سندھ: بلدیاتی قانون اور ہنگامے

سندھ: بلدیاتی قانون اور ہنگامے

سندھ اسمبلی نے پیر کو نیا بلدیاتی آرڈیننس 2012ءمنظور کرکے اسے باقاعدہ قانون کی حیثیت دے دی ہے۔ یہ متنازعہ بل اپوزیشن کے احتجاج کے دوران کسی بحث کے بغیر منظور کیا گیا ۔ بل پر سندھ کے قوم پرست سیاستدانوں اورکئی جماعتوں کو شدید اختلافات تھے ، خود حکومتی پارٹی کے اندر بھی بعض لوگ اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ یہ بل ایسی فضا میں منظور کیا گیا ہے جب لندن میں پیپلز پارٹی کے سربراہ اور صدر مملکت آصف علی زرداری ایم، کیو، ایم ،کے قائد الطاف حسین سے ملاقات کررہے تھے جس میں دونوں جماعتوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔

 بل کی منظوری کے موقع پر سندھ بھر میں اس کے خلاف ہڑتال ہوئی ، شدید مظاہرے اور احتجاج کیا گیا ۔ نواب شاہ میں ایک پولیس چوکی کو آگ بھی لگا دی گئی جس کے بعد فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ مخالفین اس قانون کو سندھ تقسیم کرنے کی سازش قرار دے رہے ہیں اور بظاہر اسے کسی بھی طور قبول کرنے کو تیار نہیں، جبکہ پیپلزپارٹی کی قیادت حکومت میں اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی کے تحت اس سلسلے میں ایم، کیو، ایم، کی خواہش کے آگے جھکی ہوئی نظر آرہی ہے۔ دراصل اس سسٹم کے مطابق صوبے میں پانچ میٹروپولٹن کارپوریشنیں ہوں گی جبکہ باقی اٹھارہ ضلعوں میں صرف کونسلیں کام کریں گی۔ اس قانون کے ذریعے پولیس آرڈر 2002ءبھی کراچی میں بحال ہوجائے گا جبکہ باقی علاقوں میں یہ لاگو نہیں ہوگا۔

اس صورتحال کو سندھی قوم پرستوں کی طرف سے دہرا نظام اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا جارہا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ا س اہم مسئلے پر سندھ اسمبلی میں بحث نہیں کی گئی ، اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد سپیکر نے کہا ” اس وقت اپو زیشن ایوان میں تنقیدکے لئے موجود نہیں اس لئے یہ بل متفقہ طورپر منظور کیا جاتا ہے“۔اس طرح جمہوری روح کے سراسر مخالف رویہ اختیار کیا گیا۔ اپوزیشن جس کے اس سلسلے میں شدید تحفظات تھے اسے اسمبلی میں اس بل پر کھل کر تمام پہلو سامنے لانے اور ہر طرح کے دلائل دینے کا موقع ملنا چاہئیے تھا۔لیکن اس سے انحراف کیا گیا ، مختلف نسلی، علاقائی اور گروہی جذبات اور لاقانونیت اور قتل و غارت میں گھرے ہوئے سندھ میں مسائل کے حل کے لئے تمام گروہوں کو ہر معاملے میں سننا ،درست دلائل اور زمینی حقائق پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔ تمام کمیونٹیز کے اطمینان کے بعد ہی معاملات آگے بڑھنے چاہئیں۔ یہ درست ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم، کیو،ایم ، ہی دو بڑی سیاسی قوتیں ہیں، لیکن حالات کو قابو میں رکھنا اور امن وامان قائم کرنا ہے تودوسروں کی بات سننا اور انہیں وزن دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایم، کیو، ایم، کوسننا ۔

سندھ میں دیہی اورشہری علاقوں میں بہت بعد پیدا ہوچکا ہے، کراچی جیسا عظیم شہر جگا لینے اورٹارگٹ کلنگ والوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ مختلف نسلی یا لسانی گروہ کسی بھی طرح کے سیاسی یا انتظامی معاملات میں اپنے تحفظ اور حقوق کے سلسلے میںبہت محتاط اور حسا س ہوچکے ہیں ۔ کراچی جیسے بڑے شہرمیں جہاں مختلف علاقوں میں مختلف کمیونیٹز کے لوگ بستے ہیں اور دوسروں کے ہاتھوں اپنے حقوق اور جان ومال تک کے لئے خدشات کے شکار ہیں وہاں چھوٹی کمیونٹیز یہ خدشہ محسوس کرتی ہیں کہ اگر میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایک ہی بڑی کمیونٹی کو تمام اختیارات مل جاتے ہیں اور پولیس کا محکمہ بھی میئر کے پاس رہتا ہے توپھر ان کے خدشات کاکیا ہوگا۔ یہ سیدھا سا مسئلہ ہے جس کا حل کارپوریشن کے مختلف زونز کے منتخب سربراہوں کو بھی تمام ضروری اختیارات دے کر کیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی یہ اختیارات کے ارتکا ز کا نہیں نیچے تک تقسیم کا زمانہ ہے ۔ لوگوں کو کونسل کی نچلی سطح پر زیادہ سے زیادہ اختیارات دینا اور ان کے چھوٹے موٹے تمام معاملات ارکان اسمبلی کے بجائے کونسلوں ہی میں نمٹانا لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت اور پاکستان کے ساتھ مضبوط وابستگی کا احساس دے سکتا ہے۔ ڈائیلاگ کے ذریعے معاملات طے کرنے کی اہمیت ساری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے۔ ایک بار انتخانات جیت جانے کے بعد عوام کو اپنے تمام تر سنگین مسائل اور مصائب کے ساتھ ان کے حال پر چھوڑ دینا اور مختلف معاملات میں رائے عامہ کو نظر انداز کئے چلے جانا اور مسائل کی ذمہ داری اپنے مخالفین کے کندھوں پر ڈالتے رہنا جمہوریت کی بھی نفی ہے اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کو دانستہ پس پشت ڈالنے کار ویہ بھی ہے۔

پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اصول کو اپنانے کا دعویٰ کیا ہے، وہ اپوزیشن اور اتحادیوں کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں بھی مہارت رکھتی ہے، سندھ کی تقسیم یا دہرے نظام کے احساس سے سندھیوں کو نکالنے کے لئے بھی اس جماعت سے مثبت توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پیپلز پارٹی تمام متعلقہ جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ مل بیٹھے اور سب کا نقطہ نظر سننے کے بعد افہام وتفہیم سے کام لیتے ہوئے سب کے لئے قابل قبول راہ تلاش کی جائے ۔ ایسا راستہ تلا ش کیا جائے جس سے کسی کو اپنے حقوق غصب ہونے ، سندھ تقسیم کئے جانے یا پولیس اور حکومتی اختیارات اپنے مخالف گروہ کے ہاتھ میں آجانے سے اپنے مال کے غیر محفوظ ہوجانے کا خدشہ باقی نہ رہے۔

پاکستان یہاں بسنے والے سب لوگوں کا وطن ہے۔ اس پر سب کا حق ہے، اب لوگ محض وعدوں اور جھوٹی تسلیوں سے نہیں بہل سکتے۔ جس قدر سنگین حالات سے قوم گذر رہی ہے اس نے ہر کسی کو محتاط اور ہوشیار کر دیا ہے۔ استحصال اور ظلم کے خلاف ہر طرف سے آواز بلند ہو رہی ہے، اسے کسی بھی طرح سے نہ دبایا جاسکتا ہے نہ اب لوگوں کوکوئی سبز باغ دکھایا جا سکتا ہے۔ جولوگ اپنا ساتھ دینے کا مول لگانے پر مستعد ہیں ، انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لوگ ا ب قومی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے بھی متمنی ہیں اور اتحاد اور میثاق صرف لینے ہی کا نہیں دینے اور اپنی خواہشات چھوڑنے کا بھی نام ہے۔ سب طرف سے قومی یک جہتی اور سلامتی کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آمادگی اور سب کے لئے قابل قبول اور سب کے لئے ”ون،ون“والی کیفیت پیدا کرنے والا حل ہی اس دور میں دیرپا مثبت نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ امید کرنی چاہئیے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جسے روائتی طورپر سندھ میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل رہی ہے اس سے پہلے کہ اس کے حلقہ انتخاب کو کو کوئی اور سنبھال لے وہ مجروح ہوجانے والے جذبات کو سنبھال لے گی۔

مزید : اداریہ