ای ایف پی کے زیراہتمام 9ویں ”ایمپلائر آف دی ایئر ایوارڈ“ کا انعقاد

ای ایف پی کے زیراہتمام 9ویں ”ایمپلائر آف دی ایئر ایوارڈ“ کا انعقاد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) نے کارپوریٹ سیکٹر کی بہترین پریکٹسز کو تسلیم کرنے کے لیے کراچی میں 9ویں ”ایمپلائر آف دی ایئر ایوارڈ“ کا انعقاد کیا جس میں مختلف شعبوں کے تقریباً 31 اداروں کو ہیومن ریسورس مینجمنٹ، اسکل ڈیولپمنٹ، پیشہ ورانہ حفاظت، صحت کے صنعتی قوانین کی تعمیل، کارپوریٹ سماجی ذمہ داریوں کی شمولیت، خواتین کو بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے شعبوں میں ان کی غیر معمولی کارکردگی اور ذمہ دارانہ کاروباری طریقوں پر ایوارڈ دیا گیا۔وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل ساجد حسین طوری نے جیتنے والی کمپنیوں میں ایوارڈز تقسیم کیے۔وفاقی وزیر ساجد حسین طوری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ای ایف پی 2030 کے لیے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہترین کاروباری طریقوں کو فروغ دینے میں سرگرم عمل ہے۔انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر اور ایمپلائرز کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد اور تعاون کریں جنہیں اس وقت ان کی بحالی اور روزی روٹی کمانے کے لیے مدد کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی حکومت نجی شعبے اور ای ایف پی کی پاکستان میں تعمیل کا کلچر بنانے اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن مدد کرے گی۔صدر ای ایف پی اسماعیل ستارنے اس بات پر زور دیا کہ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے صلاحیت حاصل کرنے کے لیے ہماری صنعت کے لیے بین الاقوامی معیارات کی تعمیل کس طرح ضروری ہے۔ مقامی صنعت کی ترقی غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے چیلنجز سے نمٹنے کا واحد حل ہے۔انہوں نے عالمی مارکیٹ میں مسابقتی رہنے کے لیے مقامی صنعتوں کو مقامی قانون سازی اور بین الاقوامی معیارات پر عمل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔آفیسر انچارج انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اسلام آباد منظور خالق نے پاکستان میں کاروبار اور تعمیل کے کلچر کو فروغ دینے میں ای ایف پی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی ایل او، ای ایف پی مشترکہ طور پر بین الاقوامی لیبر اسٹینڈرڈز اور محنت کشوں کے تحفظ کے معقول کام کے نفاذ کے مقصد کے حصول کے لیے متعدد پروگراموں اور اقدامات پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -