پاک افغان تجارت بینکوں کے ذریعے ہونی چاہئے: پروفیسر ابراہیم 

  پاک افغان تجارت بینکوں کے ذریعے ہونی چاہئے: پروفیسر ابراہیم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


      پشاور (سٹی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابرہیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت مال کے بدلے مال یا بینکوں کے ذریعے ہونی چاہئے۔ اس طریقے پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان کی معیشت مزید خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔ مال کے بدلے مال اور بینکنگ چینل کو استعمال میں لایا گیا تو افغانستان کو غیر قانونی طور پر ڈالر منتقل نہیں ہوگا۔ طورخم سمیت دیگر بارڈرز پر افغانستان کے عوام کے ساتھ پاکستانی عملے کا رویہ غیر مناسب ہے۔ افغان عوام کے لیے ویزہ پالیسی میں نرمی اختیار کی جائے کیونکہ سخت پالیسی کی وجہ سے بالخصوص بزرگوں، بچوں اور خواتین مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غلام خان بارڈر کو بھی عام لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھولا جائے اور وہاں امیگریشن کا عملہ بٹھایا جائے۔ پاکستان افغانستان کے بینکنگ سسٹم کو بہتر بنانے میں ہر ممکن تعاون کرے۔ پاکستانی حکومت افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے اور نئی افغان حکومت کے ساتھ مل کر دونوں ملکوں کے مسائل و مشکلات کا حل تلاش کرے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے المرکز الاسلامی پشاور سے جاری کیے گئے بیان میں کیا۔ پروفیسر محمد ابرہیم خان نے کہا کہ پاکستان سے بڑی تعداد میں ڈالر افغانستان جا رہے ہیں جسے وہاں کے مقامی لوگ روپے دے کر خرید لیتے ہیں اور افغانستان منتقل کردیتے ہیں۔ یہ پاکستانی معیشت کے لیے سلو پوائزن ہے۔ افغانستان کے ساتھ تجارت انتہائی اہمیت کی حامل ہے تاہم اس کے لیے طریقہ کار وضح کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت مال کے بدلے مال اور بینکنگ چینل کو استعمال میں لا کر پاکستان کو نقصان سے بچا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان بینکنگ سسٹم میں افغانستان کی معاونت نہیں کررہا اور اس کی وجہ سے بھارت کو افغانستان کے بینکنگ سسٹم میں کام کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے خطرناک اور نقصاندہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تاحال افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا جانا افسوسناک ہے۔ حکومت بتائے کہ افغان حکومت کو تسلیم کرنے میں کیوں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے بہترین تعلقات دونوں ملکوں کے بہتر مستقبل اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ حکومت مزید تاخیر کیے بغیر افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔