حج پالیسی2024ء اعلان سے پہلے ہوپ کے تحفظات

        حج پالیسی2024ء اعلان سے پہلے ہوپ کے تحفظات
        حج پالیسی2024ء اعلان سے پہلے ہوپ کے تحفظات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 پہلی دفعہ حج پالیسی کا اعلان وقت سے بہت پہلے اکتوبر میں کر کے سرکاری حج سکیم کی درخواستوں کی وصولی نومبر میں کرنے کی تیاریاں مکمل  تھیں سعودی حکومت کی طرف سے حج2024ء  کے لئے ملنے والے حج کوٹہ ایک لاکھ79 ہزار210 کو سرکاری اور پرائیویٹ سکیم میں برابر تقسیم کر کے وزارت اس سال40روز کے ساتھ20روزہ شارٹ پیکیج کی تجویز کے ساتھ سرکاری حج سکیم کے40روزہ پیکیج کی رقم11لاکھ اور20روزہ حج کی قیمت ٹکٹ کے فرق سے یہی رکھنے کی تجویز کے ساتھ ایئر لائنز، بنکوں کے ساتھ معاملات طے کرنے والے وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر آفتاب اکبر دورانی کو اس وقت 18ستمبر کو تبدیل کر کے سیکرٹری داخلہ بنا دیا گیا جب وہ نگران وفاقی وزیر انیق احمد کے ساتھ حج 2024ء کو مثالی اور سستا کرنے کا عزم لے کر ان کے ساتھ سعودیہ جا رہے تھے۔تبادلے کی وجہ سے وہ حجاز مقدس نہ جا سکے مگر وفاقی وزیر مذہبی امور نے غیر معمولی دلچسپی لیتے ہوئے سعودی حکومت سے اہم امور طے کر لئے اور ڈی جی حج مکہ کو سرکاری عمارتوں کے حصول کے لئے کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی۔وفاقی وزیر کامیاب دورے کے بعد واپس آئے تو بڑی خوشخبریوں کے ساتھ پرائیویٹ سکیم کے سالہا سال سے خدمات دینے والے 904 حج آرگنائزر کے لئے بم دھماکہ کی خبر بھی لے کر آئے اور فرمایا حج2024ء کے لئے904 کی تعداد کم کر کے46کرنے کا حکم ملا ہے، ہزاروں خاندان اور لاکھوں افراد اس کام سے جڑے ہوئے ہیں ان کے لئے یہ خبر دھماکہ خیز اور المناک تھی دور اندیشی کا تقاضا تھا سیکرٹری کے تبادلے کے ساتھ ہی ایڈیشنل سیکرٹری جو سیکرٹری کے ساتھ دو کامیاب حج کروا چکے ہیں ان کو اضافی چارج دے دیا جاتا اور معاملات آگے بڑھتے رہتے۔سیکرٹری کی تعیناتی کے لئے پسند نا پسند کا مقابلہ چالیس دن تک ہوتا رہا اور بالآخر فیصلہ وہی کرنا پڑا جو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔

وفاقی وزیر اَن تھک شخصیت ہیں نگران دور کو بھی یاد گار بنانے کی دوڑ میں ہیں، سعودیہ کے بعد مصر اور اب سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے لندن میں موجود تھے۔زوم اور نیٹ نے مشکل آسان کر دی ہے ہر وقت ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔سیکرٹری کی تعیناتی کی آنکھ مچولی کے دوران دو دفعہ حج پالیسی کابینہ کو منظوری کے لئے بھیجی گئی وزیراعظم کے امریکہ اور چائنہ کے دورے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی رہی۔ جب فنانس ڈویژن کے پاس گئی تو انہیں کہا گیا28ملین ڈالر فراہم کریں تو نیا موڑ آ گیا۔گزشتہ سال کی طرح ڈالر پھر دیوارِ چین نظر آنے لگا۔وزارت خزانہ نے  گزشتہ سال کے ناکام تجربے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک دفعہ پھر حاجیوں سے ڈالر وصول کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حج پالیسی میں تجویز کردہ سرکاری سکیم کے لئے سپانسر شپ سکیم کے لئے10ہزار کا کوٹہ بڑھا کر25فیصد کرنے اور پرائیویٹ سکیم کے لئے25فیصد کوٹہ بڑھا کر50فیصد سپانسر شپ کے لئے مخصوص کرنے کی ہدایت کر دی اور وزارت نے فنانس ڈویژن کی ہدایات پر عملدرآمد کے لئے پالیسی کا مسودہ جب وزارت میں واپس بھیجا تو درمیان میں تازہ ترین صورت حال ہوپ تک پہنچی تو نیا بھونچال آ گیا۔904کو کم کر کے46 کمپنیوں میں تبدیل کرنے کے دھماکہ سے زندگی موت کے درمیان موجود حج آرگنائزر بالعموم اور ہوپ کے نمائندوں نے بالخصوص سر پکڑ لئے۔وزارت مذہبی امور کے تیار کردہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے سپانسر سکیم کا نیا پلان دینے والے گزشتہ سال کی کارروائی سے ناواقف تھے۔ سرکاری سکیم میں صرف سارت ہزار سپانسر شپ درخواستیں آئی تھیں اور پرائیویٹ سکیم میں بھی13ہزار کا کوٹہ واپس کرنا پڑا تھا بعض کمپنیوں نے اپنا پورا کوٹہ بھی واپس کیا تھا۔راقم کو تحریری طور پر وصول ہونے والے خط میں جو نشاندہی کی گئی ہے واقعی لمحہ فکریہ ہے۔ کہا گیا ہے وزارت مذہبی امور جنگل کی بادشاہ ہے جو چاہے وہ کرتی ہے نام کی حد تک سرکاری اور پرائیویٹ سکیم ففٹی ففٹی ہے عملاً پلڑا یکطرفہ ہے اس کی مثال دی گئی ہے۔100 حاجی پر سروسز کے لئے ایک سروس سٹکر ملتا ہے وزارت کی شہنشاہی ہے1800 سٹکر میں 1730 سٹیکر کی خود مالک بن جاتی ہے بندر بانٹ خود کرتی ہے۔50 فیصد پرائیویٹ حج سکیم کو50 یا70 سٹیکر دے کر برابری کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا تقاضا کرتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے وزارت کے اہلکار افسر حج مشن سیزنل سٹاف پاکستان سے ہو یا سعودیہ سے، لئے گئے ہیں۔ میڈیکل مشن کیے1500سے1600 کے قریب افراد مفت حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور واپسی پر پانچ سے چھ لاکھ تقریباً ہر فرد پیسے بھی لے کر آتا ہے کم از کم معاوضہ 120 ریال روزانہ ہے۔ 1600 افراد کی رہائش، کھانا، ٹکٹ بھی گورنمنٹ کے کھاتے میں۔دلچسپ امر یہ ہے وزارت پرائیویٹ سکیم کے90 ہزار عازمین سے1350 روپے وصول کر کے50 سے70 سٹیکر دے کر ان افراد کے اخراجات بھی ہوپ کرنے کا حکم دیتی ہے سارے وسائل سرکاری سکیم کے لئے ان کی مانیٹرنگ کی  صورت میں پلڑا ایک طرف۔ اس طرح بھی ہے سرکاری سکیم کی سپانسر شپ سات ہزار درخواستوں کے ساتھ بھی ناکامی کے باوجود سرے سے بالاتر پرائیویٹ سکیم 50فیصد۔ سرکاری سکیم کا کوٹہ سرنڈر کرنے والے بھی مجرم اور ڈالر نہ لانے بھی مجرم۔ حساب نہ دینے والے بھی مجرم۔ حتیٰ کہ لاجسٹک فارم پُر نہ کرنے والے بھی مجرم۔ ہوپ اگر درخواست کرے کہ سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا حج کرایہ اور مکاتب کی فیس یکساں رکھی جائے تو حکم ملتا ہے پرائیویٹ سکیم والے استقبال سے روانگی تک میڈیکل کے سامان کی تلاش پر اقامہ بھی خود لگائیں۔30اکتوبر کے کابینہ کے اجلاس میں سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ آنے پر کابینہ نے موجودہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔ہوپ نے توجہ دلائی ہے وزارت حج2024ء میں خود آزمائش میں پڑی ناکام ہوئی ہے سبق سیکھنے کی بجائے دوبارہ 50 فیصد کوٹہ سپانسر شپ سے کرنے کی شرط مسلط کر دی ہے۔ 30نومبر کو اچھی خبر،40 دن بعد ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عطاء الرحمن کو اضافی چارج دے کر سیکرٹری کی ذمہ داری دے دی ہے۔

چیئرمین متروکہ املاک کی حیثیت سے ڈاکٹر عطاء الرحمن ایماندار اور فرض شناس افسر کی حیثیت سے لوہا منوا چکے ہیں ان کے لئے ہوپ کی طرف سے سپانسر شپ کے کوٹہ کی50فیصد لازمی شرط کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف ایئر لائنز کے کرائے کم کرنے کی ضرورت ہے اہم ترین مرحلہ کمپنیوں کی تعداد کم کرنے کا ہے جس سے لاکھوں افراد کے بے روزگا ہونے کے ساتھ 2000کا منظم بنانے سے پیدا ہونے والے مسائل اور جنم لینے والے سکینڈل کی ذمہ داری کون لے گا۔ ایک سال میں وزارت کو چار چار سیکشن افسر بدلنا پڑتے ہیں پرائیویٹ حج کمپنیوں کے تین تین ڈائریکٹر ایک ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔904 میں سے 500 کمپنیاں 50 کوٹہ والی ہیں،96 کمپنیاں 2011ء سے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنے اور کوٹہ 100کرنے کی منتظر ہیں۔ کمپنیوں کی مرجنگ کا فارمولہ مارکیٹ میں جو آیا ہے وہ ناقابل عمل ہے۔100 والی20کمپنیاں ہوں تو شرکہ بنے گا 50 والی40کمپنیاں ہوں گی تو گروپ بنے گا۔40 کمپنیوں کے اوپر مسلط ہونے والا آمر نہیں بنے گا ایک ایک کمپنی کو بلیک میل نہیں کرے گا۔ کون گارنٹی دے گا پرائیویٹ لمیٹڈ کی انفرادی حیثیت اگر قائم رہے گی،جمع ہونے والی رقم پر ٹیکس دینا پڑے گا یہی رقم دوسری کمپنی میں جائے گی تو کون ٹیکس دے گا۔ سینئر حج آرگنائزر نے بڑے سنجیدہ سوال اٹھائے ہیں۔مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر کالم لکھنے پر اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ احباب کا کہنا ہے ملک بھر کے حج آرگنائزر ایک دوسرے کو کتنا خوش دیکھ سکتے ہیں جو دِل سے بولتے نہیں،مگر اس وقت منظم بننے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں نفسا نفسی کی دوڑ ہے۔ روزنامہ”پاکستان“ کے توسط سے ملک بھر کے حج آرگنائزر سے درخواست ہے ہوپ بھڑکیں لگانے کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرے اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر سید عطاء الرحمن حج2024ء کے سپانسر شپ سکیم کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے لازمی شرط واپس کرائیں اور فیصلے مسلط کرنے کی بجائے50 فیصد کے سٹیک ہولڈر سے مل کر فیصلے کریں، جلد بازی کی بجائے مشاورت سے قابل عمل پلان کے لئے ایک سال کے لئے مرجنگ پروگرام موخر کرائیں اور سرکاری و پرائیویٹ سکیم  کا 50فیصد کی تقسیم کا پلڑا بھی برابر کرائیں۔ سرکاری سکیم کے حج آپریشن کی کامیابی کے لئے ایک ارب روپے تک خرچ کر دیا جاتا ہے۔پرائیویٹ سکیم کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان کی مانیٹرنگ کے لئے طرح طرح کے تھانیدار لگا دیئے جاتے ہیں۔آج تک وزارت نے پرائیویٹ سکیم کو سزا ہی دی ہے جزا کا بھی نظام قائم کریں۔ پرائیویٹ اور سرکاری سکیم کے وسائل کو برابری کی سطح پر استعمال کا پلان بناتے ہوئے مانیٹرنگ کا بھی یکساں نظام قائم کروائیں۔

فرمایا گیا ہے ڈاکٹر عطاء الرحمن2011ء سے50کوٹہ کے ساتھ مشکل ترین ٹاسک مکمل کرنے والے ان حج آرگنائزر کا کوٹہ فوری 100کرائیں جن کے خلاف کوئی شکایات نہیں ہیں۔ وزارت نے سپانسر سکیم اور مرچنگ کے فیصلے جلد بازی میں مسلط کر دیتے تو حج2024ء میں تاریخی سکینڈل کے ساتھ حاجیوں کی خواری بھی تاریخی ہو گی اس سے وزارت اور ہوپ  اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے کی بجائے حاجیوں کی فلاح کے لئے مل کر فیصلے کریں اور حج2024ء کو مثالی بنانے کا عزم کریں۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -