ٹھیکیداری نظام کیخلاف انڈونیشیاءمیں لاکھوں محنت کشوں کی ہڑتال

ٹھیکیداری نظام کیخلاف انڈونیشیاءمیں لاکھوں محنت کشوں کی ہڑتال
ٹھیکیداری نظام کیخلاف انڈونیشیاءمیں لاکھوں محنت کشوں کی ہڑتال

  

 جکارتہ ( مانیٹرنگ ڈیسک ) انڈونیشیاءمیں لاکھوں محنت کشوں نے ٹھیکیداری نظام کیخلاف اور اپنے حقوق کیلئے ہڑتال کردی ہے اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں محنت کشوں کے مارچ کے پیشِ نظر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پندرہ ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ۔ انڈو نیشیاءکے محنت کشوں کی کنفیڈریشن کے چیئرمین یورس راویانی نے اس ایک روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی جس کا مقصد انڈو نیشیاءمیں ایک سال کیلئے عارضی ملازمین بھرتی کرنے اور انہیں کسی قسم کی قانونی مراعات نہ دینے کیخلاف احتجاج کرنا اور حکومت سے محنت کشوں کے تمام قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کرنا تھا ۔ اس وقت انڈو نیشیاءمیں لیبر قوانین کے برعکس کنٹریکٹ کی بنیاد پر عارضی ملازمین دی جا رہی ہیں جن میں محنت کشوں کو قانونی مراعات سے محروم رکھا جارہاہے ۔ اس کے علاوہ بھی محنت کشوں کی اُجرتوں اور الاﺅنسز میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عدالت پہلے ہی ٹھیکیداری نظام کو لیبر قوانین ، محنت کشوں کے حقوق کے منافی اور غیر آئینی قرار دے چکی ہے ۔ پولیس ترجمان نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ بدھ کے روز 80انڈسٹریل سٹیٹس کی 700کمپنیوں کے لاکھوں کارکن ہڑتال پر ہیں ، کم و بیش تئیس ہزار افراد دارالحکومت جکارتہ کی طرف مارچ کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کے پیشِ نظر پندرہ ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جائے ۔ ابھی تک حکومت کی جانب سے محنت کشوں سے مذاکرات کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ 

مزید : بین الاقوامی