غیر سیاسی ہونے کافیصلہ کر لیا تو کرنسی چیز الیکشن کرانے سے روک رہی ہے؟ عمران خان 

  غیر سیاسی ہونے کافیصلہ کر لیا تو کرنسی چیز الیکشن کرانے سے روک رہی ہے؟ ...

  

     گکھڑ منڈی،گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی،  مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے 6 سوالوں کا جواب مانگتے ہوئے کہا ہے اگر الیکشن کا اعلان نہیں کیا گیا تو یہ تحریک اگلے 10 مہینوں تک چلتی رہے گی۔گکھڑ منڈی میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے، برطانوی ویب سائٹ اور برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو زدیتے ہو ئے عمران خان نے کہا میرے 6 سوال ہیں ان کے جوابات دیئے جائیں، جب میں وزیراعظم تھا تو امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو دھمکی کیوں دے رہا تھا؟ ارشد شریف کو باہر جانے پر کس نے مجبور کیا؟ کون ہے جو ملک میں ہماری آزادی لینا چاہتا ہے؟ چوتھا سوال کون ہے جنہوں نے اعظم خان سواتی اور شہباز گل کوبرہنہ کر کے تشدد کروایا؟،عمران خان نے کہا میرا پانچواں سوال ہے کہ وہ کون ہیں جو نامعلوم نمبروں سے لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں، چھٹا سوال کہ وہ کون ہیں جنہوں نے ان چوروں اور ڈاکوؤں کو ہمارے اوپر مسلط کیا ہے؟انہوں نے کہا کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ اسلام آباد پہنچ کر یہ تحریک ختم ہوجائے گی، یہ تحریک اگلے 10 مہینے تک چلتی رہے گی، جب تک الیکشن نہیں ہونگے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ابھی پریس کانفرنس ہوئی جس میں کہا ہم نیوٹرل اور غیرسیاسی ہیں تو میرا سوال یہ ہے اگر آپ نے نیوٹرل ہونے اور غیرسیاسی کا فیصلہ کرلیا ہے تو آپ کو صاف اور شفاف الیکشن کروانے سے کون سی چیز روک رہی ہے۔اس سے قبل گوجرانوالہ میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا اپنے دورِ حکومت میں میری پوری کوشش تھی 30 سال سے ملک کو لوٹنے والے چوروں کو کسی طرح سزا ہو لیکن خفیہ ہاتھ تھے جس کی وجہ سے انہیں سزا نہیں ہوتی تھی، اور ہم کچھ نہیں کر سکے کیونکہ نیب میرے ہاتھ میں نہیں تھا، جو نیب کو کنٹرول کر رہے تھے انہوں نے ان چوروں کو بچایا جو آج ہم پر مسلط کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا رانا ثناء اللہ کیخلاف کرپشن کیس میں ایک افسر تفتیش کر رہا تھا مگر پتا چلا اس افسر نے خودکشی کرلی جس کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا میں آگے جاکر یہ سوال کروں گا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے اورکیسے نے ان چوروں کے سارے کیسز ختم ہونا شروع ہوئے، این آر او ملنے لگا، مریم نواز بھی بری ہوگئیں جبکہ مریم کا پاپا (نواز شریف) بھی واپس آنے کی تیاری کر رہا ہے اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز بھی ختم ہوگئے۔ اگر قوم اپنے حقوق کیلئے کھڑی نہیں ہوتی تو ان کو جانوروں کی طرح رکھا جاتا ہے اور جانوروں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ سن لیں، نوازشریف جنر ل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔دریں اثناء برطانوی ویب سائٹ سے خصوصی گفتگو میں عمران خان نے کہا آرمی چیف کی تعینات میرٹ پر ہونی چاہیے، نواز شریف، آصف زرداری کو نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دو نو ں قوم کے مجرم ہیں۔ارشد شریف کے قتل تحقیقات میں اگر کمیشن بنتا ہے تو مجھ سمیت کئی افراد جانے کیلئے تیار ہیں، میں جانتا تھا سینئر صحافی کی جان کو خطرہ تھا، مرحوم مراد سعید کیساتھ رابطے تھے۔ میں نے ارشد شریف کو کہا جاؤ،مگر وہ جانا نہیں چاہتا تھا تو میں نے کہا باہر جا کر کم از کم تمہاری آواز بند نہیں ہو گی،لانگ مارچ کے بعد بھی اگر جلد انتخابات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کے سوال پر عمران خان نے کہا میں نے زندگی میں ہار نہیں مانی، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا مارچ کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ یہ ختم ہی نہیں ہو گا، جانا تو ہم نے اسلام آباد ہے لیکن اس کے بعد ہم کیا کریں گے وہ ابھی میں کسی کو نہیں بتا رہا مگر آئین و قانون کے مطابق رہیں گے۔فیصل واوڈا سے متعلق سوال عمران خان نے انتہائی ناگواری سے کہا میں اس کا نام ہی نہیں لینا چاہتا۔اسی طرح بی بی سی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس میں جھوٹ اور آدھا سچ بولا گیا اوربات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، آئی ایس آئی چیف کا پریس کانفرنس کرنا بدقسمتی ہے، کبھی آئی ایس آئی چیف اس طرح کی پریس کانفرنس نہیں کرتا۔ پریس کانفرنس میں کی گئی ہربات اورالزامات کا جواب دے سکتا ہوں، ہم نہیں چاہتے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچے۔ لانگ مارچ کا ایک ہی مقصد آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کا انعقاد ہے،ہم چاہتے ہیں پاکستان میں ایسی حکومت ہو جسے عوا م منتخب کریں۔ موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے کیلئے باہر سے رجیم چینج کا منصوبہ بنایا گیا،اس سلسلے میں سائفر منظر عام پر آ چکا ہے۔ عوام کیا چاہتے ہیں مجھے پتا ہے۔میں اب تک 55 جلسے کرچکا ہوں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے بڑے جلسے نہیں ہوئے۔ تاریخ میں کبھی اتنا بڑا اجتماع نہیں ہوا ہوگا جو اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -