دیوانِ خواجہ غلام فریدؒ کے مابعد الطبیعاتی پہلو (3)

دیوانِ خواجہ غلام فریدؒ کے مابعد الطبیعاتی پہلو (3)
دیوانِ خواجہ غلام فریدؒ کے مابعد الطبیعاتی پہلو (3)

  

وحدت الوجود اور خواجہ غلام فریدؒ

ڈاکٹر شہزاد کی زیر تبصرہ کتاب کے دو ابواب (باب نمبر7 اور باب نمبر10) خواجہ فرید کے نظریہءوحدت الوجود کے موضوع پر ہیں۔ اگر سچ پوچھیں تو خواجہ صاحب کا سارے کا سارا کلام ہی اس نظرئیے کی ترجمانی اور شرح ہے.... سب سے پہلے ہم مختصراً یہ دیکھتے ہیں کہ یہ عقیدہ کیا ہے اور اس کی ابتداءکہاں سے ہوئی۔

یہ عقیدہ اربابِ تصوف کا سب سے اہم اور ”ہمہ گیر“ عقیدہ ہے، جس کو برصغیر کے تقریباً تمام صوفیائے کرام نے اپنایا ہے اور اپنے اپنے طریقے سے اس کی توضیح کی ہے۔ حضرت خواجہ غلام فرید ؒبھی ان میں سے ایک ہیں اور ان کا دیوان اسی ایک عقیدے کی گویا شرح ہے۔ اس مسئلے یا عقیدے کی تعبیر کرنا اور اس کا جواز ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں۔ دراصل یہ عقیدہ تصوف کے ساتھ اتنا منسلک نہیں، جتنا مابعد الطبیعات (میٹا فزکس) کے ساتھ ہے.... یہ میٹا فزکس کیا چیز ہے؟

میٹا فزکس کا اردو ترجمہ مابعد الطبیعات ہے، یعنی طبیعات کے بعد جو علوم، انسان کے احاطہءعقل میں آتے ہیں، ان کو مابعد الطبیعات کا نام دیا جاتا ہے۔ فزکس اس سائنس کو کہا جاتا ہے جو مادے کے ابتدائی ذرات کی تبدیلیوں اور ان کی حرکات سے بحث کرتی ہے۔ فزکس، ذرات کی ساخت، کششِ ثقل، مقناطیسی فیلڈ اور ان کی ہئیت وغیرہ کو بھی بیان کرتی ہے۔ قدیم فلاسفہ کے ہاں فزکس کا لفظ ”نیچر“ کے جملہ مظاہر کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں اس میں تبدیلیاں ہوتی گئیں اور فزکس کا مفہوم ان قواعد و قوانین کے مطالعے کا مرکز بن گیا جو اجسام کی حرکت (موشن) اور اصوات سے بھی بحث کرتے ہیں۔ یہ ایک طویل فلسفیانہ اور سائنسی بحث ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہماری مادی دنیا کے مختلف مظاہر کے علوم کا نام فزکس یا طبیعات ہے، لیکن جب معاملہ مادے سے آگے نکل کر روح کی طرف چلا جاتا ہے، یا محسوس سے نا محسوس مظاہر سے بحث کرتا ہے تو اسے ”ماورائے طبیعات“ یا مابعد الطبیعات کا نام دیا جاتا ہے۔ خدا نہ مادہ ہے، نہ روح، بلکہ ہر محسوس اور نا محسوس حس اور پیکر سے ماورا ہے۔ اس کی اسی ذاتِ یکتا ویگانہ کے مظاہر جو ساری کائنات (نیچر) میں جاری و ساری ہیں، ان کے علوم کو میٹا فزکس کہا جاتا ہے.... آئیے! اس علم کی تاریخ پر بھی ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں اور صوفیاءکے عقیدئہ وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کرتے ہیں۔

مابعد الطبیعات کا سب سے پہلا اور بڑا مبلغ افلاطون کو کہا جاتا ہے۔ افلاطون (Plato) 427 ق م میں پیدا ہوا اور 70 برس کی عمرپاکر 347ق م میں انتقال کر گیا۔وہ سقراط کا شاگرد اور ارسطو کا استاد تھا۔ 30 کتابوں کا مصنف ہے جو مکالمات کی صورت میں ہیں۔ سب سے مشہور کتاب کا نام ”یوٹوپیا“ ہے، جو ایک خیالی اور تصوراتی ریاست ہے جس کا نقشہ تو افلاطون نے کھینچ دیا ہے، لیکن اس کا وجود میں آنا محال ہے۔ افلاطون دنیا کو حقیقت نہیں، حقیقت کا عکس سمجھتا تھا۔ اس کی نگاہ میں حقیقت صرف اور صرف ”افکار و خیالات“ کا نام ہے، جن کا کوئی مادی وجود نہیں،لیکن یہ افکار تمام مادی ظواہر و شواہد کے معمار بھی ہیں۔ کوئی مادی صورت، کسی غیر مادی خیال کے بغیر صورت پذیر نہیں ہو سکتی۔ مادہ انسانی ذہن میں پہلے خیال کی صورت میں جنم لیتا ہے اور پھر جب خیال کو عمل میں ڈھالا جاتا ہے تو یہ مادے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ افلاطون کی نگاہ میں مادہ، افکار کی تخلیق ہے، اس لئے اس کا سٹیٹس ”عبوری“ اور ”عارضی“ ہے، جبکہ افکار و خیالات دائمی اور مستقل ہیں، ان کو فنا نہیں۔ وہ زمان و مکان کے محتاج نہیں، جبکہ ساری کی ساری ہماری یہ مادی دنیا، معروضی اور عارضی ہے اور اس کی اساس زمان و مکان (ٹائم اینڈ سپیس) کی محتاج ہے۔۔

یہ تصور یا عقیدہ فلاطونی فلسفے کی اساس ہے۔ یہی عقیدہ تھا جس کی کوکھ سے بعد میں تیسری صدی عیسوی میں نو فلاطونی فلسفہ (Neo- Platonism) نے جنم لیا اور باقاعدہ ایک مستقل مکتبِ خیال بن گیا۔

اس ”نو فلاطونی نظرئیے“ کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:

-1 ہستی جب وجود میں آئی تو ایک ”اکائی“ تھی۔ اسی ”اکائی“ سے دوسری ہستیوں نے جنم لیا۔ تمام کی تمام دنیا اسی ایک اکائی سے بنی ہے اور آخر میں اسی اکائی کی طرف لوٹ جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہی ”ایک اکائی“ ہے جو باقی رہے گی، دوسرا سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ اس اکائی کے علاوہ جو کچھ بھی ہے فانی ہے، اوراس اکائی کا عکس ہے۔ صوفیا کی اصطلاح میں، یہ اکائی ”خدا“ ہے، جو باقی اور قائم ہے۔ خدا کے سوا سب کچھ فانی ہے۔ دنیا میں خدا کے سوا جو کچھ بھی ہے، وہ اسی خدا کا مظہر ہے.... اس عقیدے کو ”ہمہ اوست“ بھی کہا جاتا ہے۔

.... اور چونکہ خدا نے کسی اور چیز یا زندگی سے جنم نہیں لیا، بلکہ سب چیزیں اور زندگیاں اسی کی ذات سے جنم لیتی ہیں، اس لئے اس دوسرے عقیدے کو ”ہمہ از اوست“ کہا جاتا ہے۔ ہمہ اوست (وہی سب کچھ ہے) اور ہمہ ازاوست (سب کچھ اسی سے ہے) میں جو فرق ہے وہ اربابِ نظر سے پوشیدہ نہیں۔

-2 خدا اور کائنات دونوں ایک ہیں، خدا خود کائنات ہے، یعنی دوسرے لفظوں میں خدا اور کائنات میں کچھ فرق نہیں۔ خدا کی تشریح اور توضیح نہیں کی جاسکتی۔ زندگی، روح، وحدت وغیرہ نا مکمل تشریحات ہیں اور خدا ان تمام اوصاف سے بہتر اور ارفع ہے۔ وہ کسی کے احاطہءخیال میں بھی نہیں آسکتا۔ غالب نے اسی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد

عالم تمام حلقہءدامِ خیال ہے

لیکن جب غالب کا مطالعہ زیادہ وسیع ہوا تو معلوم ہوتا ہے، ان کو اس نو فلاطونی عقیدے سے انکار کرنا پڑا۔ متذکرہ بالا شعر ان کی ابتدائی زندگی اور ابتدائی زمانہ کی شاعری کا ہے، جب ان کا تخلص اسد تھا۔ جب وہ اسد سے غالب ہوئے تو کہا:

اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے

حیراں ہوں پھر محاسبہ ہے کس حساب میں

-3 اس نو فلاطونی نظرئیے کا تیسرا جزو یہ ہے کہ کسی بھی خیال کا اطلاق خدا پر نہیں کیا جاسکتا۔ خدا واجب الوجود تو ہے، لیکن سب کچھ اس کے اپنے اندر ہے۔ وہ کسی حساب کتاب اور شمار قطار میں نہیں آسکتا۔ وہ ذات سب ذاتوں اور اشیاءکو محیط ہے، لامحدود اور مطلق ہے۔ خدا کے متعلق جو خیال بھی باندھا جائے گا، خدا اس سے ماورا ہوگا۔ وہ ایسی ہستی ہے جو انسان کے حواسِ خمسہ یا کسی فکر و خیال سے ورے ہے۔ اس کو اگر محسوس کرنا ہے تو اس کے لئے بصارت نہیں بصیرت (وژن) چاہئے اور جستجو کا وہ مقام چاہئے جو انتہائے عشق ہے۔ کسی فارسی شاعر نے کیا اچھا کہا ہے:

حرم جویاں درے را می پرستند

فقیہاں دفترے را می پرستند

برافگن پردہ تا معلوم گردد

کہ یاراں دیگرے را می پرستند

(مسجدوں میں قیام و سجود کرنے والے گویا آستانوں کی عبادت کرتے ہیں اور فقہا حضرات جو اسلامی قوانین کی شرح کرتے ہیں، وہ گویا دفتروں اور کتابوں کو پوجتے ہیں.... اے خدا! اپنے چہرے سے ذرا پردہ ہٹا دے، تاکہ دوستوں کو معلوم ہو سکے کہ وہ کسی اور کو ہی پوجتے رہے تھے!)

سطور بالا میں ہم نے اس نو فلاطونی نظرئیے کا ایک مختصر سا خاکہ بیان کیا جو افلاطون کی وفات (353 ق م) سے لے کر اشاعتِ اسلام کے سنہری دور یعنی خلافتِ بنوعباسیہ (750ءتا 1258ئ) تک آتا ہے۔ خلافت ِراشدہ کے دور میں اسلام کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو شام، ایران، فلسطین، مصر، عراق اور ہندوستان تک جا پہنچا تھا۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید نے دارالحکومت بغداد میں ایک دارالترجمہ قائم کیا، جس میں مسلم سکالروں نے مفتوحہ علاقوں کے مصنفین کے علاوہ یونانی مفکرین اور فلاسفہ کی کتب کا بھی ترجمہ کیا۔ طب،نجوم، جغرافیہ، نفسیات، منطق، کلامءریاضی، سیاسیات، اخلاقیات اور فلسفہ وغیرہ کے جملہ موضوعات کے تراجم کئے گئے۔ عربی زبان میں پہلے ان علوم پر کچھ زیادہ مواد موجود نہ تھا، اس لئے عربی زبان و ادب میں یہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا، جس نے اس زبان کی وسعت و ثروت میں بے پناہ اضافہ کیا.... انہی تراجم میں افلاطون کا فلسفہءنو فلاطونیت بھی شامل تھا۔

اسلام میں جہاں پہلے فقہا، دینی مفسر، قاضی اور تاریخ دان حضرات کا طوطی بولتا تھا، اب ان میں فلسفی بھی شامل ہوگئے۔ سب سے پہلے جس مسلمان نے یونانی فلسفہ اور اسلام میں مماثلتیں تلاش کیں ، اس کا نام الکندی تھا، جس کی تاریخ وفات 883ءہے۔ اس کے بعد الفارابی (تاریخ وفات950ئ) اور بو علی سینا (تاریخ وفات1037ئ) نے اس سلسلے کو کافی آگے بڑھایا اور بڑا نام پایا۔(جاری ہے)

 

مزید : کالم