لو ’کافر ‘ پھر آگئے ۔۔۔

لو ’کافر ‘ پھر آگئے ۔۔۔
 لو ’کافر ‘ پھر آگئے ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گلوبل پنڈ(محمد نواز طاہر)صبح کا وقت ،تندور پر رش اور نان لینے کی جلدی ۔۔ یہ بڑا سہانا اور کربناک منظر تھا۔ سہانا اسلئے کہ اس نے بچپن یاد کرادیا کربناک اس لئے کہ گیس نہ ہونے کی وجہ سے چولہا ٹھنڈا، بچے سکول سے لیٹ ہورہے تھے۔ پورے علاقے میں صرف ایک ہی تندور ایسا ہے جو آثارِ قدیمہ کی طرح ان دنوں سب کی توجہ کا مرکز ہے۔ جہاں آج بھی لکڑی جلانے کی وجہ محکمہ گیس کی ’مہربانی ‘ہے۔جب اس ’بابے‘ کے پاس سفارش اور رشوت ہی نہیں تو گیس کا کنکشن کیسے لگتا؟ ۔ پون گھنٹے بعد نان لیتے ہوئے میں محکمہ گیس والوں کا شکریہ ادا کر رہا تھا کہ اگر یہ تندور بھی گیس پرہوتا تو بچے سکول کیسے جاتے ؟ تندور سے گھر واپس آنے تک مجھے چالیس سال پہلے کی وہ لیٹ یاد آگئی جب میں اور میرے جیسے کئی دوسرے معمارِ وطن دیر سے نان ملنے کا بہانہ بنا کر’ یسوُ پنجوُ‘جیسے کسی نہ کسی کھیل کی ایک آدھ باری لگایا کرتے تھے اور واپسی پر گھر سے’ کلاس‘ کرایا کرتے تھے۔  جب روس نے سٹیل ملز لگائی اور پاکستان میں جنگیں لگیں تو کئی دشمن سامنے آگئے۔ کئی دوست ننگے ہوگئے ۔۔۔اس زمانے میں پاکستان کیلئے امریکہ کابحری بیڑا بھی چلا جو اس قدر’ برق رفتار‘ تھا کہ پرویز مشرف کے دور میں لنگر انداز ہوا ۔ اس کا مشن یہ تھا کہ پاکستان اگر افغانستان پر امریکی اتحادی حملوں کے معاملے میں تعاون سے ’ہینکی پھینکی‘ کرے تو اسے سبق سکھایا جاسکے۔ یہ امریکہ دوستی کی پہلی مثال نہیں،امریکہ ہمارا گہرا دوست ہے جس نے ہر زمانے میں ’ترقی‘ میں ہماری مدد کی۔ جہاں بچے غلیل سے کھیلتے تھے وہاں سٹین گن اور کلاشنکوف اور پھر راکٹ لانچر بھی کھلونے بن گئے ۔ یہ اس سٹیل ملز کے نہیں بنے تھے جو ایک ’کافر ‘ ملک نے ہماری مدد کیلئے لگائی تھی۔ دوست اور خیر خواہ ِاسلام کے انتہائی ہمدرد اور مبلغ امریکہ کی جانب سے ناظمینِ صلوٰاة کے ذریعے ہمیں یہ باور کرایا گیا یہ ’کافر‘ روس افغانستان میں ’اسلام ‘ پر حملہ آور ہوگیا ہے جس کیخلاف جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تب امریکہ کو خوف تھا کہ اسلامی ملک افغانستان اور ’اسلام ‘ شدید خطرے سے دوچار ہے اورایک’ کافر‘ ملک روس سے ’ اسلام ‘کاتحفظ اس کی ’مذہبی و اخلاقی ذمہ داری ‘ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے موجودہ دور میں دہشت گردی کیخلاف جنگ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے جبکہ اس کا ٹارگٹ اس کی اپنی ’جہادی ‘پیداوار ہے ۔امریکی دوستی اور اس کی بنیاد پر افغان جہاد نے ہمیں بہت کچھ دیا ، غربت میں ترقی ، اقوامِ عالم کی نظر میں دہشت گردی کی پہچان، قومی صنعتی ترقیِ معکوس میں ترقی، اخلاقی گراوٹ، امن پسند مسلمان بھائیوں میں جانی دشمنیاں، پاکستان سے محبت کے بجائے نفرت کے بیج ۔۔۔

توانائی کے بحران کا وقت آیا تو ایک بار پھر امریکی بحری بیڑا’مدد ‘کیلئے تیار ہو گیا تاکہ روسی ریاستوں اور ‘اسلام دشمن‘ ایران کے راستے ’غیر اسلامی و کافرانہ ‘ گیس پاک سر زمین کو آلودہ نہ کرسکے ۔ایسے ایسے ’جہادی ‘ ہتھکنڈے استعمال کئے گئے کہ پائپ لائن تو نہ بن سکی البتہ جگہ جگہ قدیم تندوروں پر ہماری لائن لگ گئی۔ پاک، چین دوستی دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔اسی تعصاب کی عینک کے بغیر دیکھنے والے تسلیم کرتے ہیں کہ روس بھی ہمارا حقیقی دوست ہے ورنہ سٹیل ملز کو جس جس طرح سے جونکیں لگیں ،اب تک تو اس کا نشان مٹ چکا ہوتا ۔۔۔ اب پھر پاکستان اور روس کا تعاون بڑھ رہا ہے اور روس پھر سے ’کافرانہ ‘ انداز میں ہمارے ساتھ خدا ترسی کر رہا ہے جس نے توانائی اور دفاعی شعبے میں پاکستان کے ساتھ پرانا ’حساب ‘ نظر نداز کرکے ایک قدم آگے بڑھایا ہے لیکن امریکہ کی ڈکشنری میں یہ ’خداترسی ‘ بھی دہشت گردی ہے کیونکہ خدا ترسی کی تلقین ہمارا مذہب کرتا ہے ۔  نان لیکر گھر پہنچنے تک ماضی حال اور مستقبل سارے زمانے دماغ کو ’گھما‘ چکے تھے ۔اس وقت تک پاکستان کے آرمی چیف روس پہنچ اور روسی وزیر خارجہ پاکستان کیلئے اڑان بھر چکے تھے اور باقی حالات سے کچھ آگاہی ذہن میں تھی جس سے مجھے یہ یقین ہوگیا تھا کہ جب پاکستان کے آرمی چیف روس سے واپس آئیں گے اور روسی حکام کا پاکستان کا دورہ کامیاب ہو چکا ہو گا تو میں بھی یہ تعین کر سکوں گاکہ کتنے عرصے کے بعد بابے کے تندور کو گیس کا کنکشن ملے گا۔۔بند صنعتوں کی رونق بحال ہوگی ۔۔اور۔۔گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے سے بچ سکیں گے ۔۔۔۔

مزید : بلاگ