ہزارہ میں سیاحت کو برقرار رکھنے کیلئے ماحول کو صاف رکھنے کی اشد ضرورت ہے: طارق علی خان 

ہزارہ میں سیاحت کو برقرار رکھنے کیلئے ماحول کو صاف رکھنے کی اشد ضرورت ہے: ...

  

        پشاور(سٹاف رپورٹر)ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ خیبر پختون خوا نے ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لئے ایبٹ آباد میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔سیمینار میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث موسمیاتی تبدیلی پر مرتب ہونے والے اثرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ٹرانسپورٹ طارق علی خان، ڈائریکٹوریٹ آف ماس ٹرانزٹ خیبر پختونخوا کے صوبائی ڈائریکٹر قیصر خان،ویٹس آفیسر صوفیہ جدون،پروفسیر ڈاکٹر محمد فواد نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ اس موقع پر مختلف محکموں ریسکیو1122،محکمہ تعلیم،ٹریفک پولیس کے افسران  کے علاوہ سکولوں کے طلباء وطالبات نے بھی شرکت کی۔ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ طارق علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہزارہ میں سیاحت کو برقرار رکھنے کے لئے ماحول کو صاف رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ایبٹ آباد سکولز کا شہر ہے گاڑیوں سے نکلنے والا مضر صحت دھواں فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔اس کے روک تھام کے لئے ایبٹ آباد میں سکولز کی وین بسوں کا معائنہ کرنے کی مہم شروع کریں گے۔ویٹس کی ٹیم گاڑیوں کی فٹنس کو دیکھ رہی ہے جس کی فیس صرف دو سو روپے فی گاڑی ہے۔صوبائی ڈائریکٹر ماس ٹرانزٹ  قیصر خان کا کہنا تھا پاکستان ان ممالک کے فہرست میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہے۔حالیہ سیلاب سے پاکستان کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا ہے،جس میں ہزارہ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے گلیشئر بھی بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔اس سلسلہ میں صوبائی حکومت بھی اس کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا ملک میں کارخانوں کے علاوہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں سب سے ذیادہ خطرناک ہے۔ جو سب سے پہلے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔جس سے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔قیصر خان کا کہنا تھا صوبہ بھر میں آگاہی مہم جاری ہے ایبٹ آباد اور سوات میں بھی وہ موسم نہیں ہے جو چند برس قبل ہوتا تھا۔موسمیاتی تبدیلوں کے اثرات سے بچنے کے لئے گاڑیوں کی فٹنس پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ویٹس انچارج صوفیہ جدون کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں کو فضائی آلودگی اور بالخصوص گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں کا سامنا ہے۔اس فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے 1997 میں وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ نظام کے نام سے ادارہ کی بنیاد رکھی گئی۔پشاور کے بعد اب صوبہ کے نو اضلاع میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔جو گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیسوں کے مضر اثرات کے متعلق عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کر رہے ہیں۔اس سلسلہ میں پشاور،مردان،سوات،مالاکنڈ،ایبٹ آباد،مانسہرہ،کوہاٹ،بنوں،اور ڈی آئی خان میں 14 لیبارٹریاں کام کررہی ہیں۔جہاں گاڑیوں کا بذریعہ مشین معائنہ کرکے مقررکردہ قومی ماحولیاتی معیار کے مطابق نہ رکھنے کے لئے جرمانے بھی کئے جاتے ہیں اور سرٹیفیکیٹ بھی جا ری کئے جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف ہری پور کے پروفسیر ڈاکٹر فواد علی کا کہنا تھا فضائی آلودگی کے انسانی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں خوراک کے بغیر انسان دنوں تک ذندہ رہ سکتا ہے جب کہ فضائی آلودگی کے باعث 4 منٹ سے زائد زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر جلنے والی چیز ہائیڈرو کاربن پیدا کرتی ہے۔مختلف گیسوں کے باعث تازہ ہوا سینے کے اندر نہیں جاتی۔اس کے لئے ضروری ہے اپنے ارگرد ماحول کو صاف رکھیں۔قدرتی ماحول میں دخل اندازی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہیں۔اس میں گاڑیوں،کارخانوں کا دھواں بنیادی وجوہات ہیں۔جو ملک میں حالیہ سیلاب کا بھی سبب ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔اپنی گاڑیوں کے انجن کی بروقت ٹیوننگ،بروقت آئل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔سیمینار میں سکول کے طلبہ نے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے عوامل کا خوبصورت ٹیبلو پیش کرکے حاضرین سے داد وصول کی۔ٹیکنیکل آفیسر محمد فواد  نے ملٹی میڈیا بریفنگ دی۔اور سڑک پر دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی آگاہی مہم کی ملٹی میڈیا  ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی۔سیمینار میں ویٹس آفیسر صوفیہ جدون نے ایڈیشنل سیکرٹری ٹرانسپورٹ  طارق علی خان اور دیگر افسران کو سوینئر بھی پیش کئے۔سیمینار میں کیک بھی کاٹا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -