ایرانی تاجروں کے وفد کا سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کا دورہ 

ایرانی تاجروں کے وفد کا سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کا دورہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       کراچی(اسٹاف رپورٹر)اسلامی جمہوریہ ایران کے تاجروں کے وفد نے چیمبر آف کامرس زنجان کے صدر یگانہ فرد کی سربراہی میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کا دورہ کیا اور ایسوسی ایشن کے صدر ریاض الدین، عہدیداروں اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی جس میں دونوں برادر ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان، کمرشل اتاشی حسین امینی، صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری ریاض الدین، سینئر نائب صدر عبدالقادر بلوانی،  نائب صدر محمد حسین موسانی، سابق صدور عبدالرشید اور عبدالہادی، محمد کامران عربی، انور عزیز، عظیم موتی والا، حارث شکور، عمران غنی و دیگر بھی موجود تھے۔ایرانی تاجروں کے وفد نے مینوفیکچرنگ کے عمل کو دیکھنے کے لیے معروف ٹیکسٹائل یونٹ کا بھی دورہ کیا۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری ریاض الدین نے ایرانی تاجروں کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں پر قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران پہلا ملک ہے جس نے قیام پاکستان کے وقت تسلیم کیا جبکہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو انتہائی کم قرار دیا کیونکہ ہم برادر ملک ایران میں دستیاب مواقع سے استفادہ کرنے سے قاصر ہیں۔پاکستان کو تیل و گیس، پیٹرو کیمیکل مصنوعات خصوصاً گیس جیسی بنیادی اشیاء کی ضرورت ہے جس کی صنعتوں کو شدید ضرورت ہے اور ایران کے پاس گیس کی وافر مقدار موجود ہے۔ایران کے ساتھ بارٹر تجارت میں ترقی ہوئی ہے لیکن اس کے آپریشنز کو پورے پاکستان تک پھیلانے اور قانون سازی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان نے بتایا کہ سائٹ ایسوسی ایشن کا یہ ہمارا دوسرا دورہ ہے اور وفد کے اس دورے کے دوران تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔جنوری 2023 میں کراچی ایکسپو سینٹر میں ایران کی سنگل کنٹری نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور تجویز پیش کی گئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے تہران، مشہد یا اصفہان میں بھی اسی قسم کی نمائش کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔قونصل جنرل نے کہا کہ تجارت میں دو مسائل رکاوٹ بن رہے ہیں ہیں جن میں ایک بینکنگ چینل کے لین دین اور دوسرا دونوں ملکوں کے درمیان مناسب دو طرفہ تجارتی نظام کی عدم موجودگی ہے۔بارٹر ٹریڈ کے حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان اور ایران کے کسٹم سے منسلک مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک فعال روابط کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے آئی پی آئی اور تاپی گیس پائپ لائن پر کہا کہ بھارت اب اس منصوبے کا حصہ نہیں ہے اور آخر کار ایران اور پاکستان کو اس منصوبے پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔