پچھلا ستمبر تو ستم گر تھا !

پچھلا ستمبر تو ستم گر تھا !
پچھلا ستمبر تو ستم گر تھا !

  

پچھلا ستمبر تو ڈینگی کے حوالے سے ستم گر تھا ، جب وہ مہینہ ختم ہو رہا تھا تو دس ہزار سے زائد مریض سرکاری ہسپتالوں سے شفا یاب ہو کے جا چکے تھے، مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی ممتاز ججہ سمیت کتنے ہی اپنی زندگی ہار چکے تھے، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف روزانہ صبح ٹھیک سات بجے ڈینگی کا مقابلہ کرنے کے لئے انتظامی سیکرٹریوں اور ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس منعقد کر رہے تھے، میاں نواز شریف کی ہدایت پر سکول دس دن بندرہنے کے بعدکھل چکے تھے اور سری لنکن ماہرین بھی لاہور یوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کرنے کے بعد اپنے وطن واپس روانہ ہوچکے تھے، گویا ایک ہنگامہ تھاجو برپا تھا ، ایک جنگ تھی جو لڑی جا رہی تھی، ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی تھی جو نافذ تھی مگر ستمبر2011ءکے مقابلے میں امسال ستمبر بہت ہی پر سکون رہا، پورے مہینے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ڈینگی کے مریضوں کی تصدیق ہو ئی اور یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف ایک سے ڈیڑھ فیصد ہیں۔ میں اعداد و شمار کا آپس میں موازنہ کرتا اور یہ سوچتا رہا کہ کیا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ڈینگی کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے مار بھگایا ہے یا میرے کچھ دوستوں کے مطابق حکومت نے ڈینگی مریضو ں کی تعداد کے حوالے سے بڑا موثر سنسر لگا رکھا ہے۔ میں سوچتا رہا کہ ہم سب تنقید کرنے ، سننے اور پڑھنے کے عادی ہیں ایسے میں اگر حکومتی کاوشوں اور کامیابی کی تعریف کی جائے گی تو یہی سمجھا جائے گا کہ کاسہ لیسی کی جا رہی ہے ۔ کوئی بھی غیر جانبدار تجزیہ نگا ر اٹھے اور ابھی ابھی رخصت ہونے والے ستمبر کا گذشتہ ستمبر کے ساتھ موازنہ کرلے تو اسے فرق کا اندازہ ہوجائے گا مگر ڈینگی پر قابو پانے کے حوالے سے ابھی حکومت میں موجود یار دوست کوئی دعویٰ کرنے یا کریڈٹ لینے سے ڈرتے ہیں، میں نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی وہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ابھی اکتوبر کا مہینہ باقی ہے، وہ اکتیس اکتوبر کو ہی ڈینگی پر قابو پانے کے حوالے سے کوئی بات کر سکیں گے، انہوں نے کہا کہ اگر کامیابی ملی بھی ہے تو اس میں صرف حکومت نہیں بلکہ میڈیاا ور پوری سوسائٹی کا بھی حصہ ہے مگر مجھے ایک غیر جانبدار مبصر کے طور پر حکومتی کاوشوں کو تسلیم بھی کرنا ہے اوراللہ رب العزت سے محفوظ رکھنے کی دعا بھی کرنی ہے۔

میرے بہت سارے دوست دونوں ستمبروں کے تقابل سے ملنے والے نتائج پر حیران ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ابھی پچھلے سال تو سری لنکن ہمیں پڑھا کے گئے تھے، وہ سال ہا سال سے ڈینگی کا مقابلہ کر رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہوا کہ اتنے وسیع پیمانے پر وبا کے بعد اگلے ہی سیزن میں اسے ایک فیصد تک محدود کر دیا جائے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب سری لنکا والوں کو ہم سے تربیت لینی چاہئے کہ وباو¿ں اور بیماریوں کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، دوسری طرف ماہرین اب تک مریضوں کی تعداد حیرت انگیز حد تک کم ہونے کی اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر توجیہات بھی پیش کرتے ہیں، وہ کہتے ہیںکہ ڈینگی مچھر چار اقسام کے ہیں اور جس دوسری قسم کے مچھر نے گذشتہ سیزن میں لاہوریوں پر حملہ کیا تھا اب تک کی تحقیق کے مطابق وہی مچھر اس برس بھی شہر میں موجود ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہے کہ گذشتہ برس جس کو ڈینگی بخار ہوا اور وہ اس سے صحت یاب ہو گیا اب اسے اس قسم کے مچھر سے پوری زندگی کے لئے قدرتی طور پر تحفظ مل گیا ہے۔ اب یہ مچھر کسی نئے شکا ر پر حملہ کرے گا تو تب ہی بخار ہو گا ورنہ اس کے ڈنگ ناکام ہی جائیں گے، دوسرے ڈینگی کے مریض اس وقت زیادہ ہو سکتے ہیں اگر چار اقسام میں سے پہلی، تیسری یا چوتھی قسم کا مچھر حملہ آور ہو جس سے ابھی لاہوریوں کو تحفظ حاصل نہیں مگر فی الحال یہ اقسام یہاں نہیں ہیں۔ہمیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگی بنیادوں پر لاہور سے ڈینگی لاروے کی تلفی کے لئے کام ہو رہا ہے، کہا جا رہا تھا کہ پرانے ٹائر ڈینگی کی افزائش کی بہت بڑی آماجگاہ ہو سکتے ہیں اور اس کے لئے خواجہ عمران نذیر کی قیادت میں مسلسل چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں اور اب تو باقاعدہ ایف آئی آرز درج کر کے گرفتاریاں بھی شروع کی جا رہی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جہاں سے لاروا ملے، وہاں کے مالک کی گرفتاری ایک ظالمانہ اقدام ہو گا مگر بہرحال ایک سست اور لاپروا شخص کی گرفتاری اتنا بڑا ظلم نہیں ہو سکتا جتنا بڑا ظلم وہ صفائی کو یقینی نہ بنا کے اور ہم سب کے لئے ڈینگی کی پرورش کر کے کرتا ہے۔ مجھے یہ دلیل تسلیم کرنے میںبھی عار نہیں کہ حکومت ہر گھر کے اندر گھس کے گملے ، روم کولر اور باتھ روموں میں مسلسل بہتی ٹونٹیاں چیک نہیںکر سکتی،اس کے لئے ہمیں بطور فرد اور بطور معاشرہ ہی متحرک ہونا ہو گا۔ ہمارے ہاں ذمہ دار شہری کا کلچر ہی نہیں ہے ورنہ ہم اپنی اپنی گلی اور اپنے اپنے محلے کو حکومت کی طرف دیکھے بغیر ہی ڈینگی فری بنا سکتے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم بیمار ہونے کی صورت میں ہزار سے پانچ ہزار روپے تک خرچ کر دیں گے لیکن اگر ہم سے کہا جائے کہ دس ، بیس یا پچاس روپے محلے کی سطح پر جمع کر کے ہم اپنے لئے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنا لیں تو یہ خرچ کرنے پر ہم تیار نہیں ہوں گے۔

 کچھ دوستوں کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت نے مریضوں کی اصل تعداد سامنے نہ لانے کے لئے غیر اعلانیہ مگر بڑی ٹیکنیکل قسم کی سنسر شپ عائد کر رکھی ہے۔ ڈینگی کے لئے این ایس ون ٹیسٹ لازم قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ اگر یہ ٹیسٹ بخار ہونے کے پہلے چھ دنوں میں نہ کیا جائے تو یہ کبھی بھی ڈینگی بخار کو ظاہر نہیں کرتا، یہ ایک مہنگا ٹیسٹ ہے جس کی عیاشی سری لنکن بھی نہیں کرتے، وہ ہم کر رہے ہیں۔ پی ایم اے لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اظہار چودھری کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومتی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہئے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈینگی ہر سال حملہ آور نہیں ہوتا، اس بیماری کے حملہ آور ہونے کا باقاعدہ ایک سرکل ہوتا ہے لہذا اگر آج آپ سیزن اطمینان سے گزرنے کا جشن منانے کا سوچنے کے باوجود اپنی تیاریاں اور احتیاطی تدابیر کو ہرگز ترک نہ کریں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلے برس یہ زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آور ہوجائے، یہی بات پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے ڈاکٹر طارق میاں نے مجھے اس وقت کہی جب میں نے ان سے پوچھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں تو ڈینگی کے مریضوں کے آنے کی تعداد بہت کم ہے، آپ بتائیں گلی محلوں میں ہمارے فیملی فزیشنز کے پاس کتنے مریض آ رہے ہیں تو انہوں نے بھی تصدیق کی کہ گذشتہ برس ستمبر میں ہر کوالیفائیڈ ڈاکٹر کے پاس بلاشبہ ہزاروں ڈینگی کے مریض پہنچے، کچھ ڈاکٹروں نے تو ایک دن میں سینکڑوں مریضوں کو بھی دیکھا مگر اس برس یہ تعداد اکا دکا ہی ہے۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرم کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس برس معاملات بہت بہتر ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ برس صورتحال عطائیوں کی وجہ سے بھی خراب ہوئی اور کچھ ہمارے ڈاکٹروں کو بھی اس بیماری سے نمٹنے کا تجربہ نہیں تھا مگر اس برس ہمارے ڈاکٹر پوری طرح تربیت یافتہ اور تیار ہیں لہذاعوام کو اب ڈینگی ہونے کی صورت میں بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے تو کچھ اس قسم کی ریسرچ بھی بتائی کہ گذشتہ برس جو ہم پلیٹ لٹس لگاتے رہے ہیںاب وہ لگانے بھی ضروری نہیں۔ میں نے خواجہ سلمان رفیق سے پوچھا کہ کیا حکومت نے این ایس ون ٹیسٹ لازم کر کے مریضوں کی تعداد کم کرنے کی کوشش اور غیر اعلانیہ سنسر شپ عائد کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ کوئی متنازعہ بات نہیں کرنا چاہتے، بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اصل چیز دعا ہے جو ہمیں ہر بری چیز سے بچا سکتی ہے مگراس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم دوا کرنے سے گریز کرنے لگیں۔ ہم اپنے گھروں اور علاقے میں پانی کھڑا رہنے دیں، لاروے وہاں پلتے اور مچھر وہاں بنتے رہیں، کسی نے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں گھوڑے ( کی حفاظت کو یقینی بنانے کے پیش نظر) باندھ کے اللہ پر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کے، میرے عقل اور حکمت سے بھرے آقا نے فرمایا، گھوڑے کو باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو۔

مزید : کالم