ٹیکس ایمنسٹی 2012ء

ٹیکس ایمنسٹی 2012ء
ٹیکس ایمنسٹی 2012ء

  

کرپشن اورٹیکس چوری کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔سرمایہ داری نظام کی خوبی یہ ہے کہ ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کو ٹیکس معافی کی چادر اوڑھا کر سفید دھن میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔اس کارخیر کے لئے قانونی تحفظ فراہم کرنا مقتدر اشرافیہ کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ہر دوسرے تیسرے سال ٹیکس چوروں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خزانے کے اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈال کر اپنی ناپاک دولت کو پاکیزہ بنا لیں۔دیانت دار ٹیکس گزاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے تو ہوا کرے۔کمزور حکومتیں سخت فیصلوں سے گریز کرتی ہیں۔جب حکومت محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو ٹیکس معافی کی سکیموں کا اجراءکیا جاتا ہے۔تمام ماہرین اقتصادیات اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکس معافی کی سکیموں سے محصولات میں اضافہ نہیںہو سکتا۔اس کے باوجود آئے روز اس ناکام تجربے کو دہرایا جارہا ہے.... توبہ کے لئے بھی توبتہ النصوح کی شرط لازم ہے۔ ٹیکس معافی اس سے بالاتر ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناجائز ذرائع سے دولت سمیٹنے والا اس انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے کہ کب حکومت ٹیکس معافی کی سکیم لانچ کرتی ہے اور وہ اس سے مستفید ہوتا ہے۔

26ستمبر2012ءکو ایف بی آر کے پالیسی ساز ادارے بورڈ ان کونسل نے ٹیکس ایمنسٹی 2012ءکی منظوری دی ہے،جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانونی شکل دی جائے گی۔اس سکیم کا مقصد منقولہ و غیر منقولہ، مخفی و ظاہر، اندرون و بیرون ملک دولت کے حامل خواتین و حضرات کو چالو اقتصادی دھارے میں لانے کے لئے راغب کرنا ہے۔سکیم کے پہلے حصے میں رضاکارانہ ٹیکس رجسٹریشن کی دعوت دی گئی ہے۔اگر کوئی شخص ٹیکس نیٹ سے باہر ہے یا ٹیکس ادا نہیں کررہا تو اسے موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ 31اکتوبر تک 39000روپے ٹیکس ادا کرکے ٹیکس گزاروں کی صف میں شامل ہو جائے ۔30نومبر تک رجسٹریشن کروانے والوں کو 49000روپے ،جبکہ 31دسمبر 2012ءتک 59000روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔سکیم کے دوسرے حصے کا تعلق ناجائز اثاثوں کو جائز بنانے سے ہے۔اس سلسلے میں اثاثوں کی تشخیص یا تخمینے کا اختیار ٹیکس گزار کو دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سکیم خود تشخیصی نظام کی طرح بنائی گئی ہے۔(سوائے رجسٹریشن کے)۔

 بینک ڈیپازٹ، جیولری، حصص، پلاٹ، مکان، دکان، پلازے ،فلیٹ، فیکٹری ، مشینری وغیرہ جیسے اثاثوں پر ایک سے ڈیڑھ فی صد ٹیکس ادا کرکے انہیں سفید بنایا جا سکتا ہے۔جناب علی ارشد حکیم صاحب چیئرمین ایف بی آر توقع رکھتے ہیں کہ اس سکیم کے نتیجے میں 176بلین روپے اضافی ٹیکس وصول ہوگا،جبکہ 38لاکھ نئے ٹیکس گزار رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے۔سکیم کی کامیابی یا ناکامی پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا، البتہ گزشتہ سکیموں کا حشر ہمارے سامنے ہے۔آخری سکیم 2001ءمیں پرویز مشرف کے دور حکومت میں بندوق کی نوک پر نافذ کی گئی،جس کی رو سے صرف 2فیصد ٹیکس دے کر کالے دھن کو سفید کرنے کی ترغیب موجود تھی۔سول انتظامیہ اور افواج پاکستان کی مدد کے باوجود صرف 2.5بلین روپے کی وصول ہوئی۔یہ زمینی حقائق ہیں، ان سے نظریں چرانا حماقت ہوگی۔این آر او کا خالق اپنا داغدار دامن چھڑا کر دیارِ غیر میں مزے کی زندگی گزار رہا ہے۔بدقسمتی سے وہ ایسی روایات چھوڑ گیا ہے،جن میں سیاسی مصلحتوں کے ساتھ ساتھ مالی مصلحتوں کوبھی روا سمجھا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں دیکھاجائے تو ایمنسٹی 2012ءکو فنانشل این آر او کا نام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔میرے خیال میں دستور پاکستان کی دفعہ 25کے مطابق کوئی بھی ٹیکس معافی کی سکیم بنیادی انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ایک دیانتدار ٹیکس گزار اور ایک ٹیکس چور کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟پچھلے بجٹ میں حکومت نے دعویٰ کیا کہ نادرا کے فراہم کردہ ڈیٹا کی مدد سے سات لاکھ ان شرفاءکو ٹیکس نیٹ میں لایا جارہا ہے،جو زندگی کی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے باوجود ایک پائی بھی ٹیکس ادا نہیں کررہے۔ایک سال سے زائد عرصہ بیت چکاہے، مگر ایف بی آر ان لوگوں کو ٹیکسوں کے دائرہ کار میں لانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ پارلیمان میں براجمان ارباب اختیار ہیںجو ٹیکس لگانے سے زیادہ ٹیکس چرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا شعبہ 22فیصد حصہ ڈال رہا ہے،جبکہ اس کی پیداوار سے ہونے والی آمدنی ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے....”چارہ گرو کچھ تو کرو“۔

جناب اسرار رﺅف صاحب ممبر پالیسی ان لینڈ ریونیو کے بقول اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے ملک میں 3.4ملین لوگ نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کرنے کے باوجود صرف 1.5ملین اپنے آمدنی کے گوشوارے داخل کرا رہے ہیں،جن میں 9لاکھ تنخواہ دار ٹیکس گزار بھی شامل ہیں۔ان اعدادوشمار کی روشنی میں 3.8ملین نئے ٹیکس گزاروں کا ٹیکس رجسٹرپر آنا ”کمال است و محال است”کے زمرے میں ہی آتا ہے۔شاید ہم احمقوں کی جنت میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ہمارے پالیسی ساز جب گلابوں کی بات کرتے ہیں توکانٹوں کو بھول جاتے ہیں۔خدارا اپنی مسندوں سے نیچے اتر کر تلخ حقائق سے آنکھیں دوچار کیجئے۔اس ملک میں نہ کوئی ٹیکس لینا چاہتا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکس دینے کے لئے تیار ہے۔چیئرمین ایف بی آر پارلیمان کے سامنے اعتراف کررہے ہیں کہ ٹیکس چوری کی وجہ سے قومی خزانے کو 600بلین روپے سالانہ کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔درحقیقت یہ نقصان محکمے کے اہلکاروں اور ٹیکس چوروں کی ملی بھگت کے ذریعے ہوتا ہے۔اس میں ایف بی آر کی پیشہ ورانہ کوتاہی اور نااہلی بھی شامل ہے۔

امن و امان کی صورت حال اس قدر گھمبیر ہوچکی ہے کہ کراچی، جو اقتصادی ترقی کا محور تصور کیا جاتا تھا، آج آگ میں جل رہا ہے،کاروبار مفلوج ہوچکے ہیں، معیشت تباہ ہوچکی ہے،بیروزگاری کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے،سرمایہ کاری منفی سمت کی طرف گامزن ہے،اس کے علاوہ پشاور اور کوئٹہ بھی دہشت گردی کی زد میں ہیں۔قرضوں کے گھوڑوں پر سوار مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔حکومت وقت ہوشربا مالی خسارے کو قابو میں رکھنے سے قاصر ہوچکی ہے۔اس صورت حال میں ٹیکس ایمنسٹی کو آسان نسخہ سمجھا جارہا ہے،جو خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے،جس ملک میں مجموعی معیشت کا70فیصد قومی دستاویز بندی سے باہر ہو، وہاں خیر کی توقع عبث ہے۔اس وقت ایک محتاط اور معتبر اندازے کے مطابق ٹیکسوں کے دائرہ کار سے باہر متوازی معیشت کا حجم 2.5کھرب روپے ہے۔ ٹیکس معافی کی سکیموں سے ٹیکس چوری کے رجحان کو تقویت ملتی ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس چوری سے بنائے گئے اثاثوں کی ضبطی کے قوانین وضع کئے جائیں۔ایوانوں میں پہنچنے والے عوامی نمائندے ٹیکس معاملات پر کبھی بحث نہیں کرتے۔حالیہ مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بھی پارلیمنٹ میں لائے بغیر آرڈیننس کی صورت میں نافذ کردیا جائے گا۔

نوازشریف کے پہلے دور حکومت میں زرمبادلہ کی اندرون ملک ترسیل کو سہل بنانے کے لئے پروٹیکشن آف اکنامک ایکٹ 1992ءکے عنوان سے قانون سازی کی گئی ،جس کی وجہ سے بینکوں کے ذریعے داخل ہونے والی فارن کرنسی پر سوال اٹھانا ممنوع قرار پایا ۔اس سہولت کو موجودہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ءکی دفعہ 111(4)کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔ان دو قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی نئی ایمنسٹی سکیم کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔آپ کالادھن سفید کرنا چاہتے ہیں تو کسی منی چینجر کے پاس جایئے۔وہ 2سے تین فیصد کمیشن لے کر آپ کی مراد پوری کردے گا۔اللہ اللہ خیر صلا....”نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا ہو“....اہلِ زر کچی گولیاں نہیں کھیلتے۔وہ کیوں اثاثوں کے اخفاءکے جھمیلوں میں پڑیں، البتہ ہر حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اسمبلی ممبران کی لوٹی ہوئی دولت کی پردہ پوشی کے لئے چارہ جوئی کرے۔پچھلے بجٹ میں سٹاک ایکسچینج میں حصص کی سرمایہ کاری کو ایمنسٹی دی گئی،تاکہ لوٹ کھسوٹ سے اکٹھی کی گئی دولت کو ”قومی اقتصادی دھارے“ میں لایا جا سکے۔مجوزہ ایمنسٹی سکیم بھی اسی قسم کا شاہکار ہے۔

2008ءمیں عوامی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو اس کے ساتھ ہی ٹیکس انوسٹمنٹ سکیم کا اجراءکیا گیا۔پارلیمان کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اس کے بعد کوئی ایمنسٹی سکیم پیش نہیں کی جائے گی....”بھولنے والے تجھے یاد دلاﺅں کیسے“؟....مالی نقصان کے علاوہ سول سوسائٹی کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، اس کو کسی پیمانے پر ناپنا ممکن نہیں ہے۔دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کی وجہ سے نہ صرف حکومت کی ساکھ متاثر ہورہی ہے،بلکہ عدم تحفظ ،بے چینی، ناانصافی اور اخلاقی جرائم میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔حکومت پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا۔کرپشن کا یہ عالم ہے کہ روزمرہ لین دین میں ہرپانچویں روپے کی کڑیاں کالے دھن سے ملتی ہیں۔یہ بات ہم سب کے لئے باعث شرم ہے کہ روزانہ اربوں روپے کی تجارت پر ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہماری ٹیکس جی ڈی پی کی نسبت دنیا میں سب سے کم درجے پر ہے۔مَیں آج بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ محنت سے کمایا ہوا ایک روپیہ بغیر محنت سے حاصل ہونے والے ایک ہزار روپے سے افضل ہے۔     ٭

مزید : کالم