی بھائیوں، بہنوں کے جاں بحق ہونے کے واقعات پر بے حد دکھ اور افسوس ہے، مجرموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، انہیں مثالی سزا ملے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی باشندوں کی بہترین سکیورٹی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے، ہمیں چینی بھائی بہنوں کی سلامتی اپنے بھائی بہنوں کی طرح عزیز ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا مہمند ڈیم سے متعلق بعض مسائل کیوں آئے؟ معلوم کر کے ان مسائل کو حل کرائیں گے، دو کروڑ لوگوں کے شہر کراچی میں فراہمی آب کا بہت بڑا مسئلہ ہے، سندھ حکومت کے ہمراہ آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہوں، شمسی توانائی سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا جامع پلان بنایا ہے، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہوں، ایندھن کی لاگت کم کر کے تیل و گیس پربھاری غیرملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات فروغ پائیں، ایم ایل ون اور دیگر منصوبوں میں دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے  میری  چینی قیادت  کے ساتھ بہت ''سیر حاصل '' ملاقاتیں ہوئیں،سی پیک  کے تحت  ہم پشاور سے کراچی  ایم ایل ون  اور  کراچی سرکلر ریلوے منصوبے   پر توجہ مرکوز کریں گے، سی پیک  کے تحت کو ل  پاور پراجیکٹس کے برعکس، سولر پراجیکٹ کا طریقہ کار مختلف ہو گا، ضمانت اور تیسرے فریق کے پاس جا ئے بغیر   60 دنوں کے اندر اندر  ادائیگیاں ہوں گی۔گوادر پرو کے مطابق   11 ویں  سی پیک  جوائنٹ کوآپریٹو کمیٹی (جے جے سی) نے سی پیک کی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا اور اسے مستحکم کیا ہے۔ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے بدھ (2 نومبر) کو منعقدہ چین پاکستان بزنس فورم میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب ہم اپنے  سی پیک  تعاون میں تازہ عناصر داخل کرنے کے راستے پر ہیں۔ یہ فورم ان کے دورہ چین کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ گوادر پرو کے مطابق  کانفرنس میں آن لائن شرکت کرنے والے 400 سے زائد چینی کاروباری اداروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے کہا  کہ آج صبح میری  چینی فریق کے ساتھ بہت ''سیر حاصل '' ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت  ہم پشاور سے کراچی  ایم ایل ون منصوبے اور  کراچی سرکلر ریلوے  پر توجہ مرکوز کریں گے۔   گوادر پرو کے مطابق شہبازشریف نے چینی اداروں کو سی پیک کے تحت شمسی توانائی اور دیگر سبز توانائی، زراعت، آئی ٹی اور اے آئی میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی۔ وزیر اعظم نے کہا  سی پیک  کے تحت کو ل  پاور پراجیکٹس کے برعکس، سولر پراجیکٹ کا طریقہ کار مختلف ہو گا، ضمانت   اور  تیسرے فریق کے پاس جا ئے    بغیر    60 دنوں کے اندر اندر  خودمختار گارنٹی، جی ٹو  جی  (گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ) کمپنیاں یا  جی ٹو جی  سرمایہ کاری اور ادائیگیاں ہوں گی۔گوادر پرو کے مطابقچینی میڈیا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں، شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) بین الاقوامی برادری کے لیے ایک اعزاز ہے اور بی آر آئی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی  اور  سی پیک سے خطے میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔
شہباز شریف+


 بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ چین اور چینی قیادت سے ملاقاتوں کا 47نکاتی اعلامیہ جاری کردیاگیا ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیراعظم لی کی کیانگ سے بھی ملاقات کی۔اس کے علاوہ نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین  لی ژانشو سے بھی ملاقات کی۔وزیر اعظم نے چینی کمیونسٹ پارٹی (CPC) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد پیش کی، ان کی قیادت، دانشمندی، وڑن اور ترقی کے عوام پر مبنی فلسفے کی تعریف کی اور ان کے تعاون کو سراہاوزیر اعظم شہباز شریف نے پاک چین موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے اور تمام شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقین نے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی سیاسی منظر نامے پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کے پیش نظر چین پاکستان کے درمیان تمام موسموں پر پورا اترنے والی اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ ملاقاتوں میں روایتی گرمجوشی، باہمی سٹریٹجک اعتماد اور مشترکہ خیالات کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین اور پاکستان کے درمیان قریبی سٹریٹجک تعلقات اور گہری دوستی وقت کی آزمائش پر پورا اترتی ہے۔ چین کی طرف سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح دی جائے گی۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین تعلقات اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں اور پاکستانی عوام ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کی حمایت کرتے ہیں۔ فریقین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر اپنی باہمی حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، ہانگ کانگ، سنکیانگ اور تبت کے مسائل پر ون چائنا پالیسی اور حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور اس کی سماجی و اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ چینی قیادت نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔۔ دونوں فریقین نے وزیر خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تین سیشنوں کے نتائج کا اطمینان کے ساتھ جائزہ لیا اور اس کی اگلی میٹنگ 2023 کے پہلے نصف میں اسلام آباد میں جلد از جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے سٹریٹجک مواصلات کو گہرا کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون کے مختلف میکانزم کے کلیدی کردار کو نوٹ کیا اور ترجمانوں کے ڈائیلاگ اور ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق مشاورت کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کی کامیابی کو اجاگر کیا، جو کہ بی آر آئی کے تحت ایک اہم منصوبہ ہے، پاکستان کی اقتصادی معاشرتی ترقی۔ رہنماؤں نے 27 اکتوبر 2022 کو 11ویں سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) کے اجلاس کا نوٹس لیا، جس میں جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور CPEC کی اعلیٰ معیار کی ترقی کی رفتار کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اعلامیہ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ML-1 CPEC فریم ورک کے تحت کلیدی اہمیت کا حامل اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، فریقین نے قائدانہ اتفاق رائے پیدا کرنے اور اس کے جلد از جلد نفاذ کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کراچی سرکلر ریلوے کو فعال طور پر آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے ایک فوری ضرورت تھی۔ گوادر بندرگاہ کی اہمیت کو CPEC کے اہم منصوبے اور کراس ریجنل کنیکٹیویٹی میں ایک اہم نوڈ کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، دونوں اطراف نے کلیدی منصوبوں کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور گوادر بندرگاہ کے دیگر متعلقہ منصوبوں پر پیش رفت کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ زون16 CPEC کے تحت زراعت، کان کنی، آئی ٹی، سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کے لیے قیادت کے اتفاق رائے کے مطابق، فریقین نے اس سال کے شروع میں شروع کیے گئے صحت، صنعت، ڈیجیٹل اور گرین کوریڈورز پر مزید تعمیر پر اتفاق کیا۔ متعلقہ تعاون کو انجام دیں۔ چین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو بھرپور طریقے سے تیار کرنے کی کوششوں کو سراہتا ہے جن میں شمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں جو توانائی کے شعبے کی سبز، کم کاربن اور ماحولیاتی ترقی سے ہم آہنگ ہیں، اور اس پاکستانی کوشش میں چینی کمپنیوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ فریقین نے پاکستان کی صنعتی ترقی میں معاونت کے لیے صنعتی تعاون کے فریم ورک معاہدے کے نفاذ کو فعال طور پر فروغ دینے پر اتفاق کیا۔فریقین نے CPEC اور پاک چین دوستی کے خلاف تمام خطرات اور ڈیزائنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان نے پاکستان میں تمام چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت اور حفاظت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ چینی فریق نے اس سلسلے میں پاکستان کے مضبوط عزم اور بھرپور اقدامات کو سراہا۔ 2023 میں CPEC کی نمایاں کامیابیوں کی ایک دہائی کی تکمیل کو نوٹ کرتے ہوئے فریقین نے دونوں ممالک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں CPEC کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ فریقین نے نوٹ کیا کہ CPEC جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے بین الاقوامی تعاون اور رابطہ (ICC) کی حالیہ میٹنگ نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ CPEC ایک کھلا اور جامع پلیٹ فارم ہے۔ فریقین نے دلچسپی رکھنے والے تیسرے فریق کا CPEC تعاون کے ترجیحی شعبوں جیسے صنعت، زراعت، آئی ٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تیل و گیس میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا خیرمقدم کیا۔ فریقین نے پاک چین آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آپریشنل ہونے کے بعد سے دو طرفہ تجارتی حجم میں مسلسل اضافے کو نوٹ کیا۔ فریقین نے CPFTA کے دوسرے مرحلے کے تحت تجارتی لبرلائزیشن کو بڑھانے کے لیے مزید ہم آہنگی کا عزم کیا اور اشیاء کی تجارت سے متعلق کمیٹی کا جلد اجلاس بلانے پر اتفاق کیا۔ چینی فریق نے چین کو برآمدات بڑھانے میں پاکستانی فریق کی فعال مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور پاکستان سے معیاری اشیا بشمول خوراک اور زرعی مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں داخل کرنے کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان کے برآمدی شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا گیا جو پائیدار دوطرفہ تجارتی ترقی کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔ فریقین نے دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مشترکہ مطالعہ کرنے پر اتفاق کیا۔فریقین نے خنجراب سرحدی بندرگاہ پر سہولیات کو اپ گریڈ کرکے اور سرحدی علاقوں میں وبائی امراض پر قابو پانے اور کسٹم کلیئرنس کے حوالے سے تعاون کو مضبوط بنا کر زمینی تجارت اور تبادلے سے مکمل فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے چار فریقی ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (کیو ٹی ٹی اے) کے نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا، جو کہ علاقائی رابطے کا ایک اہم ستون ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ  چین کی ای کامرس مارکیٹ کے بڑے سائز اور دوطرفہ تجارت کو مزید تقویت دینے کی اس کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے، فریقین نے ای کامرس پر ایک مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور چین کے ای کامرس پلیٹ فارمز پر پاکستان کے ملکی پویلین کے قیام کی مشترکہ حمایت کی۔ فریقین نے آن لائن ادائیگی کے نظام، لاجسٹکس، ویئر ہاؤسنگ اور کسٹمز کی سہولت پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اسٹارٹ اپس اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔فریقین نے نوٹ کیا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور ای کامرس پر چین پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ اور چائنا پاکستان پاورٹی ریڈیکشن اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ فورم کا پہلا اجلاس اس سال منعقد ہوا، اور فارماسیوٹیکل میں تبادلے اور ڈاکنگ سرگرمیاں زرعی اور جوتے بنانے والی صنعتوں کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی کے حوالے سے صلاحیت سازی کے کورسز کا انعقاد کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان فلائٹ آپریشن کی بتدریج بحالی کو نوٹ کرتے ہوئے، فریقین نے مقررہ وقت میں اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان براہ راست پروازوں کی تعدد میں مزید اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں اطراف نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان قریبی تعاون، اعتماد اور رابطے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیا۔ فریقین نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے انسداد دہشت گردی کے تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا تمام فریقوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے تمام تصفیہ طلب تنازعات کو مخلصانہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔اعلامیہ کے مطابق افغانستان کے بارے میں، فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک پرامن، خوشحال، ایک دوسرے سے جڑا ہوا اور مستحکم افغانستان علاقائی خوشحالی اور ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے چھ ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے تین اجلاسوں کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور ازبکستان میں ہونے والی اگلی میٹنگ کا انتظار کیا۔ فریقین نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے افغانستان کو مسلسل مدد اور مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس میں افغانستان کے بیرون ملک مالیاتی اثاثوں کو منجمد کرنا بھی شامل ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کے شعبے میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق رہنمائی کرنی چاہیے جس میں سیاسی آزادی، خودمختاری اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت شامل ہیں۔ فریقین نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک وجودی خطرے کے طور پر تسلیم کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے اور ان کے مطابق ڈھالنے کے لیے ٹھوس اور ٹھوس کوششیں کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ فریقین نے UNFCCC کے ساتھ ساتھ اس کے پیرس معاہدے کے اہداف، اصولوں اور دفعات کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا، خاص طور پر مشترکہ لیکن تفریق شدہ ذمہ داریوں (CBDR) کے اصول۔ فریقین نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کا موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے گہرا تعلق ہے جس کے لیے ترقی پذیر ممالک بہت کم ذمہ داری برداشت کرتے ہیں لیکن غیر متناسب اثرات کا شکار ہیں۔ فریقین نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں، اخراج میں کمی میں پیش رفت کریں تاکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ترقیاتی حقوق اور جگہ کو یقینی بنایا جا سکے، اور ترقی پذیر ممالک کو مناسب موسمیاتی فنانسنگ فراہم کی جائے۔ فریقین نے ای کامرس، ڈیجیٹل معیشت، زرعی مصنوعات کی برآمد، مالیاتی تعاون، ثقافتی املاک کے تحفظ، انفراسٹرکچر، سیلاب سے نجات، آفات کے بعد کی تعمیر نو کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا احاطہ کرنے والے متعدد معاہدوں /ایم او یوز پر دستخط کیے، GDI، جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے، معاش، ثقافتی تعاون، خلائی، جغرافیائی سائنس کے ساتھ ساتھ قانون کا نفاذ اور سیکورٹی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیہ

مزید :

صفحہ اول -