دوستی و ترقی کا سفر... کیانی ماسکو، روسی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے

دوستی و ترقی کا سفر... کیانی ماسکو، روسی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے
دوستی و ترقی کا سفر... کیانی ماسکو، روسی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لووروف دو روزہ اہم دورے پر اسلام آباد جبکہ پاکستان کے آرمی چیف روس پہنچ گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق روسی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ سرگئی لاروف اپنے دورے کے موقع پر پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے ملاقات میں انسداد منشیات، دہشت گردی، معاشی تعاون اور افغانستان کے معاملے پر مذاکرات کریں گے۔ روس کے وزیر خارجہ دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقاتیں کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی اہم دورے پر روس پہنچ گئے ہیں۔ آرمی چیف کی روس آمد کے موقع پر روسی فوج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف نے جنرل کیانی کا استقبال کیا اور روسی فوج کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی دورے کے دوران روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور روس کے ملٹری چیف سے ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان اور روس میں دفاعی و تجارتی معاہدوں میں اہم پیش رفت کا امکان ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق سیاسی اور فوجی قیادت سے ان کی ملاقاتیں اس دورے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ پاک روس آرمی چیفس کے مذاکرات میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو وسیع کرنے پر بات چیت ہوگی۔ جنرل اشفاق کیانی کو روسی مسلح افواج اور دفاع کی حساس تنصیبات کے دورے بھی کرائے جائیں گے۔ کسی پاکستانی آرمی چیف کے اس پہلے دورہ روس کو دونوں ممالک کے دفاع تعاون میں بریک تھرو بھی تصور کیا جا رہا ہے اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ یہ پاک روس تعلقات کے نئے دور کا باعث بن سکتا ہے۔ جنرل اشفاق کیانی کے دورہ میں دو طرفہ تعاون کے ساتھ علاقائی تناظر اور نئی عالمی جہتوں میں بھی تعاون فروغ پائے گا۔ دونوں ملک دفاع شعبے کے ساتھ مواصلات کے شعبے میں تعاون بڑھانے جارہے ہیں اور یہ دونوں ، عالمی دہشت گردی کیخلاف بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔روس کے وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکام سے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو فعال کرنے اور افغانستان کے حالات معمول پر لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔روسی میڈیا کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر بہت توجہ دے رہا ہے جس میں تجارت اور توانائی کے سلسلے میں تعاون بھی شامل ہے۔سرگئی لاوروو کے دورے کی اہمیت 2014 میں افغانستان سے غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلاءکے تناظر میں بہت زیادہ ہے ۔ روس نےطے شدہ مدت کے بعد بھی افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی حکومت بھی امریکہ کے افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کئے جانے والے طریقوں سے مطمئن نہیں ہے جبکہ ماضی میں فروغ پانے والے طالبان کی فعالیت بھی باعثِ تشویش ہے۔ ان تمام مسائل پر اس دورے کے دوران غور کیا جائے گا۔روسی وزیر خارجہ کا اہم ترین منتظر معاملہ مشترکہ موثر منصوبہ جات ہیں۔ روسی م سیاسی ماہر پیوتر توپچکانوو کا کہنا ہے کہ،" حقیقی معاہدہ جات اور حقیقی رقوم کی خاطر قدم آگے بڑھانے چاہئیں۔ اسی طرح سے ہی روس اور پاکستان میں شفاف تعلقات کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں صرف روس اور پاکستان کی کمپنیوں کی دلچسپی اور اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہی ضرورت نہیں بلکہ، خطے اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کی شراکت بھی ضروری ہے۔ بلاشبہ روس اور پاکستان کے لیے دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، انتہا پسندی کے خلاف لڑائی سمیت سلامتی کے معاملات اور کلی طور پر اسی حوالے سے ہمسایہ ملکوں کی قابل قیاس پالیسیوں اور شفافیت کا بھی بہت حصہ ہے۔" ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے پیچیدہ تعلقات کو معمول پر لانے میں روس اہم مصالحت کار بھی ہو سکتا ہے۔اس طرح روس کو جنوبی ایشیا میں اپنا وقار بلند کرنے کا موقع میسّر آئے گا جس سے اسے مشرق بعید سے لے کر خلیج فارس تک کے علاقے میں توانائی کے وسائل فراہم کرنے میں سہولت ملے گی۔ 

مزید : اسلام آباد