مودی سرکار کا مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ  

مودی سرکار کا مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ  
مودی سرکار کا مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف تعصب اور ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔جب سے بی جے پی اقتدارمیں آئی ہے تب سے بھارتی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے بابری مسجد اور پھر کشمیر پر قبضہ کیا اس کے علاوہ بھی بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بھارت میں انتہا پسندی کے خلاف مسلمانوں کی آواز کو دبانے کے لیے مودی حکومت نے نئے ہتھکنڈے اپناتے ہوئے احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے گھر گرانا شروع کردیئے ہیں،اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں جس میں ہندو انتہا پسند پولیس کی نگرانی میں مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر کی مدد سے مسمار کررہے ہیں۔
مودی سرکار نے بھارتی مسلمانوں کو زک پہنچانے کیلئے ایک اور نیا کام شروع کیا ہے کہ مسلمانوں کی املاک کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔ دو ماہ قبل دہلی میں ہوئے مسلمان ہندو لڑائی جھگڑے کو بنیاد بنا کر دہلی میں مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلائے گئے ہیں (جھگڑا دونوں جانب سے شروع ہوا لیکن نشانہ صرف مسلمانوں کی املاک کو بنایا گیا ہے جس پر دہلی ہائی کورٹ میں کیس بھی چل رہا ہے)۔


بھارتی مسلمان جاوید اترپردیش کے پریاگ راج میں فسادات پھیلانے کے الزام میں پولیس حراست میں تھے تو بندوقوں، لاٹھیوں اور بلڈوزروں سے لیس مقامی انتظامیہ ان کے دروازے پر آئی اور ان کا مکان منہدم کر دیا۔برسوں میں بنایا گیا مکان چند ہی گھنٹوں میں اینٹوں اور پتھروں کا ڈھیر بن گیا۔انتظامیہ نے ان کے گھر پر ایک روز پہلے چسپاں نوٹس کے ذریعے الزام لگایا کہ مکان غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔وکلاء  کے ایک گروپ نے انہدام کے خلاف الہٰ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا لیکن عدالت نے ان کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل سنجے ہیگڑے نے ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’موجودہ قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ کسی مشتبہ شخص کے گھر پر بلڈوزر چلا دیا جائے۔
جاوید کے گھر کو مسمار کرنا بھارت میں کسی مسلمان کے ساتھ ایسا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات حالیہ مہینوں میں بی جے پی کی حکومت والی اور ریاستیں جیسے آسام، دہلی، گجرات اور مدھیہ پردیش میں بھی ہوئے ہیں۔ان مسماریوں کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔گھر کو گرانے کا عمل خاص طور پر سفاکانہ ہے کیونکہ گھر سلامتی کی علامت ہوتے ہیں۔ ایک گھر بنانے میں پوری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔یہ ریاست کی پوری مسلم سول سوسائٹی کے لیے پیغام ہے کہ آپ اپنے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے دباؤ ڈالنا بند کریں۔
 مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع میں نوراتری کی تقریبات کے دوران فسادات ہوئے تھے۔ مقامی مسلمانوں نے الزام لگایا کہ ہندو جماعتوں نے ریلیاں نکالیں جو ایک مسجد کے باہر کھڑی ہو گئیں اور لاؤڈ سپیکر پر توہین آمیز گانے چلائے گئے۔کچھ ہی دیر میں پتھراؤ شروع ہو گیا اور یہ فساد کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ پتھراؤ کس نے شروع کیا لیکن پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ 24 گھنٹوں کے اندر حکام نے فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں مسلمانوں کے مکانات اور املاک کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ دی ہندو اخبار کے مطابق انتظامیہ نے محض 24 گھنٹوں کے اندر 45 مکانات کو مسمار کر دیا۔


 بلڈوزر کے نام پر سیاست بھارت کے ایک بڑے طبقے میں مقبول نظر آتی ہے۔ بی جے پی نے اسے مافیا کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نے چند ہندو عقیدے کے مجرموں کے مکانات اور املاک کو مسمار کیا ہے لیکن غیر متناسب طور پر متاثرین کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔کم از کم اتر پردیش میں، جہاں اس سال کی شروعات میں ریاستی انتخابات ہوئے تھے، ووٹروں نے بی جے پی کو فتح یاب کر کے اس طرح کی سیاست کا صلہ دیا۔ ان انتخابات میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے خود کو بلڈوزر بابا کہا اور چند ریلیوں میں بلڈوزروں کی نمائش بھی کی۔


 اس کے علاوہ اتر پردیش اور جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں موجود ہیں وہاں یہ عمل کیا جا رہا ہے تا کہ صدیوں کی غلامی کا بدلہ آج کے مسلمانوں سے لیا جا سکے۔ پھر لو جہاد اور مدارس کو بند کرنے کی حرکتیں بھی مودی کی منظم ہندوتوا مہم کا حصہ ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں مسلمانوں کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ گائے کے تحفظ اور ’لو جہاد‘ کے نام پر تشدد کے واقعات بارہا رونما ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو مسلمانوں کے کھانے کے انتخاب، معاش اور رشتوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں بہت سے سیاسی رہنماؤں اور وکلا نے ان اقدامات پر تنقید کی ہے لیکن تاحال اس کا کوئی معنی خیز نتیجہ نہیں نکلا، کئی افراد اور تنظیموں نے عدالت سے رجوع کیا ہے لیکن ان کی درخواستیں سماعت کے منتظر ہیں۔
 مودی حکومت کے چند سالوں میں مذہبی تفریق اس قدر بڑھ چکی ہے جو پہلے کبھی نہ تھی۔ نیا بھر کے امن پسند ممالک،تنظیمیں اور دانشور اس بات کا بھر ملا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی صرف اس خطے کیلئے خطرہ نہیں بلکہ اگر اس دہشت گردی اور انتہا پسندی کو نہ روکا گیا تو دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں تو انتہا پسند جماعتوں پر پاپندی لگا کر امن کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں لیکن بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی انتہا پسند جماعت بر سر اقتدار ہے اور اسی جماعت کے رہنما جنہیں گجرات کے قصائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ بھارت کے وزیر اعظم ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -