پاکستانی ٹک ٹاکر مہک بخاری اور والدہ پر 2 افراد کو قتل کرنے کا سنگین الزام، عدالت میں حیران کن حقائق سامنے آگئے

پاکستانی ٹک ٹاکر مہک بخاری اور والدہ پر 2 افراد کو قتل کرنے کا سنگین الزام، ...
پاکستانی ٹک ٹاکر مہک بخاری اور والدہ پر 2 افراد کو قتل کرنے کا سنگین الزام، عدالت میں حیران کن حقائق سامنے آگئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) رواں سال فروری میں برطانوی نژاد پاکستانی ٹک ٹاکر مہک بخاری اور ان کی والدہ پر 2 افراد کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا اور اب یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں گزشتہ پیشی پر پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مہک بخاری نے دوہرے قتل کی اس سفاکانہ واردات کے بعد اپنی اور اپنی والدہ کی موجودگی کے حوالے سے پولیس سے جھوٹ بولا تھا۔ 

پولیس کے مطابق مہک بخاری نے کہا تھا کہ وہ ان دنوں شہر سے باہر تھیں جب ثاقب حسین اور محمد ہاشم اعجازالدین نامی 2لوگوں کا قتل ہوا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ وہ شہر میں ہی موجود تھیں۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر مقتولین نے مہک بخاری کی نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دی تھی، جس پر ماں بیٹی نے انہیں قتل کر دیا۔ 

برطانوی علاقے لیسٹر شر میں 11فروری کو مقتولین نے اپنی گاڑی میں مہک بخاری اور اس کی والدہ کی گاڑی کا تعاقب کیا۔ مہک اور اس کی والدہ نسرین بخاری کے ساتھ گاڑی میں 21سالہ نتاشا اختر نامی لڑکی بھی موجود تھی۔ راستے میں ہاشم اور ثاقب کی گاڑی کو حادثہ پیش آ گیا جس میں دونوں کی موت واقع ہو گئی۔ واردات کے بعد بتایا گیا تھا کہ ان کی گاڑی کو ٹکر ماری گئی تھی، جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔ اس مقدمے میں 21سالہ رئیس جمال اور 28سالہ ریکن کیرون کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مقتولین دونوں آپس میں کزن تھے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -برطانیہ -