نواز شریف طلال بگٹی ملاقات، مستقبل کا سیاسی نقشہ بن رہا ہے

نواز شریف طلال بگٹی ملاقات، مستقبل کا سیاسی نقشہ بن رہا ہے
نواز شریف طلال بگٹی ملاقات، مستقبل کا سیاسی نقشہ بن رہا ہے

  

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگتی کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بلوچستان میں جمہوری وطن پارٹی کے ساتھ مل کر حصہ لینے پر غور کیا جائے گا۔ اس سے پہلے ان کی جماعت کے راہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار خان نے یہ واضح کیا کہ نگران حکومت کے حوالے سے بہت سی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد ہی ایک بڑا اتحاد وجود میں آ جائے گا۔ حوالہ مختلف ہونے کے باوجود قائد مسلم لیگ اور ان کے ساتھی کی بات ایک ہی ہے ۔ اس سے اندازہ ہو گا کہ آئندہ ملکی سیاست کا رخ کیا ہو گا۔ میاں محمد نواز شریف اس سے پہلے سندھ میں قوم پرست جماعتوں اور ”ٹیلینٹڈ کزن“ ممتاز بھٹو سے بھی اتفاق اور اتحاد کی بات کر چکے ہیں۔عام مبصرین کا بھی یہی خیال ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بھی کوئی ایک جماعت واحد اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے نہیں آئے گی اور مخلوط حکومت ہی بنے گی ۔ قائدین کے ایسے فیصلے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ نہ صرف ان کو حالات کا ادراک ہے بلکہ قوم پرست جماعتوں کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ وہ انفرادی طور پر کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں حاصل کر سکتیں اس کے لئے کسی قومی جماعت کا سہارا لینا ضروری ہے ۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے تو میاں محمد نواز شریف کی یہ سوچ اور اس پر عمل مستقبل کے پروگرام کا غماز ہے کہ انہوں نے 2008ءکے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اب اتحاد کی سیاست بھی شروع کی ہے اور ایسی جماعتوں سے ہاتھ ملایا ہے ماضی میں جن کے خلاف تھے، ایک مثال سردار اختر مینگل کی ہے ۔ میاں نواز شریف نے ان کے ساتھ بھی بڑے مثبت مذاکرات کئے اور بلوچستان کے حوالے سے ماضی کی غلطیوں پر نظرثانی کی ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی یہ سوچ اور کاوش فطری محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف زرداری 2008ءکے انتخابات کے بعد ہی سے اتحاد کی سیاست کر رہے ہیں اوراگرچہ بہت مشکل مقام آئے مگر انہوں نے تاحال اتحادی گنوائے نہیں۔ اب تو انہوں نے اور آگے قدم بڑھایا اور ایم کیو ایم سے بھی انتخابی ایڈجسٹمنٹ کا عندیہ دیا ہے جسے الطاف حسین کی طرف سے پذیرائی بھی ملی ہے ۔ اگرچہ یہ ذرا جلدی ہے کیونکہ ایم کیو ایم حتمی فیصلہ سوچ بچار کے بعد ہی کرے گی البتہ یہ ثابت ہو گیا کہ آصف علی زرداری کسی بھی قیمت پر اپنے اتحادی چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ فرق یہ نظر آ رہا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لئے ”اہم امیدواروں“ کی تلاش کرتے چلے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کا اتحاد(سندھ کی حد تک) وڈیروں سے ہو رہا ہے، پنجاب میں بھی وہ ”جیتنے والے امیدواروں“ ہی کو ٹکٹ دیں گے، اس حیثیت والے حضرات مسلم لیگ (ق) کے پاس بھی ہیں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ طے ہے ۔

اب اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے اور پھر غور و فکر کیا جائے توا ٓنے والی سیاست کا انداز اقتدار کی خواہش کی صورت میں نکلتا ہے ۔ آصف علی زرداری کے ساتھی ایم کیو ایم اور اے این پی والے بھی ہیں جو لبرل، ترقی پسند اور سیکولر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، دوسری طرف میاں محمد نواز شریف نے بھی ترقی پسندوں کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ہے اور دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر اپنے قدرتی حلیفوں پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ متصادم نظریات کی حامل جماعتوں سے بھی اتحاد ہو رہا ہے۔ بات نظریات کی ہوتی تو مسلم لیگیں ایک ہوتیں مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ن) کے فاصلے اتنے نہ ہوتے کہ دونوں متحارب دھڑوں میں تبدیل ہو جاتیں، اسی طرح اور بہت سی مسلم لیگیں بھی نہ ہوتیں اور نہ ہی قوم پرست جماعتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی۔

ابھی تو ابتدا ہے ۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ جوں جوں انتخابات کا وقت قریب آتا جائے گا تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں گی یہ بھی ممکن ہے کہ کسی لمحے موجودہ پیر پگاڑا صبغت اللہ راشدی اچانک لاہور آ کر جاتی عمرہ دعوت کھائیں اور پھر کوئی نیک عمل ہو، بہرحال اگلا موسم اتحادوں کا ہے اور انتخابات کے بعد مخلوط حکومتوں کے لئے بھاگ دوڑ سے پہلے یہ مشق بری نہیں۔

اس سارے کھیل میں مغربی دنیا کے شیطان صفت لوگوں اور امریکی انتظامیہ کے معاوندانہ رویئے کی وجہ سے ملک کی دینی جماعتیں بھی اہمیت اختیار کرتی چلی جا رہی ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں ان کا بھی ”وزن“ ہو گا اور کسی نہ کسی پلڑے میں جائے گا ممکنہ طور پر یہ پلڑا پیپلزپارٹی مخالف اتحاد والا ہی ہو سکتا ہے ۔ مستقبل کے نقشے میں عمران خان کی تحریک انصاف الگ نظر آتی ہے جو کسی جماعت سے اتحاد نہیں کرنا چاہتی تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سوا باقی جماعتوں کے ساتھ مخالفانہ رویہ بھی نہیں رکھ رہے اور دینی جماعتوں کے موقف کی حمایت سے اپنا کردار بھی واضح کر رہی ہے ، اس لئے اسے جماعت اسلامی سمیت بعض دینی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے ، مستقبل کا سیاسی نقشہ اسی نوعیت کا ہے۔

مزید : تجزیہ