روسی وزیر خارجہ کا دورہ

روسی وزیر خارجہ کا دورہ

روسی وزیر خارجہ جناب سرجی وکتروچ پاکستانی حکام سے مذاکرات کے لئے آج (بدھ) اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ وہ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی دعوت پر پاکستان کا دو روزہ دورہ کررہے ہیں۔ ان کا دورہ روسی صد ر ولادمیر پیوٹن کا دو اور تین اکتوبر کا دورہ ملتوی ہوجانے کے بعد رکھا گیا ہے۔ اسی دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی روس کا دورہ کررہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق روسی وزیر خاجہ کے موجودہ دورہ سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تعلقات کو مضبوط بنانے اورانہیں مزید وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ اور روسی وفد کے درمیان پیر کے روز ان تین مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوگئے ہیں جس میں تاخیر ہونے کو با خبر حلقے روسی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہونے کا سبب سمجھتے ہیں۔ ان ایم او یوزکے مطابق روس پاکستان کی نیشنل سٹیل ملز کو جدید بنانے ، پاکستان ریلوے کے لئے مسافر بوگیاں فراہم کرنے، بجلی اور گیس کے بہت سے منصوبوں میں تعاون کرے گا۔ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے میں بھی روسی کمپنیاں دلچسپی رکھتی ہیں اور روس کی طرف سے بہت سے دوسرے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنے اور پاکستان کو ٹیکنالوجی فراہم کر نے میں دلچسپی ظاہر کی جارہی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ روسی صدر نے پاکستانی بیوروکریسی کے روائتی رویے اور معاملات کو بلا سبب طول دینے کے ہتھکنڈوں پر برہمی کے بعد اپنا دورہ پاکستان ملتوی کیا ہے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ دونوں ممالک میں روابط بڑھانے کا مطلب محض بات چیت اور بیانات جاری کرنا نہیں ہونا چاہئیے انہیں کسی فیلڈ میں عملی صورت میں نظر بھی آنا چاہئیے۔ جب روس کے انتہائی قابل اور اس وقت دنیا کے لیڈروں میں چوٹی کے مستعد اور زیرک صدر کو پاکستانی بیوروکریسی کی طرف سے روس اور پاکستان کے مشترکہ منصوبوں میں رکاوٹوں کا علم ہوا توانہوں نے اپنا دورہ پاکستان ملتوی کردیا۔

 خوش قسمتی سے ہماری بیوروکریسی جس کے کان پر قومی مفادات کے سلسلے میں جوں تک نہیں رینگتی ، روس جیسی سپر پاور کی طرف سے اس ناراضگی کے اظہار پر خواب غفلت سے جاگی اور روس کے ساتھ عرصہ دراز سے طاق نسیاں کی شکار مفاہمتی دستاویزات پر بالآخر دستخط ہوگئے ۔ جس کے فوری بعد روس کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ترتیب دیا گیا۔ اس کے بعد توقع کرنی چاہیے کہ مستقبل قریب میں صدر روس جناب ولادی میرکا ملتوی ہو جانے والا دورہ بھی ازسر نو شیڈول ہوجائے گا، اور ہمارے رہنما ان سے بہت کچھ سیکھنے اور اس بڑے ملک سے بہت سا تعاون حاصل کرنے کے لئے جلد انہیں اپنے درمیان پائیںگے۔

ہماری حکومت اور سیاسی قیادت کو اپنے روزمرہ کے مسائل سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو سرخرو کرنے اور اپنی سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئیے۔ قوم وملک کے لئے مخلصانہ کام کرتے ہوئے بیوروکریسی کی پیدا کردہ رکاوٹوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جس طرح ہم حکومتی اتحادیوں کی ناراضگی افورڈ نہیں کرسکتے اسی طرح ہمیں عالمی سطح پر بڑی طاقتوں اور ان سے منسلک اپنے مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔     ٭

مزید : اداریہ