ہماری منزل کہاں ہے؟ 

 ہماری منزل کہاں ہے؟ 
 ہماری منزل کہاں ہے؟ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ ارضِ پاک ہم نے‘ بلکہ ہم نے نہیں ہمارے بزرگوں نے یہ سوچ کر حاصل کی تھی کہ یہاں وہ اور ان کی اولادیں ہندوؤں کے غلبے کے بغیر پوری آزادی سے نہ صرف اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو سکیں گی بلکہ ترقی کے وہ تمام مواقع بھی حاصل کر سکیں گی جو آزاد قوموں اور شہریوں کو حاصل ہیں۔ ہم نے اپنی آزادی کے پچھتر سال بھی گزار لئے‘ لیکن پیچھے مُڑ کر دیکھیں تو ہمیں وہ سفر نظر نہیں آتا جو اس منزل کی جانب جاتا ہو جس کا تعین ہمارے اجداد نے کیا تھا‘ اور آگے دیکھیں تو وہاں بھی منزل کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ گزرے برسوں پر ایک نظر ڈالیں تو ترقی نظر آتی ہے لیکن یہ دراصل ترقی نہیں بلکہ ترقیئ معکوس ہے‘ کیونکہ اس ترقی کے عوض ہم نے خود پر کھربوں روپے کے قرضے چڑھا لئے ہیں، میں نے اپنے کسی پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ ہم خسارے کا بجٹ کیوں پیش کرتے ہیں‘ ادھار پر کیوں جیتے ہیں؟ اپنے پاؤں اتنے ہی کیوں نہیں پھیلاتے جتنی ہماری چادر ہے، کیا اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش موجود ہے کہ اگر ہم نے چادر کے مطابق پاؤں پھیلانا سیکھ لیا ہوتا تو آج ہمارے نوزائیدہ بچے تک قرضوں میں جکڑے ہوئے اس دنیا میں وارد نہ ہوتے۔ کبھی کسی نے سوچا کہ ہم نے اس ملک کو دوسروں کے لئے تجارتی جنت کیوں بنا ڈالا ہے؟ ہماری درآمدات و برآمدات میں آج تک توازن کیوں پیدا نہیں ہو سکا؟ کیوں ہم دوسرے ممالک سے زیادہ اشیا درآمد کرتے ہیں اور کیوں ہمارے پاس ایسی بہترین مصنوعات نہیں ہیں کہ برآمد کر سکیں؟ سب سے پہلے تو آبادی کی رفتارکو قابو رکھنے کی ضرورت تھی تاکہ ساری آبادی کو اچھی ضروریاتِ زندگی دی جا سکتیں۔

پھر آج تک کسی نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ ہماری آبادی اگر تیزی سے بڑھ رہی ہے تو ترقی کے گھوڑے کو بھی ایڑ لگائی جائے تاکہ سب کے لئے زندگی کے لوازمات پورے ہو سکیں؟ کسی نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ اگر ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کو زیادہ خوردنی تیل اور چائے پتی اور دوسری اشیا کی ضرورت ہے تو اس ضرورت کو یہ چیزیں یہاں پیدا کر کے پورا کیا جائے؟ لیکن خوردنی تیل اور چائے پتی وغیرہ تو دور کی بات ہم اپنی خوراک کا سب سے بنیادی جزو یعنی گندم کی پیداوار میں بھی خود کفیل نہیں ہو سکے، ابھی پچھلے دنوں ہی خبر پڑھی کہ وفاقی کابینہ نے تین لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم اور تین لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی درآمد کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی ہے خبر میں بتایا گیا کہ کابینہ سے قومی اقتصادی کمیٹی (ای سی سی) کے 28 اکتوبر کے دو فیصلوں کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری لے لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے گندم کے چھٹے ٹینڈر کو ایوارڈ کرنے کی منظوری دی ہے۔ 373 ڈالر فی ٹن کے حساب سے 3 لاکھ 80 ہزار ٹن گندم اور 520 ڈالر فی ٹن کے حساب سے 3 لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کی جائے گی۔ گندم اور یوریا کی درآمد پر تقریباً 30 کروڑ ڈالرز اخراجات آئیں گے۔ یہ سوال اہم ہے کہ ہم اپنی خوراک خود پیدا کرنے کے قابل کیوں نہیں ہو سکے؟ اس لئے کہ آج تک کسی نے زرعی شعبے کی ترقی پر اتنی توجہ ہی نہیں دی جتنی توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آج زرعی شعبے پر توجہ دینا شروع کر دی جائے تو دو چار سالوں میں اگر ہم خوراک میں خود کفیل نہ بھی ہوئے تو ہمیں بہت کم اشیائے خورونوش درآمد کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کرے گا کون؟ ہمیں سیاست میں اپنی اپنی باریاں لینے کی پڑی ہے‘ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے‘ اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں۔


پھر اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ترقی کے سوتے ایمان داری سے پھوٹتے ہیں۔ ہم کتنے ایمان دار ہیں‘ آپ خود اس کا اندازہ لگا لیں۔ جھوٹ، افترا بازی، اقربا پروری‘ رشوت‘ سفارش‘ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا، ملاوٹ‘ کم تولنا، ڈنڈی مارنا، زیادہ نفع کے لالچ میں قانونی حدود پار کرنا، سود لینا، سود دینا، دوسروں کو خود سے کم تر سمجھنا، خود کو برتر سمجھنا، دوسرے کے عیب تلاش کرنا، حسد کرنا، غصہ کرنا، صرف اپنے حقوق کا تعین کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال نہ کرنا عام ہو گیا ہے۔ وہ ایک ایک بات جس کے نتیجے میں کئی قومیں تباہ کر دی گئیں ہم میں وہ سب نظر آتی ہیں۔ کیا گھی میں ناقص تیل کی ملاوٹ نہیں کی جاتی، دودھ میں پانی اور اراروٹ کی ملاوٹ نہیں ہوتی، مرچوں میں سرخ مٹی کی ملاوٹ ہوتی ہے، پسے ہوئے دھنیے میں لکڑی کے برادے کی ملاوٹ ہوتی ہے، زندگی بچانے والی دواؤں میں بھی ملاوٹ غرض  بازار میں بکنے والی کوئی ایک چیز بتا دیجئے جس کے بارے میں آپ وثوق کے ساتھ کہہ سکیں کہ ہاں یہ خالص ہے۔ ہر چیز کے ایک نمبر‘ دو نمبر فروخت ہو رہے ہیں۔ کم تولنے سے یاد آیا کہ پچھلے دنوں کہیں سے ایک واٹس ملا جس میں ایک باٹ کو ڈیجیٹل ترازو پر رکھا دکھایا گیا اور ڈیجیٹل ترازو پر جو ریڈنگ آ رہی تھی‘ وہ 970 گرام کی تھی‘ یعنی بازاروں سے ہم جو چیزیں یہ سوچ کر خرید کر لاتے ہیں کہ یہ پورے وزن کی ہیں تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو ہر ایک کلو کے پیچھے ہر دکان دار اور ہر ریڑھی والا چونا لگا رہا ہے اور وہ بھی آپ سے پورے دام وصول کر کے، ایسے میں اصلاح کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟ ایسے میں ترقی کے امکانات کتنے رہ جاتے ہیں؟ جب ہر کوئی ایک دوسرے کو دھوکا دے رہا ہو تو منزل کی طرف سفر کیسے درست ہو سکتا ہے؟ 


حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ ہمارا سفر ترقی کی منزل کی طرف نہیں ہے‘ ترقیئ معکوس کی جانب ہے۔ ایک لمحے کے لئے رکنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کہاں جانا ہے‘ ہم نے اس ملک کو کہاں پہنچانا ہے۔ آپ کے ذہن میں جو جو بھی سوالات کلبلا رہے ہیں‘ ان کے آپ کو مکمل جواب مل جائیں گے۔ یہ ارضِ پاک اللہ تعالیٰ کی ایک بڑے نعمت ہے اس نعمت کو ضائع نہ کریں‘ اس کی قدر کریں اور ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جو دور رس ہوں اور جو ہمیں اس منزل کی جانب لے جا سکیں جس تمنا میں ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد وطن کے لئے انتھک جدوجہد کی تھی۔

مزید :

رائے -کالم -