کچھ ہونے والا ہے؟

         کچھ ہونے والا ہے؟
         کچھ ہونے والا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 نواز شریف زیر بحث ہیں، جواب میں میڈیا عمران خان کو ڈسکس کر رہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نواز شریف پر تنقید کر کے اپنے آپ کو ڈسکس کروانا چاہتی ہے لیکن میڈیا میں موجود اینکر مافیا اس تنقید کو گھسیٹ کر عمران خان کی طرف لے جاتا ہے۔ ان دنوں جناب زرداری کی بیزاری قابل دید ہو گی! 

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ چپ سادھے بیٹھی ہے اور وہ مرضی کی لاٹھی چلا رہی ہے۔ بار بار باور کروایا جا رہا ہے کہ عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی مگر پی ٹی آئی کے حامی حلقوں کو انہونی کی توقع ہے۔ پہلے وہ سمجھتے تھے کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور ان کے ہم خیال جج صاحبان عمران خان کو چھڑوالیں گے۔ اس میں شک بھی نہیں ان کی جانب سے ایسی کوشش بھی کی گئی جو بالآخر ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے بعد بعض جذباتی حامیوں کا خیال تھا کہ مغربی ممالک کے سفراء انہیں چھڑوالیں گے لیکن وہ بھی نہ ہوا اور 5 اگست کو عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔ 5 نومبر کو انہیں قید ہوئے تین ماہ مکمل ہو جائیں گے۔ دوسرے معنوں میں عمران خان کو قید ہوئے 90دن پورے ہو جائیں گے۔یہ وہ عرصہ ہے جس کا اختیار نیب کو تفتیش کے نام پر کسی کو بھی زیر حراست رکھنے کا تھا۔دیکھئے اب عمران خان ضمانت کے حقدار بنتے ہیں یا نہیں، خاص طور پر جب ان کے خلاف ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور سابق سیکرٹری خارجہ اسد مجید اپنا اپنا بیان حلفی بھی ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ 

تاہم اسٹیبلشمنٹ کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے کہ انتخابات کے موقع پر نواز شریف کے خلاف بلاول بھٹو،جہانگیر ترین اورمولانا سعد رضوی میں سے کون سا لیڈر میدان میں موجود ہوگا؟  اس چیلنج سے کس طرح نپٹا جائے گا،ابھی اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ نواز شریف انتخابی مہم کے لئے تیار ہیں تو ان کے مقابلے میں کون میدان میں اترے گا؟ ایسا ممکن تو نہیں ہے کہ یہ خلا جوں کا توں رہے۔

اگر 2018 کے انتخابات پر نظر دوڑائی جائے تو عمران کو پنجاب میں نواز شریف کی مقبولیت کا ویسا ہی چیلنج درپیش تھاجیسا بعض ایک حلقوں کے مطابق آج پنجاب میں نواز شریف کو عمران خان کی مقبولیت کی شکل میں درپیش ہے۔ اسی لئے یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ عمران خان کو جلد ضمانت پر رہائی مل سکتی ہے اور صدعارف ر علوی کی مشکوک سرگرمیوں کے تذکرے دوبارہ سے باتیں شروع ہو گئے ہیں۔ ادھر مولانا فضل الرحمٰن سے اسد قیصر اور علی محمد خان کی ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہے اور اگر مان لیا جائے کہ ایسے ہے تو بھی اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا۔ 

عمران خان کے جیل سے ممکنہ طور پر باہر آنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انہیں جیل میں رکھ کر نواز شریف کے لئے ویسا چیلنج پیدا نہیں کیا جا سکتا جیسا 2018میں نواز شریف کو جیل میں رکھ کر عمران خان کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔ جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تن تنہا نواز شریف کی مقبولیت کو چیلنج کر سکیں۔ اس صورت حال میں اگر عمران خان باہر آ جاتے ہیں اور ان کوجہانگیر ترین کی زیرقیادت استحکام پارٹی اور پرویز خٹک کی زیر قیادت پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کی حمائت بھی حاصل نہیں ہوپاتی تو وہ کیا گل کھلا سکیں گے؟ ایسے میں انہیں وہی کچھ حاصل ہو سکے گا جو کچھ نواز شریف کو 2018 میں حاصل ہوا تھا کہ بھرپور مقبولیت کے باوجود اور زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود انہیں پنجاب میں حکومت نہیں بنانے دی گئی تھی۔ اس کامطلب یہ نہیں  نکلتا کہ عمران خان کے ضمانت پر رہا ہونے کے واضح امکانات ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے خلاف 9 مئی کے واقعات پر سزا کو بھی انتخابات کے بعد تک ٹال دیا جائے، ایسا اس لئے بھی ممکن ہے کہ خود نواز شریف کو بھی یہ بات سوٹ کرتی ہے کہ انتخابات کے عمل کو ساکھ دینے کے لئے ان کے سامنے کوئی ایک مد مقابل کھڑا کیا جائے جسے ہرا کر وہ اقتدار میں آئیں اینکر مافیا اور پیپلز پارٹی نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ اگر شیر اکیلا ہی گلیوں میں گھوما تو کوئی بھی الیکشن ڈے پرگھر سے باہر نہیں نکلے گا اور یوں انتخابات کی حیثیت متاثر ہوگی اور ملک ایک اور طرح کے عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ راستے کی دیوار نہ بننے کا ارادہ کر لیتے ہیں توآئندہ آنے والے دنوں میں تیزپیش رفت ہو سکتی ہے۔ویسے جس اعتبار سے انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس کی کاروائی چلائی ہے، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سیاسی عمل میں مداخلت کے بجائے اپنی توجہ گڑھے مردے اکھیڑنے پر مرکوز کئے رکھیں گے اور اس دوران سیاسی پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ جائے گا۔ 

اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عمران خان کے رہا ہو جانے سے پی ٹی آئی حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ جائے گی اور وہ خدیجہ شاہ اور صنم جاوید کی گرفتاری بھول جائیں گے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسد عمر استحکام پارٹی کو پیارے ہو جائیں۔2018 میں نواز شریف کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ علاقائی پارٹیوں اور آزاد امیدوار وں کاایک یسا ملغوبہ بھی تیار کر لیا جائے گا جس کو جہاں ملایا جائے گا، وہاں رنگ چوکھا ہوجائے گا۔ فرض کریں اگر عمران خان کی اکثریت ثابت بھی ہو جاتی ہے تو بھی ان کے خلاف مخالف قوتوں کا اکٹھ کرکے انہیں ایک ووٹ سے بھی شکست دے دی جاتی ہے تو اس عمل کا اعتبار باقی رہے گا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ نتائج میں ردوبدل کئے بغیر سکرپٹ میں ابھی بھی بہت کچھ تبدیل کیا جا سکتا ہے!

مزید :

رائے -کالم -