آئی ایس آئی میں سیاسی سیل سے متعلق وضاحت کیلئے سیکرٹری دفاع طلب ، آرمی ایکٹ میں احتساب کا طریقہ موجود ہے : سپریم کورٹ

آئی ایس آئی میں سیاسی سیل سے متعلق وضاحت کیلئے سیکرٹری دفاع طلب ، آرمی ایکٹ ...
آئی ایس آئی میں سیاسی سیل سے متعلق وضاحت کیلئے سیکرٹری دفاع طلب ، آرمی ایکٹ میں احتساب کا طریقہ موجود ہے : سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں سیکرٹری دفاع کو آج ہی طلب کرلیاہے اور لاءافسران کے عدالتی بائیکاٹ پراُن کی سرزنش کی ہے ۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ آرمی ایکٹ کے تحت بھی عسکری حکام کے احتساب کا طریقہ موجود ہے ، اخبارات پڑھ کر ایسے لگتاہے ، جیسے عدالتیں پارلیمنٹ کی دشمن ہیں ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کافل بنچ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق اصغر خان کی پٹیشن کی سماعت کرہاہے ۔ دوران سماعت وزارت دفاع کی طرف سے ڈائریکٹرلیگل نے آئی ایس آئی میں سیاسی سیل سے متعلق جواب داخل کرادیاہے جس کے متن کے مطابق وزارت دفاع کے ماتحت کسی ادارے میں بھی کوئی سیاسی سیل کام نہیں کررہا۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسارکیاکہ پولیٹیکل سیل آج نہیں تو کب تک کام کرتارہاہے ،آپ غیر واضح بیان دے رہے ہیں ، وضاحت ضروری ہے ۔عدالت نے کہاکہ بیان پر کسی کے دستخط موجود نہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ کے کیس ریکارڈ میں اٹارنی کے نام لکھاگیاخط موجود ہے جس کے تحت مئی 1975ءمیں آئی ایس آئی میں پولیٹیکل سیل قائم ہوا،اِس سے متعلق سیکرٹری دفاع کو وضاحت دیناہوگی ۔ عدالت نے سیکرٹری دفا ع کو آج ہی طلب کرلیاہے ۔ اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ آئی ایس آئی نے چودہ کروڑ روپے سیاستدانوں میں تقسیم کیے تھے اور یہ رقم آج 200کروڑ روپے کے برابرہے ۔ جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ کیا ایجنسیوں کو سیاست میں مداخلت کرنی چاہیے ؟ کرپشن دس ارب روپے کی ہو یا ایک کروڑ کی ، بات اصول کی ہوتی ہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ ملک میں کئی مارشل لاءآئے لیکن عدالتی نظام تباہ نہیں ہوا، تصور کریں ،عدالتوں جنرل بیٹھتے توپھر کیاہوتا؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ حمید گل آج بھی کہتے ہیں کہ 1988-90ءمیں آئی ایس آئی نے آئی جے آئی بناکر ٹھیک کیا جس پر عدالت نے کہاکہ حال ہی میں تین سابق جرنیلوں کو احتساب کے لیے طلب کیاگیا،آرمی ایکٹ کے تحت بھی احتساب کاطریقہ موجود ہے ۔سلمان اکرم راجہ کاکہناتھاکہ جرنیلوں کا ایک خاص ذہن ہوتاہے ، وہ سول معاملات میں مداخلت کو درست سمجھتے ہیں ۔عدالت نے کہاکہ ماضی میں پارلیمنٹ مارشل لا ءکے اقدامات کے توثیق کرتی رہی ،گذشتہ پارلیمنٹ نے تین نومبر کے اقدامات کے حق میں قرارداد بھی منظور کی یعنی ججوں کو گھر بھیجناٹھیک تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ آج پاکستان میں موجود جو ڈیشل سسٹم مثال ہے ،موجودہ پارلیمنٹ نے تین نومبر کے اقدامات کی توثیق نہیں کی ۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ پارلیمنٹ کے کردار کی ہمیشہ تعریف کی ، اخبارپڑھ کر لگتاہے کہ جیسے ہم پارلیمنٹ کے دشمن ہیں ۔ عدالتوں کابائیکاٹ کرنے پر چیف جسٹس نے لاءافسران کی سرزنش کی اور اُنہیں ہدایت کی کہ حکومت سے کہہ دیں کہ آپ کام نہیں کرناچاہتے ۔جب دل چاہتاہے تو عدالتوں کے بائیکاٹ پر چلے جاتے ہیں ،کبھی سناہے کہ لاءافسران نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیاہو،یہ مکمل مس کنڈکٹ ہے ۔

مزید : اسلام آباد