پھل دار پودوں کی نشوونما، ”سوہانجنا“سے نیا محلول تیار

پھل دار پودوں کی نشوونما، ”سوہانجنا“سے نیا محلول تیار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان (سپیشل رپورٹر)صوبائی وزیر زراعت حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ”سوہانجنا“کے پودے پر بہاء الدین زکریایونیورسٹی کی جدید تحقیق نے جو راہیں متعین کی ہیں وہ نہ صرف قابل بیان ہیں بلکہ قابل ستائش بھی ہیں. بہاء الدین زکریایونیورسٹی کے شعبہ ایگرانومی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے تعاون سے منعقدہ سانجھی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر حسین جہانیاں نے مزید کہاکہ پرنسپل ڈاکٹر عذرا  یاسمین کی پندرہ(بقیہ نمبر17صفحہ7پر)
 سالہ تحقیق رنگ لے آئی ہے کہ جنوبی پنجاب میں پایا جانے والا ایک عام سا پودا جسے عرف عام میں ”سوہانجنا“ کہتے ہیں اس سے ایک ایسا محلول تیار کیا گیاہے کہ جو گندم، مکئی، کپاس سمیت تمام پھل دار او رپھول دار پودوں کی بہترین نشوونما کے لیے استعمال کیاجاتا ہے اور اس کے استعمال سے فصلوں پر مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جنہیں زرعی ماہرین نے بھی تسلیم کیا ہے. انہو ں نے کہاکہ بہاء الدین زکریایونیورسٹی کے شعبہ ایگرانومی کے زیراہتمام تیار کیاجانے والا محلول سانجھی کو تما م فارمرز کو آگاہی فراہم کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر اس سطح پر کی جائے اس سے ایک عام فارمرز کو بھی فائدہ پہنچے. انہو ں نے وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کی زیرقیادت یونیورسٹی کی ترقی کی بھی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ قابل اساتذہ ہر شعبہ میں تحقیق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور بہترین ریسرچر کے طور پر اس ادارے کا نام روشن کریں. انہو ں نے ڈاکٹر حکومت علی، ڈاکٹر ناظم حسین لابر اور ڈاکٹر عذرا یاسمین کی خدمات کو بھی سراہا. وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصو راکبر کنڈی نے  اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ایک عام”سوہانجنا“کے پودے سے جو محلول تیار کیا گیا ہے اور جس طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے تعاون سے اس کی تشہیر کی جارہی ہے وہ قابل ستائش ہے. انہو ں نے کہاکہ ایک ایسے تحقیق شدہ پروڈکٹ کی اشد ضرورت تھی کہ جو بہت کم خرچ اور بالا نشین ہے اور اس سے ہر فارمر باآسانی استعمال بھی کرسکتا ہے. وائس چانسلر نے ڈاکٹر حکومت علی، ڈاکٹر ناظم حسین لابر اور ڈاکٹر عذرا یاسمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہائر ایجوکیش کمیشن کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا کہ جنہو ں نے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیراہتمام بہاء الدین زکریایونیورسٹی 13.85  ملین کی گرانٹ دی. نواز شریف یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بہاء الدین زکریایونیورسٹی کی اس تقریب میں آکر بے حد خوشی ہوئی اور زرعی سائنسدانوں کے تیار کردہ پروڈکٹ کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں جو آگاہی حاصل ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے. انہوں نے کہاکہ میں توقع کرتا ہوں کہ اس پروڈکٹ کے استعمال سے زراعت کے شعبہ میں ایک نئی جہت پیدا ہوگی اور تمام فارمر اس سے بھرپور استفادہ حاصل کریں گے.ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ ایچ ای سی کے پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر غلام سرور نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر عذرا یاسمین اور بہاء الدین زکریایونیورسٹی کے زرعی سائنسدانوں کی خدمات کو بے حد سراہا. تقریب سے ڈاکٹر عذرا یاسمین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سانجھی تک پہنچنے کے لیے جس قدر تعاون مجھے میرے اپنے ساتھیوں کا رہا ہے میں ان کے بارے میں بتا نہیں سکتی کہ کس سطح پر انہو ں نے مجھے سپورٹ کیا جبکہ اس پراجیکٹ مکمل ہونے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصو راکبر کنڈی اور ڈاکٹر حکومت علی اور ڈاکٹر ناظم حسین لابر کا تعاون شامل حال رہا. اس پر میں ان کی بے حد ممنون ہوں. تقریب سے ڈاکٹر شہزاد مقصود احمد بسرا، ڈاکٹر حکومت علی اور ڈاکٹر ناظم حسین لابر نے بھی خطاب کیا  اور سوہانجنا کے پتوں کے فوائد بیان کیے. تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی نے شیلڈز تقسیم کیں جبکہ تقریب میں رانا مشتاق، طلباء و اساتذہ کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی. بعد ازاں شجرکاری کے سلسلہ میں صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصو ر اکبر کنڈی، وائس چانسلر نواز شریف یونیورسٹی ڈاکٹر محمد آصف، ایچ ای سی کے نمائندہ ڈاکٹر غلام سرور، رانا مشتاق، ڈاکٹر شہزاد بسرا، ڈاکٹر اشفاق چٹھہ، ڈین ڈاکٹر حکومت علی  نے پودے لگائے۔