سید محمد علاﺅ الدین شاہ جیلانیؒ

سید محمد علاﺅ الدین شاہ جیلانیؒ
سید محمد علاﺅ الدین شاہ جیلانیؒ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مولانا حضرت سید محمد علاﺅ الدین شاہ جیلانیؒ نقشبندی مجددی چشتی قادری قدس سرہ کی ذات والا صفات اور آپ کے کمالات محتاج تعارف نہیں۔آپ کا وجود مسعود تمام عالم اسلام کے لئے عموماً اور برصغیر پاک و ہند کے لئے خصوصاً ایک نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھا۔حضرت قبلہ شاہ صاحبؒ کی ولادت باسعادت کرنال(انڈیا) میں 1908ءیا 1909ءمیں ہوئی۔والد گرامی کا اسم گرامی سید محمد احسن جیلانیؒ تھا۔کرنال کا جیلانی خاندان مشہور پیر گھرانہ تھا۔ابتدائی تعلیم کرنال اور پانی پت میں حاصل کی اور بی اے بہاولپور سے کیا۔شادی پانی پت کے رﺅساءعباسیہ میں جناب حاجی عبدالقیوم کی صاحبزادی سے ہوئی۔ابتداءملازمت وہیں شروع فرمائی۔ حضرت مخدوم جہاں قطب زماں شیخ العلماءو الصلحاءخواجہ محمد فضل علی قریشی ہاشمیؒ مسکین پوری کے خلیفہ مجاز، عارف کامل، مرشد عالم حضرت خواجہ محمد سعید قریشی ہاشمی احمد پوریؒ سے بیعت کی اور جذبہ عظمیٰ اور برکاتِ کثیرہ کو حاصل کیا۔

حضرت خواجہ محمد سعید قریشی ہاشمی احمد پوریؒ اپنے شیخ حضرت خواجہ فضل علی قریشی ہاشمیؒ کے حکم سے تبلیغ دین متین اور ترویجِ شریعتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰة والسلام کے لئے ہندوستان تشریف لے گئے تھے۔ ہندوستان کے آخری سفر میں حضرت شاہ صاحبؒ نے حضرت خواجہؒ سے بیعت کی تھی۔بعدازاں حضرت خواجہ محمدسعید قریشی ہاشمیؒ کا وصال پانی پت میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔آپ کا مزار پُرانوار مرجع خلائق اور رحمتِ الہٰیہ کا مورد ہے۔حضرت خواجہؒکے انتقال کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے ان کے خلیفہ مجاز حضرت خواجہ علی نوازؒ(جن کو حضرت خواجہ محمد سعید قریشی ہاشمیؒ اپنی زندگی ہی میں آپ کی تربیت کے لئے مقرر فرما گئے تھے) سے تجدید بیعت کی۔حضرت خواجہ علی نوازؒکی صحبتِ شریفہ نے آپ کی کایا پلٹ دی، جذب کا غلبہ ہوا اور مقاماتِ عالیہ اور خوارق عظیمہ سے مشرف ہوئے۔چار سال کے قلیل عرصے میں حضرت خواجہ صوفی علی نوازؒ نے آپ کو مکمل سلوک نقشبندیہ مجددیہ چشتیہ قادریہ طے کروا دیا اور اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا۔

1947ءکا انقلاب آیا تو حضرت خواجہ علی نوازؒہجرت فرما کر مظفر گڑھ تشریف لائے اور یہیں 1947ءہی میں چیچک کی وباءمیں حضرت خواجہ کا انتقال ہوا اور مظفر گڑھ میں مدفون ہوئے۔آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے۔حضرت شاہ صاحبؒ کی ملاقات پاکستان بننے کے بعد حضرت خواجہ علی نوازؒ سے نہ ہو سکی۔حضرت شاہ صاحبؒ اور حضرت خواجہ علی نوازؒ کے درمیان محبت کا رابطہ بہت قوی تھا۔حضرت شاہ صاحبؒ حضرت خواجہؒ کے محبوب تھے۔حضرت خواجہ صوفی علی نواز صاحب کے انتقال نے حضرت شاہ صاحب کی طبیعت پر گہرا صدمہ چھوڑا۔مراقبے ہی میں حضرت خواجہؒ نے حضرت شاہ صاحبؒ کو اپنے انتقال کی اطلاع فرمائی اور حکم صادرفرمایا کہ تبلیغ دین اور ترویجِ شریعت میں مشغول رہیں۔حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے قیام لاہور میں کچھ عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں ملازمت بھی اختیار کی، لیکن بعدازاں حضرت قبلہ شاہ صاحبؒ کو عالم رویاءمیں جناب حضورنبی کریمﷺ کی زیارت ہوئی۔آنحضور ﷺ نے قبلہ شاہ صاحبؒ کو کچھ دستاویزات عطا فرما کر ارشاد فرمایا کہ شاہ صاحب جاﺅ لوگوں کی امانتیں لوگوں کو پہنچائیں۔

اس واقعہ کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ شاہانہ اسباب کو ترک کرکے متوکل علی اللہ ہو کہ تبلیغ کے راستے پر کھڑے ہو گئے اور آخر زیست تک اپنی پوری ہمت اسی میں خرچ کی۔تبلیغ دین اور اہل حقوق کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح اور تکمیل تربیت کی فکر بھی دامن گیر رہی ۔ اسی سلسلے میں کچھ عرصہ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب بہلویؒ کی خدمت میں گزارا اور تفسیر کے اسباق پڑھے اور سلوک بھی دہرایا۔بعدازاں مسکین پور شریف کے سفر میں حضرت خواجہ فضل علی ہاشمی کے مزار مبارک پر دوران مراقبہ حضرت مسکین پوریؒ نے قبلہ شاہ صاحبؒ کو کراچی جانے اور شیخ العرب و العجم حضرت مولانا عبدالغفور عباسیؒ سے بیعت اور استفادہ کا حکم ارشاد فرمایا۔1958ءمیں حضرت مدنیؒ کا غالباً یہ پہلا سفر تھا۔حضرت شاہ صاحب استقبال کے لئے کراچی کی بندرگاہ پہنچے تو حضرت مدنیؒ نے پوچھا کہ شاہ صاحب آپ کو میرے آنے کی اطلاع کس نے دی؟ جواباً حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ مجھے میرے اللہ کے فضل نے بھیجا ہے۔حضرت مدنیؒ یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔بعدازاں حضرت شاہ صاحبؒ حضرت مدنیؒ کے ہورہے۔جلوت و خلوت، سفر و حضر میں شیخ کی صحبت شریفہ سے مستفیض ہوئے۔

شاہ صاحب نے اپنی جماعت حضرت مدنیؒ کے سپرد فرمائی۔حضرت مدنیؒ بھی حضرت شاہ صاحب کو بہت عزت وقدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔حضرت شاہ صاحبؒ کو اپنا بازو فرماتے اور سعدی وقت کا لقب عطا فرمایا۔حضرت مدنیؒ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے علاﺅ الدین سے بیعت کی ، اس نے مجھ سے بیعت کی۔حضرت مدنیؒ نے مسکین پور شریف کے اجتماع پر حضرت شاہ صاحبؒ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔اس کے بعد حضرت مدنیؒ کی شفقت و عنایات حضرت شاہ صاحبؒ پر روز افزوں بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ آخری سے پہلے سفر میں نمازوں کی امامت کی خدمت بھی حضرت قبلہ شاہ صاحبؒ کے سپرد کی۔ مدینہ منورہ میں پاکستان کے متعد و مریدین کو حضرت شاہ صاحبؒ کی صحبت اٹھانے کا حکم دیا۔حضرت شاہ صاحب پر حضرت مدنیؒ بہت اعتماد کرتے تھے اور اسی اعتماد کے لئے حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنی پوری زندگی تبلیغ دین میں خرچ کی۔حضرت شاہ صاحبؒ نے دارالسلام کے نام سے ایک خانقاہ گوجرانوالہ روڈ،شیخوپورہ سے 10کلومیٹر پر واقع آباد فرمائی جو الحمداللہ اسم باسمیٰ ہے اور آج بھی الحمداللہ آباد اور علماءو صلحاءکا مرکز ہے۔   

مزید : کالم